Home » اپوزیشن کو سکھوں کی تقلید کرنی چاہیے!

اپوزیشن کو سکھوں کی تقلید کرنی چاہیے!

by ONENEWS

اپوزیشن کو سکھوں کی تقلید کرنی چاہیے!

ایک خیمہ سا دکھائی دے رہا ہے جس کے اوپر بارش سے بھیگی ایک ترپال پڑی ہوئی ہے۔ خیمے کے اندر نصف درجن معمر خواتین ایک قدیم طرز کے چولہے پر روٹیاں پکا رہی ہیں۔ چولہے میں لکڑیاں جل رہی ہیں۔ دو خواتین گوندھے ہوئے آٹے سے پیڑے بنا رہی ہیں، دو چپاتیاں گھڑ رہی ہیں جن سے تالی بجنے کی سی آوازیں پیدا ہو رہی ہیں اور باقی ایک بڑے سے توے پر روٹیاں اُتھل پُتھل رہی ہیں، یہ سلسلہ صبح سویرے شروع ہوتا اور سورج جب دہلی کے مغرب میں غروب ہوتا نظر آتا ہے تو اس وقت تک یہ ایکسرسائز شروع رہتی ہے۔ لوگ (مظاہرین) خیمے کے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک طرف بڑی دیگ میں اُبلے ہوئے چاول بھرے ہیں اور دوسری میں دال رکھی ہے۔ پاس ہی خوشبودار دہی کے کونڈے سے دال چاولوں کے اوپر دہی ڈال کر آنے والوں کی خاطر تواضع کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف سڑک کے پار ایک قوی الجثّہ سکھ بیٹھا ہے جس کا نام جگجیت سنگھ ہے۔ سر پر قرمزی رنگ کی پگڑی بندھی ہوئی ہے۔ اس کے سامنے دودھ کا ایک دیگچہ دھرا ہے۔ وہ ایک پلیئے سے گرم گرم دودھ کو پھینٹ رہا ہے۔ ساتھ ہی کافی کا پتیلا رکھا ہوا ہے جس میں کھانڈ ملی کافی کے گلاس جگجیت کے سامنے آتے جاتے ہیں اور وہ ان میں دودھ ملاکر خیمے سے باہر نکلنے والوں کو پکڑاتا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ صبح پانچ بجے شروع ہوتا ہے اور شام تک جاری رہتا ہے…… شام ڈھلتی ہے تو یہ سکھ گرم دودھ میں ہلدی اور لونگ کا ملیدہ مکس کرتا ہے۔ یہ دودھ دن بھر کے تھکے ماندے اور سردی سے ٹھٹھرتے احتجاج کندگان کو پھر سے تازہ دم کر دیتا ہے۔ اس ایک شامیانے میں 250گیلن دودھ روزانہ کی کھپت ہے۔ جگجیت سنگھ جب کافی بنا رہا ہوتا ہے تو گلاس سے نکلتے دھوئیں کو سونگھ کر چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتا ہے اور اونچی آواز سے کہتا ہے: ”اس کی خوشبو تو ہیلی کاپٹر میں بیٹھے لوگوں کو بھی آ رہی ہو گی! واہ گورو کی جے!“

نزدیک ہی موسیقی کا شور برپا ہے۔ ہمت بندھانے والے لوک گیت سنائے اور بجائے جا رہے ہیں۔ بجلی کے قمقموں کی روشنی میں اندرونِ خانہ گیموں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاپڑ بسکٹ، سموسے اور چپس مفت تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ گرم زیر جامے بانٹے جا رہے ہیں، بادام روغن کی بوتلیں مفت تقسیم کی جا رہی ہیں ……یہ اپنی طرز کا انوکھا احتجاج ہے جسے عشروں سے کسی ہندوستانی نے نہیں دیکھا۔ سردی غضب کی ہے اور بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جو کبھی تھم جاتا ہے اور پھر شروع ہو جاتا ہے۔ انڈین میڈیا کے مطابق درجنوں لوگ (احتجاج کنندگان) سردی، بیماری اور خودکشی کی نذر ہو چکے ہیں۔

چھ ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے لاکھوں کسانوں نے دارالحکومت کے چاروں انٹری پوائنٹ بند کر رکھے ہیں۔ ڈیڑھ ماہ سے آمد و رفت کا سلسلہ ختم ہے۔ یہ لوگ وزیراعظم نریندر مودی کو چیلنج کر رہے ہیں جو ملک کی دوسری تمام اپوزیشن کو کرش (Crush)کر چکا ہے اور اپنے راستے سے ہٹا چکا ہے۔ وہ ہندوستان کے اس زراعتی کلچر کو تبدیل کرنے کا مصمم ارادہ کئے ہوئے ہے جو عشروں سے یہاں جاری ہے۔کسانوں کا یہ احتجاج اور اس کے ساتھ دوسرے مظاہرے بھی جاری و ساری ہیں جبکہ ملک کی معیشت کو سخت دشواری اور ’بیماری‘ کا سامنا ہے…… احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ مودی ان قوانین کو منسوخ کر دے جو اس نے حال ہی میں نافذ کئے ہیں اور جن کی رو سے شعبہ ء زراعت میں حکومت کا رول ختم کر دیا جائے گا اور نجی سرمایہ کاروں کی چاندی ہو جائے گی۔ دوسری طرف حکومت دعوے کر رہی ہے کہ نئے قوانین، کسانوں کو نجی سرمایہ کاروں کے چنگل سے نجات دلا دیں گے اور زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بنیں گے۔لیکن کسان اس دلیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار جب حکومت نے زرعی شعبے سے ہاتھ کھینچ لیا تو کسان کارپوریٹ شعبے کے رحم و کرم پر ہوں گے جو ان کی ہڈیاں تک نوچ کھائے گا!

نومبر 2020ء میں یہ احتجاج شروع ہوا تھا۔ اس میں ایک 18سالہ نوجوان اجے ویر سنگھ بھی شامل ہے جس کا 67سالہ دادا بھی اس کے ساتھ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مودی اور اس کی حکومت نے ملک کی ہرچیز بیچ ڈالی ہے۔ اب ہم کسان بچ گئے ہیں اور یہ مودی اب ہمیں بھی اپنے کارپوریٹ دوستوں کے ہاتھ فروخت کرنے پر تُلا ہوا ہے۔

دو روز پہلے (منگل وار) انڈیا کی سپریم کورٹ نے حکومتی قوانین کو تاحکمِ ثانی معطل کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس بحران کے حل کی کوئی صورت نکالے گی۔

دہلی سے 25میل کے فاصلے پر سنگھو (Singhu) نام کا ایک گاؤں ہے جس میں جگجیت سنگھ نے کیمپ لگایا ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مظاہرین میں تکان یا تھکاوٹ کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے…… بارشیں بھی ہو رہی ہیں اور رم جھم بھی جاری ہے۔ درجہء حرارت بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ کیمپ کے آس پاس پانی کے جوہڑ بن گئے ہیں لیکن مظاہرین ان جوہڑوں سے پانی نکال کر انہیں خشک کر رہے ہیں اور نوجوان زیادہ عمر والے لوگوں کو خشک جگہوں پر بیٹھنے اور دھرنا دینے کا موقع دے رہے ہیں۔ رات ہوتی ہے تو یہ لوگ اپنے ٹرکوں اور ٹریکٹروں کے پچھواڑے میں پردے تان کر آرام کرتے ہیں …… ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

مظاہرین نے 10میل کا ایک قطعہ ء زمین ہائی وے پر منتخب کرکے اسی کو ایک منظم گاؤں کی شکل میں تبدیل کر دیا ہے۔ مظاہرین میں اکثریت سکھوں کی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ کشٹ اور کٹھنایاں ان کے دھرم کا حصہ ہیں، یہ ان کی روایات ہیں کہ وہ ان تکلیفوں کو زندہ دلی سے برداشت کرتے ہیں۔ ان مظاہرین کی تعداد 50000ہے۔ انہوں نے اپنا ایک ’گردشی نظام‘ (Rotation Systom) بھی وضع کر رکھا ہے جو ان کی تعداد کو سکڑنے اور کم ہونے نہیں دیتا۔ جب ایک گروہ کچھ تھکن محسوس کرتا ہے تو اس کی جگہ گاؤں کا ایک تازہ دم دستہ آ جاتا ہے۔ اجے ویر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کا گاؤں پنجاب کے ضلع فرید کوٹ میں واقع ہے جہاں سے 5000مظاہرین حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں 1000خواتین بھی شامل ہیں۔ نوجوان اجے ویر سنگھ سے سوال کیا گیا کہ کیا اس کا دادا کمزور یا کورونا سے بیمار نہیں ہوا؟ تو وہ مسکرا دیا اور کہا: ”دادا جی کورونا سے نہیں ڈرتے۔ وہ ہمارے مستقبل سے ڈرتے ہیں“۔

