0

اپوزیشن کے آپشنز

اپوزیشن جماعتوں میں ایک طبقہ انتہا پسند قدم اٹھانے کے حق میں ہے اور چاہتا ہے کہ پوری اپوزیشن اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے موجودہ حکومتی سیٹ اپ کی ناجائزیت عیاں ہو جائے گی اور نئے انتخابات کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس طبقہ فکر کے سرخیل مولانا فضل الرحمٰن ہیں اور وہ شدومد سے اس بات کے داعی ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت سے نجات حاصل کرنے کا یہی واحد حل ہے۔مولانا نے دیگر اپوزیشن لیڈروں سے شکائت کی ہے کہ انہوں نے اسلام آباد سے اپنا گزشتہ برس کا دھرنا اس گارنٹی پر ختم کیا تھا۔

ان کا خیال ہے کہ ان سے دھوکہ ہوا ہے اور اب وہ حساب برابر کرکے رہیں گے۔

اسی طرح اپوزیشن جماعتوں میں ایک اور طبقے کا کہنا ہے کہ حکومت کی فرینڈلی اپوزیشن سے انہیں دھیلے کا فائدہ نہیں ہوا اور اب وقت آگیا ہے کہ گاڑی کو ٹاپ گیئر میں ڈال دیا جائے۔ ایسے لوگ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی صفوں میں بکھرے ہوئے ہیں اور درون خانہ مجلسوں میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں کہ اے پی سی کو عوامی جلسوں اور ریلیوں کا اعلان کیا جائے تاکہ ایسا شوروغوغا پیدا ہو سکے کہ جس سے حالات میں گرما گرمی کا تاثر ابھر آئے۔ ان کا ماننا ہے کہ اپوزیشن کو کراچی، لاہور، پشاور اور چند دیگر بڑ ے شہروں میں عوامی اجتماعات منعقد کرنے چاہئے تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔ ایسا بڑے بڑے ہجوم اکٹھے کرکے کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اپوزیشن کی پوری قیادت ایک ہی وقت میں سٹیج پر جلسہ افروز ہو اور حکومت کے خلاف ایک پیج پر ہونے کا تاثر دے۔ ان کے خیال میں انہیں کوئی افراتفری یا سماجی بے چینی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے سپورٹروں کو متحرک کرنے کے لئے احتجاجوں کے اہتمام کی ضرورت ہے اور اس کے بجائے صرف انکار کی ایک فضا بنانے کی ضرورت ہے جو حکومت کو ردعمل دینے پر مجبور کردے۔اس طبقے کے مطابق اس کے بعد اپوزیشن کی مذاکراتی پوزیشن مستحکم ہو جائے گی۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن جماعتوں کو یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ اگر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ جیل بھرو تحریک کا اعلان کردیں گے اور ان کی جماعت جیلیں اور عدالتی احاطے ایسے بھردے گی کہ وہاں تل دھرنے کو جگہ نہ بچے گی!

ایک تیسرا طبقہ سمجھتا ہے کہ حالات ابھی کسی جارحیت سے بھرپور تحریک کے لئے موافق نہیں ہیں اور بہتر ہے کہ اپوزیشن اپنے آپ کو پارلیمنٹ اور پریس کانفرنسوں تک محدود رکھے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ  مقتدرقوتیں ابھی حکومت کی ساجھے دار ہے اس لئے ریلیاں، احتجاج یا حتیٰ کہ استعفے بھی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہ لاسکیں گے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ مقتدرقوتوں کے ساتھ تعمیر ی سوچ کے ساتھ معاملہ بندی کی جائے تاکہ پارلیمانی حقیقتوں کو دوبارہ سے ارینج کیا جاسکے۔ یہ الگ بات کہ گزشتہ دو برسوں میں ایسی حکمت عملی کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود کوششوں کو ترک کرنا ابھی بھی جلدی کا کام ہوگا۔ اس کی بجائے یہ وقت ان کوششوں کو دوبالا کردینے کا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی بید گورننس کا بوجھ سسٹم پر بڑھتا جا رہا ہے۔

چوتھا طبقہ وہ ہے جسے کوئی جلدی نہیں ہے۔ وہ پی ٹی آئی حکومت سے نجات کا خواہاں نہیں ہے تاآنکہ ملک میں نظام کو چلانے کے حوالے سے کسی نئے لائحہ عمل پر اتفاق رائے نہ پیدا ہو جائے۔ ایسے افراد کی اکثریت نون لیگ میں ہے اور ان کی منطق ہے کہ عمران خان کو بھرپور وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنے ہی بوجھ سے جا گرے۔ ان کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنا وقت پورا کرنے دینا چاہئے بجائے اس کے کہ اسے سیاسی شہید بننے کا موقع مل جائے اور یوں وہ ایک مستقل سیاسی حقیقت بن جائیں۔ اس طبقے کا خیال ہے کہ وقت ان کی سائیڈ پر ہے کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ٹی آئی ساکھ کھو رہی ہے اور نون لیگ کا تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اس مکتبہ فکر کے مطابق نون لیگ کو نئے رولز آف گیم کے تحت اقتدار میں واپس آنا چاہئے جن کو آسانی سے توڑا نہ جا سکے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ نظام حکومت کے تحت ملک زیادہ دیر نہیں چل سکتااس لئے بہتر ہے کہ اصولوں پر سمجھوتا کرنے کی بجائے انتظار کیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن اس مختلف الخیالی کو یک جا کرپائے گی اور اے پی سی میں سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل لے کر باہر آسکے گی جو عوام کو منزل تک پہنچنے کے لئے ایک نئی راہ کا پتہ دے!

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں