Home » اپوزیشن والے عمران خان کو ڈھونڈتا ہوں

اپوزیشن والے عمران خان کو ڈھونڈتا ہوں

by ONENEWS

اپوزیشن والے عمران خان کو ڈھونڈتا ہوں

پس حالیہ صورتِ حال سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ اقتدار پھولوں کی نہیں، کانٹوں کی سیج ہے، اس سیج پر بیٹھنے سے پہلے اور بیٹھنے کے بعد کی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ آج ٹی وی چینلز وزیراعظم عمران خان کی 2012ء اور 2013ء کی تقریریں دکھا کر انہیں  یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اسی ہزارہ کمیونٹی کو تسلی دینے کے لئے اس وقت کوئٹہ گئے تھے، جب انہوں نے اپنے پیاروں کے جنازے حکمرانوں کے انتظار میں سڑک پر رکھے ہوئے تھے، اس وقت عمران خان حکومتِ وقت کو چیخ چیخ کر غیرت دلا رہے تھے کہ وہ دلاسے اور انصاف دلانے کی یقین دہانی کے لئے کوئٹہ جائیں۔ ہزارہ قبیلے کے افراد کو یہ یقین بھی دلاتے رہے کہ اقتدار میں آنے کے صرف ایک ماہ بعد انہیں ایسا تحفظ دیں گے کہ کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکے گا، لیکن آج کی صورتِ حال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کرداروں نے اپنی جگہ تبدیل کر لی ہے،جس طرح اقتدار میں رہنے والے اپوزیشن اور اپوزیشن میں بیٹھنے والے آج اقتدار میں ہیں، اسی طرح اپوزیشن دھرنا دینے والوں کے پاس کوئٹہ حاضری دے آئی ہے اور آج کے اقتدار والے اگر مگر سے کام لے رہے ہیں۔ کل تک نواز شریف اور آصف زرداری عمران خان کو کہتے تھے کہ وہ لاشوں پر سیاست کر رہے ہیں اور آج مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کو یہ الزام دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کوئٹہ جا کر لاشوں پر سیاست چمکانے کی کوشش کی اور دھرنا ختم کرانے کی بجائے جلتی پر تیل ڈالا۔

پاکستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ اپوزیشن میں رہ کر بلند بانگ دعوے اور زمین آسمان کے قلابے ملانے والے اقتدار میں آکر ٹھس ہو گئے۔ یہ تو ہر دور میں ہوتا رہا ہے، حتیٰ کہ وہ آمر حکمران بھی جو اقتدار پر زبردستی قابض ہوئے، اپنی پہلی تقریر کی لاج نہ رکھ سکے اور ان کے دعوے بھی صرف دعوے ہی ثابت ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا دعویٰ کیا، مگر اقتدار میں آکر انہیں معلوم ہوا کہ یہ کام آسان نہیں۔ بے نظیر بھٹو، نوازشریف اور آصف زرداری بھی اقتدار میں آئے تو ان کے وہ تمام دعوے ہوا ہو گئے جو انہوں نے عوام کے ساتھ اقتدار سے باہر رہ کر کئے تھے۔ اپوزیشن میں بیٹھ کر عوام کو کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ چھوٹا سا واقعہ بھی ہو جائے تو تان اس جملے پر ٹوٹتی ہے کہ حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی، اس لئے مستعفی ہو جائے۔ کہا جاتا ہے جو اپوزیشن میں رہ کر جتنے زیادہ سبز باغ دکھائے، اتنا ہی اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک بار کامیابی حاصل ہو جائے تو پھر تمام وعدوں کو بھلانے میں دیر نہیں لگتی۔ یہ رویہ اوپر سے لے کر صوبائی اسمبلی کے رکن تک نیچے آتا ہے اور عوام سے کئے گئے وعدے اقتدار میں آتے ہی پہلی فرصت میں بھلا دیئے جاتے ہیں۔