انڈیا کی آبادی ایک ارب 30کروڑ افراد پر مشتمل ہے جس میں 60فیصد کی گزر اوقات کھیتی باڑی پر ہے۔ کئی برسوں سے ملک کے کسان دیوالیہ ہو رہے ہیں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسانوں میں خودکشیوں کا تناسب روز بروز  زیادہ ہو رہا ہے۔ مودی 2024ء تک ملک کی اکانومی کو ڈبل کرنا چاہتا ہے۔ اس کی نظر میں زراعت کے شعبے کا رول معیشت کو ڈبل کرنے میں کسی زیادہ اہمیت کا حامل نہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی غربت کے باوجود حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نرخوں پر اپنی پیداوار فروخت کرکے کسی نہ کسی طرح جیون کی گاڑی کھینچ رہے ہیں۔ نئے قوانین کا نفاذ نجی کمپنیوں اور کارپوریشنوں کو زراعتی شعبے کا اجارہ دار بنا دے گا اور ان کی زندگی کا سہارا ان سے چھین لے گا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اب تک ان کے 60،70 لوگ لقمہ ء اجل بن چکے ہیں۔ ایک اور سکھ جس کی عمر  48 سال ہے اور جس کا نام ہر چندرسنگھ ہے اور جس کی 9 پشتیں اسی پیشے سے وابستہ چلی آ رہی ہیں، اس سے صورتِ حال پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا توا س نے جواب دیا: ”میں مودی کو صرف تین الفاظ یاد دلاتا ہوں …… بھگوان سے ڈرو!“

(انگریزی سے ترجمہ ”دی نیویارک ٹائمز“ مورخہ 13جنوری 2021ء)

……………………

قارئین گرامی! میں نے سطور بالا میں ایک انگریزی روزنامے کی 13جنوری کی اشاعت میں چھپی صفحہ اول کی ایک خبر کا اردو ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔ اس پر تبصرہ اور تجزیہ آپ خود کر سکتے ہیں۔ اخباری خبر کے رپورٹرز کے نام مجیب مشعل اور کرن دیپ سنگھ ہیں۔

اس خبر پر میرا تبصرہ یہ ہے کہ ہمارے پاکستان کی گیارہ (یا دس) اپوزیشن پارٹیاں مل کر حکومت کے خلاف کئی ہفتوں سے جلسے اور ریلیاں نکال رہی ہیں جن کا ”حشر“ آپ کے سامنے ہے۔ اب اپوزیشن فرما رہی ہے کہ فروری یا مارچ میں اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کر دیا جائے گا۔ ہماری اپوزیشن کو کم از کم انڈیا کے کسانوں ہی سے کیو (Cue) لینی چاہیے۔ ہندوستانی سکھوں نے بتا دیا ہے کہ احتجاج کیا ہوتا ہے، دھرنا کیا ہوتا ہے اور مظاہرہ کیا چیز ہے۔ کیا ہندوستانی سکھوں نے یہ احتجاج کرکے پاکستانی اپوزیشن کے منہ پر ایک بھرپور طمانچہ نہیں مار دیا؟ یہ لوگ تو ہمارے ہمسائے سے بھی گئے گزرے نکلے۔ ہندوستانی پنجاب اور ہریانہ کے سکھ اگر گزشتہ سات ہفتوں سے ڈٹے ہوئے ہیں تو ہماری اپوزیشن کیا جھک مار رہی ہے؟…… میں سمجھتا ہوں ہماری اپوزیشن پارٹیاں صرف ایکٹنگ کرتی ہیں۔ سلطان راہی والے مکالمے بولتی ہیں، گنڈا سے لہراتی ہیں اور عوام کو ٹھٹھرتی سردی میں خوار کرکے واپس اپنے کاخ وایوان کا رخ کرتی ہیں۔ اگر یہ سیاسی پارٹیاں صدقِ دل سے اپوزیشن کرنا چاہتی ہیں تو ایکٹنگ کے لچھن چھوڑیں اور سکھوں اور سکھنیوں کی تقلید کریں …… بھگواں بھلی کرے گا!…… خواہ مخواہ کے بھاشن دینا چھوڑیں اور مولانا حالی کو یاد کریں:

ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی

دل چاہتا نہ ہو تو دعا میں اثر کہاں

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment