Home » آرٹیکل63 اے کااطلاق سینیٹ انتحابات پرنہیں ہوتا،جسٹس گلزار

آرٹیکل63 اے کااطلاق سینیٹ انتحابات پرنہیں ہوتا،جسٹس گلزار

by ONENEWS

Senate Elections 2021

فائل فوٹو

سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینیٹ انتحابات پر نہیں ہوتا، آرٹیکل 59 سینیٹ سے متعلق ہے، اس میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکر نہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے میثاق جہموریت میں ہارس ٹریڈنگ کو تسلیم کیا۔ بادی النظر میں کوئی ثبوت ہو تو ووٹوں کا جائزہ لینے کا اختیار ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ میں 18 فروری کو سینیٹ انتخابات 2021 کو اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں سینیٹ انتخابات 2018 کی الیکشن کمیشن دستاویزات ملی ہیں۔ کیا سینیٹ انتحابات 2021 کے لیے کوئی ہدایت نامہ تیار ہوا۔ جس پر الیکشن کمیشن نے بتایا کہ جو دستاویز آپ کے پاس ہے وہ ووٹرز کیلئے ہدایت نامہ ہے۔ سینیٹ انتحابات 2021 کیلئے ہدایت نامہ ابھی جاری کرنا ہے۔ جس پر عدالت نے الیکشن کمیشن سے ووٹرز کیلئے نیا ہدایت نامہ طلب کرلیا۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ 2018 کی دستاویز عدالت کو کیوں نہیں دی گئی؟۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے دلائل کا آغاز کیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ ہدایت نامے میں متناسب نمائندگی اور خفیہ ووٹنگ کا ذکر ہے۔ سینیٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا عمل خفیہ ہونا چاہیے۔ ووٹ ڈالنے کے بعد ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا۔ جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینیٹ انتحابات پر نہیں ہوتا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر کوئی سزا نہیں۔ جس نے پارٹی کےخلاف ووٹ دینا ہے کھل کر دے۔ سزا صرف ووٹوں کی خریدوفروخت پر ہو سکتی ہے۔

اپنے دلائل میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ قانون ہمیشہ معاشرے کے تجربات سے بنتا ہے۔ کوئی بُرا واقعہ ہو تو ہے اُس کے حوالے سے قانون سازی ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 59 سینیٹ سےمتعلق ہے،اس میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکر نہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ شفافیت کیلئے ہر چیز خفیہ رکھنا لازمی نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ ووٹ ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ بلواسطہ انتحابات میں اراکین پارٹی ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی غیر قانونی طریقے سے مینڈیٹ چوری ہوا۔ آصف زرداری نے اب بھی کہا کہ تمام 10 نشستیں جیتیں گے۔ اصف زرداری کا بیان سیاسی لیکن مینڈیٹ کے برعکس ہے۔ الیکشن کمیشن کا کام کرپشن ہونے سے پہلے اُسے روکنا ہے۔

اس موقع پر جسٹس گلزار نے احمد اویس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمومی گفتگو تو ہوگی اب قانون کی بات کریں۔ آرٹیکل 226 پڑھ کر اِسی دلائل دیں۔ جس پر احمد اویس نے کہا کہ آرٹیکل 226 کے تحت وزیراعظم اور وزرائے اعلٰی کے علاوہ ہر الیکشن خفیہ ہوگا۔ ایڈووکیٹ پنجاب کے جواب پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ آرٹیکل 59 اور 226 کو ملا کر پڑھنا ہوگا۔ خفیہ رائے شماری میں متناسب نمائندگی نہ ہوئی تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

ایڈووکیٹ پنجاب کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے اپنے دلائل شروع کیے اور کہا کہ ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال ہی غیر مناسب ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا وہ اپنے سر پر بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ ہارس ٹریڈنگ کا سب نے سنا ہے کسی کے پاس شواہد نہیں۔ اخباری خبروں اور ویڈیوز تک ہی ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔ جس پر جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ کیا کبھی سینیٹ کا الیکشن چیلنج ہوا۔؟۔جس پر ایڈووکیٹ سندھ نے کہا کہ عدالت کو سیاسی سوالات سے دور رہنا چاہیے۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ آئین بذات خود بھی ایک سیاسی دستاویز ہے۔ آئین کی تشریح کرتے وقت عدالت سیاسی کام ہی کر رہی ہوتی ہے۔ سلمان طالب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام شفاف الیکشن کیلئے انتظامات کرنا ہے۔ پولنگ بوتھ میں نہ رشوت چلتی ہے نہ امیدوار سےکوئی رابطہ ہوتا ہے۔ کیا ووٹر کی شناخت ظاہر ہونا کرپشن کا ثبوت ہے؟۔

جس پر طالب سلمان سے سوال کیا گیا کہ آپ تو کہہ رہے ہیں ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہی نہیں۔ ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے پارلیمان میں بھی قراردادیں منظور ہوتی رہیں۔ اٹارنی جنرل نے قراردادیں بھی عدالت کو فراہم کر دی ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے میثاق جہموریت میں ہارس ٹریڈنگ کو تسلیم کیا۔ آپ کو بطور نمائندہ سندھ حکومت سن رہے ہیں،بطور وکیل پیپلز پارٹی نہیں۔اس پر ایڈووکیٹ سندھ نے کہا کہ عدالت کو پارٹی ڈسپلن کو تحفظ دینے کا کہا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ پارٹی لائن کیخلاف ووٹ سامنے آنے پر الیکشن کمیشن تحقیقات کر سکے گا۔ پیسےکا لین دین نہ ہوا تو بات ہی ختم ہو جائے گی۔ انتحابی عمل میں کرپشن پر استثنٰی نہیں مل سکتا۔ پیسہ چلنے کے شواہد سامنے آئیں تو الیکشن کمیشن کارروائی کرے گا۔ الیکشن کمیشن کے پاس بیلٹ پیپرز سے اچھا ثبوت کوئی نہیں ہو سکتا۔ سب سے پکا ثبوت ہی کمیشن کے پاس نہ ہو تو کیا کاروائی ہوگی۔ بادی النظر میں کوئی ثبوت ہو تو ووٹوں کا جائزہ لینے کا اختیار ہونا چاہیے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پھر کہا کہ رشوت اور ووٹوں کی خرید و فروخت الیکشن ایکٹ کے تحت جرم ہے۔ پیسے کا الزام لگانے والے کو بھی کچھ شواہد دینا ہوں گے۔ صرف ووٹ دیکھنے سے بھی تو جرم ثابت نہیں ہو گا۔ کسی کا ووٹ دیکھنے سے کیسے پتہ چلے گا اُس نے پیسہ لیا۔ الیکشن آئین کے تحت ہی ہوتا ہے، لیکن مخصوص نشستوں پر طریقہ کار مختلف ہے۔

عدالت نے کہا کہ ووٹ کا جائزہ لئے بغیر جرم کیسے ثابت ہو گا؟ صرف رقم کی ادائیگی مسئلہ نہیں وہ کسی بھی مد میں ہو سکتی ہے۔ ووٹ کو خفیہ رکھ کر جرم کی حوصلہ افزائی کرنے والی بات ہے۔ الیکشن کمیشن کو پہلے اطمینان کرنا ہے کہ الیکشن میں گڑ بڑ ہوئی؟۔ کیا مخصوص نشستوں پر ہونے والا الیکشن آئین کے تحت ہوتا ہے۔ مخصوص نشستوں پر خفیہ ووٹنگ نہیں ہوتی سیاسی جماعتیں نامزدگیاں کرتی ہیں۔ مخصوص نشستوں پر ووٹنگ نہیں ہوتی پھر بھی اُسے الیکشن کہا جاتا ہے۔

سندھ کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک میں بھی کرپشن سے منع کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے انتحابی عمل میں کرپشن ہوتی رہی ہے۔ دنیا نےانتحابی عمل سے کرپشن روکنے کیلئے اقدامات کئے۔ نااہل شخص کو اچھےعہدے پر تعینات کرنا بھی ظلم ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں کرپشن کی ویڈیو سامنے اچکی ہے۔ ووٹ کو خفیہ رکھنے کا عمل پولنگ اسٹیشن تک محدود ہے۔ الیکشن کمیشن آج تک شفاف انتحابات نہیں کرا سکا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام اباد کے دلائل بھی مکمل ہونے کے بعد سماعت کو جمعہ تک ملتوی کردیا گیا۔ جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ کل بروز جمعہ 19 فروری کو سماعت ایک گھنٹے کیلئے ہوگی۔

You may also like

Leave a Comment