سیاستدانوں کے لئے مشکل اب یہ آن پڑی ہے کہ پہلے لوگ ان کی کہی ہوئی بات بھول جاتے تھے، یا وہ خود بھی اس سے مکرنے میں دیر نہیں لگاتے تھے، مگر اب یہ سب کچھ کیمرے کی آنکھ سے ایک چلتی پھرتی تصویر میں منتقل ہو جاتا ہے، جس میں آواز بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اب آسیب بن کر پیچھا کرتا ہے اور جو کوئی بھی اپنے کہنے سے مکرنا چاہتا ہے، اسے اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ اپنی بولتی تصویر کے ساتھ سننے پڑتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان یہ بھانپ گئے تھے کہ اقتدار میں آکر وہ ان وعدوں کی تکمیل نہیں کر سکتے جو انہوں نے اپوزیشن میں رہ کر عوام سے کئے، وہ تو اپنے انٹرویو میں یہ تک تسلیم کر چکے ہیں کہ حکومت میں آکر انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو دنیا ہی اور ہے، جسے سمجھنے کے لئے پوری تیاری کی ضرورت ہے۔ وہ پاکستانی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بن گئے، جنہوں نے اپنے وعدوں کا دفاع کرنے کی بجائے یہ تھیوری متعارف کرائی کہ یوٹرن کامیابی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ کہنے کے بعد انہوں نے دھڑا دھڑ یوٹرن لئے اور الیکشن مہم میں کئے گئے اپنے وعدوں پر خط تنسیخ پھیرتے چلے گئے۔ اب سانحہ مچھ کے بعد ان پر ماضی کے وڈیوز دکھا کر تنقید کی جا رہی ہے کہ جن باتوں پر وہ اس وقت کے حکمرانوں پر تنقید کرتے تھے، آج خود ان کا ارتکاب کررہے ہیں۔ اس وقت کہتے تھے کہ وہ مظلوموں کی دادرسی کے لئے کوئٹہ کیوں نہیں جاتے۔ آج وہ خود کوئٹہ نہیں گئے تو ٹی وی چینلز انہیں یہی جملے یاد کرا رہے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ پاکستان میں ایک ہی شخص دو مختلف آرا رکھ سکتا ہے، ایک اپوزیشن میں رہ کر اور دوسری اپوزیشن سے اقتدار میں آکر، بھلے یہ تضاد ہو مگر پاکستان میں اسے نظریہء ضرورت سمجھا جاتا اور کوئی حجاب بھی محسوس نہیں ہوتا۔ مریم نواز سانحہ مچھ کے خلاف دھرنا دینے والوں کے پاس کوئٹہ گئیں تو انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ میں آپ لوگوں کے لئے کچھ کر نہیں سکتی، کیونکہ ہماری جماعت اقتدار میں نہیں۔ بس یہ اقتدار میں ہونے یا نہ ہونے کا فرق ہی ہے جو پورا منظرنامہ تبدیل کر دیتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں ہوتی اور ایسا واقعہ پیش آتا تو شاید وہ مجبوریاں اس کے بھی آڑے آ جاتیں، جن کا آج تحریک انصاف کی قیادت کو سامنا ہے۔ اپوزیشن میں رہ کر لفظوں کے استعمال پر اتنی قدغنیں نہیں ہوتیں، جتنی صاحبِ اقتدار کو درپیش ہوتی ہیں۔ وقت کے حکمران کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے، اپوزیشن میں کوئی بھی جو کہنا چاہے، کہہ سکتا ہے۔ کسی شاعر نے کہا تھا:

جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے

جس طرح ایک آزادی سے گھومنے والا شخص اقتدار میں آتے ہی سیکیورٹی کے حصار میں آ جاتا ہے اور اپنی مرضی سے کہیں آ جا بھی نہیں سکتا، اسی طرح اس کے آزادی کی حالت میں کئے گئے فیصلے اقتدار کی غلام گردشوں میں آتے ہی ریاست، آئین اور اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اپوزیشن کے عمران خان اور آج کے عمران خان میں یہی فرق ہے، مگر ہم سب اسی عمران خان کو ڈھونڈ رہے ہیں جو اب کہیں دستیاب نہیں ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment