Home » اوپری ہینڈ کا اصول کون ہے؟

اوپری ہینڈ کا اصول کون ہے؟

by ONENEWS

نواز شریف نے 16 اکتوبر 2020 کو پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت ملک کو جن  چیلنجز کا سامنا ہے وہ مہنگائی کا طوفان اور اشیائے خردونوش میں قلت ہے اور یہ کہ اس کے ذمہ دار موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب ہیں۔ نواز شریف نے ایسا اس لیے کہا کیونکہ بقول ان کے ان کی حکومت کے خاتمے کے لیےجنرل باجوہ نے پہلے عدلیہ پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا فیصلہ لیا اور پھر 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے انہوں نے عمران خان کو اس ملک کے حکمران کے طور پر مسلط کر دیا۔ لہٰذا اگر اس وقت عمران خان وزیراعظم ہیں تو وہ جنرل باجوہ کی وجہ سے ہیں۔ اس وجہ سے عمران خان کے ابھی تک کے 2 سالہ دور حکومت کی وجہ سے ملک جن معاشی مسائل کا سامنا کر رہا ہے اس کے براہ راست ذمہ دار جنرل باجوہ ہیں۔ اور اسی بات  کو انہوں نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی پکار سے جوڑا۔ اس سے ٹھیک ایک مہینہ پہلے 16 ستمبر 2020 کو جب اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس میں بھی نواز شریف نے اس موضوع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ افواج  کو سیاست سے دور رہنا چاہیئے۔ اسی طرح مریم نواز نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فوج نظام کا حصہ ہے لیکن بات چیت کا حصہ نہیں ہے۔ اگر وہ اسکا حصہ بنتے ہیں تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہونگے اور یہ کہ سپریم اتھارٹی پاکستان کے عوام ہیں۔

اسی طرح کے بیانات کے ساتھ ملک میں ایک بحث چل پڑی ہے کہ کیا ملکی معاملات چلانے کے لیے سیاسی قیادت کو بالا دستی حاصل ہونی چاہیے یا فوجی قیادت کو؟ یا پھر یہ کہ ان دونوں کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے جسے ہائی بریڈ نظام حکومت کا نام دیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان صاحب کی حکومت کو ایسی ہی حکومت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ہم یہ دیکھیں گے کہ ان میں سے کونسا نظام حکومت ہے جو زیادہ بہتر ہے اور کیا ان کے علاوہ  بھی کوئی اور نظام حکومت ہے جو ان سب سے بہتر ہے؟

سیاسی قیادت کی بالا دستی کے قائل لوگوں کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کے تحت عوام اپنے نمائندگان چنتے ہیں اور پھر عوامی نمائندگان ہی ریاست کے تمام اداروں کو لوگوں کی مرضی کے مطابق چلانے کو یقینی بناتے ہیں۔ لہذا ریاست میں آخری فیصلے کا اختیار عوامی نمائندوں کے پاس ہی ہونا چاہیے۔ پھر اس لیے بھی کہ چونکہ لوگوں نے ان کو منتخب کیا ہوتا ہے تو وہ لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں جواب دہ بھی ہوتے ہیں جبکہ فوجی قیادت کو لوگ منتخب نہیں کرتے اسی وجہ سے وہ فوجی قیادت لوگوں کو جواب دہ نہیں ہے۔ فوج کے پاس عسکری قیادت ہے اور ان کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے جبکہ سیاسی نظام چلانا سیاسی نمائندوں کا کام ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین طاقت اور اختیار عوام اور عوامی نمائندگان کو دیتا ہے۔ پھر عوام کے اسلامی جذبات کو دیکھتے ہوئے اسلامی تاریخ سے اس واقعے کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس میں خلیفۂ دوئم حضرت عمر فاروق ؓ نے فوج کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ کو ان کے عہدے سے معزول کر دیا تھا۔ اس واقعے کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھا اسلام میں بھی سیاسی بالا دستی کا تصور ہے نہ کہ فوجی بالا دستی کا۔

اسی طرح فوجی بالا دستی کی حمایت کرنے والے لوگ بھی اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں۔ پہلی بات وہ یہ کہتے ہیں کہ سیاسی قیادت لوگوں کو یا دیگر اراکین اسمبلی کو خوش کرنے کے لیے درست فیصلہ نہیں کر پاتی۔ مثال کے طور پر اگر انہیں معلوم بھی ہو کہ کوئی فیصلہ عوام کے مفاد کے مخالف ہوگا لیکن اگر وہ قدم اٹھانے سے عوام یا اراکین اسمبلی ناراض ہو جائیں گے تو وہ محض اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کی خاطر غلط فیصلہ لے لیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاسی قیادت مافیاز کو نوازنے کے لیے بھی قومی مفاد کے منافی فیصلہ کرتی ہے اور وہ اس کے لئے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ چونکہ سیاسی قیادت کو الیکشن لڑنا ہوتا ہے اور الیکشن لڑنے کے لیے بھاری سرمایے کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ مافیاز ہی ہوتے ہیں جو سیاسی جماعتوں کی الیکشن مہم چلانے کے لیے سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے حکومت میں آنے کے بعد ایسے مافیاز کو نوازنا سیاسی قیادت کی مجبوری بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس چونکہ فوجی قیادت کے پاس اپنی طاقت ہوتی ہے وہ اپنی طاقت کسی اور جگہ سے نہیں لے رہی ہوتی تو اس وجہ سے فوجی قیادت کسی مافیا کے دباؤ میں بھی نہیں آتی اور بآسانی ملکی مفاد میں فیصلہ کر پاتے ہیں۔ پھر اس موقف کے حاملین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ فوجی قیادت کو لوگوں نے منتخب نہیں کیا ہوتا تو ان پر لوگوں کا یا اراکین اسمبلی کا کوئی دباؤ نہیں ہوتا، اس وجہ سے فوجی قیادت کو ان کو خوش کرنے کی کوئی وجہ  باقی نہیں رہتی اور وہ وہی فیصلے لیتے ہیں جو عین ملکی مفاد میں ہوتے ہیں۔ پھر مزید یہ کہ فوجی بالا دستی کی صورت میں مختلف معاملات میں فیصلہ لینے کے لئے کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہیں ہوتا جیسا کہ سیاسی بالا دستی کی صورت میں ہوتا ہے۔

یہ ان میں سے بعض دلائل ہیں جو دونوں اطراف سے سیاسی بالا دستی اور فوجی بالا دستی کے حق میں پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم پاکستان کے سیاسی حالات کا مشاہدہ کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ان 73 سالوں میں پاکستان میں مختلف ادوار میں سیاسی قیادت بھی بالا دست رہی ہے اور اسی طرح فوجی قیادت کے تحت بھی براہ راست چار مارشل لاز کے ادوار میں ملکی نظام چلتا رہا ہے۔ اگر ہم ان تمام سیاسی اور فوجی ادوار کا جائزہ لیتے ہیں تو کچھ نکات ہمارے سامنے بڑے واضح ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ کہ چاہے سیاسی قیادت کی بالا دستی رہی ہو یا فوجی قیادت کی، اس ملک کی معیشت کو سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے تحت ہی چلایا گیا ہے۔ ان دونوں طرح کی قیادتوں نے ملک پر قرضے چڑھائے ہیں اور پھر ان کا بوجھ عوام کی خون پسینے کی کمائی پر ٹیکسوں کی صورت میں ڈالا گیا ہے۔ پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ملکی آمدن ملک کے اخراجات سے زیادہ ہے تو وہ دھڑا دھڑ نوٹ چھاپتے ہیں۔ جب 2008 میں پیپلزپارٹی کا دور تھا تو روز کے حساب سے 2 ارب روپے کے نوٹ چھاپے جاتے تھے۔ نواز شریف کا دور آیا تو اس میں 5ارب روپے چھاپے جاتے تھے۔ آج عمران خان صاحب کی حکومت میں روزانہ 7 سے 8 ارب مالیت کے نوٹ چھاپے جاتے ہیں۔ جب اتنی بڑی تعداد میں نوٹ چھپ رہے ہونگے تو یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ عام عوام کی جیب میں جو آمدن  موجود ہے وہ کس تیزی کے ساتھ کم ہو رہی ہوگی۔ اسی طرح سیاسی ہو یا فوجی دونوں طرح کی قیادتیں تیل اور گیس جیسے اثاثوں کی نجکاری کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی نجی اداروں کے حوالے کر دیتی ہیں جس وجہ سے یا تو عوام  کو بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات انتہائی مہنگے داموں حاصل ہوتی ہیں یا پھر طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث وہ ان سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے پھر ہماری صنعت اور زراعت بھی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔

اسی طرح حکومت چاہے سیاسی  بالا دستی پر مبنی رہی ہو یا فوجی بالا دستی پر، ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ امریکا کے مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ امریکا کے مفادات کو عوام کے سامنے ہمیشہ سے ایسے پیش کیا جاتا رہا ہے جیسے یہ پاکستان کے مفادات ہوں۔ ان دونوں طرح کے ادوار میں ملکی خود مختاری کو امریکا کے سامنے سرینڈر کر دیا گیا ہے۔ مشرف صاحب نے امریکا کو افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے پاکستان کی زمینیں، فضائیں اور راستے مہیا کیے۔ پھر جو بعد میں آنے والی حکومتیں تھیں انہوں نے بھی وہی سلسلہ جاری رکھا۔ البتہ عوام کو دھوکہ دینے کے لیے وہ مشرف صاحب کو برا بھلا کہتے رہے کہ مشرف نے ہمیں اس جنگ میں جھونک دیا مگر اس کے برعکس پالیسیاں وہی اپناتے رہے جو مشرف کی تھیں۔ وکی لیکس کا یہ انکشاف مشہور ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی صاحب نے امریکا کو یہ کہا تھا کہ آپ ڈرون حملے کرتے رہے ہم اس کی مذمت کرتے رہے گے۔ یہ ہماری مجبوری ہے کیوں کہ عوام کو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اپنی مرضی سے ڈرون حملے کروا رہے ہیں۔

اسی طرح سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے کبھی سیاسی یا فوجی قیادت نے ہمارے فوجی جوانوں کو متحرک نہیں کیا۔ پھر اسی طرح سیاسی بالا دستی کا دور رہا ہو یا فوجی بالا دستی کا، پاکستان کا عدالتی نظام کم و بیش وہی رہا ہے جو انگریز 1947 میں یہاں چھوڑ کر گیا تھا۔ کبھی کسی نے یہ سوچنا گوارہ نہیں کیا کہ یہ عدالتی نظام تو انگریز نے یہاں اپنے غلاموں پر  حکومت کرنے کے لئے تشکیل دیا تھا اور وہی نظام آج ہم پاکستان کے معزز شہریوں پر لاگو کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ہمارا تعلیمی نظام دونوں طرح کی قیادتوں کی حکومت میں ایک سا ہی رہا ہے۔ یہ وہ تعلیمی نظام ہے جو سیکولر نظریات رکھنے والے افراد پیدا کرتا ہے اور اسلام کو محض ایک ذاتی مذہب کے طور پر پیش کرتا ہے جس کا تعلق صرف عبادات اور اخلاقیات سے ہو۔ اور آخری لیکن سب سے اہم  بات کہ دونوں طرح کے ادوار میں کسی نے بھی اسلام کے مکمل نفاذ کی کوشش نہیں کی جبکہ یہ وہ مقصد تھا جس کے لیے اس ملک کو حاصل کیا گیا تھا، اس بنیاد پر کہ اس ملک میں مسلمان اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔

لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ان اور ان جیسے تمام معاملات میں ہمیں کہیں فرق نظر نہیں آتا چاہے بالادستی سیاسی قیادت کے پاس رہی ہو یا فوجی قیادت کے پاس۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں قانون اور پالیسیاں بنانے کی طاقت ایک چھوٹے سے طبقے کے پاس رہتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو نظام نافذ ہوتا ہے وہ سرمایہ دارانہ نظام ہے، جو انسانوں کا بنایا ہوا نظام ہے۔ یہاں ہمارے لیے بحیثیت مسلمان جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ہمیں اللہ سبحان تعالیٰ نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ وحی الٰہی سے قطع نظر انسان قوانین کا تعین خود کرتا پھرے چاہے ایسا جمہوریت کے ذریعے کیا جائے یا پھر آمریت کی صورت میں؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: ’’اور (اے محمد ﷺ) ان کے درمیان اُن احکامات کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے نازل کیے گئے ہیں اور لوگوں کی خواشات کی پیروی نہ کریں‘‘ (المائدہ: ۴۹)۔ یعنی لوگوں پر حکومت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق ہی کی جانی چاہیئے اور اس میں لوگوں کی خواہشات کے مطابق عمل نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام میں نہ فوجی بالادستی ہوتی ہے نہ جمہوری بالادستی۔ بالادستی صرف اور صرف اسلام کے قانون کو حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے چاہے فوجی قیادت ہو یا سیاسی قیادت، دونوں اسلام کے قانون کی بالادستی کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس انسان کے بنائے ہوئے نظام میں جنگ ہی اس لیے شروع ہوتی ہے کیونکہ قانون سازی کا اختیار انسان کے ہاتھوں میں آجاتا ہے۔ پھر جس طبقے کو بھی بالادستی حاصل ہو جائے وہ اپنی مرضی سے قوانین بناتا ہے اور اپنے طبقے کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ لہٰذا اس وقت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی چھتری تلے حزب اختلاف اور فوجی قیادت کی چھتری تلے موجودہ حکومت کے درمیان جو ہمیں بڑی شدید سیاسی کشمکش نظر آرہی ہے، در حقیقت  یہ زیادہ سے زیادہ طاقت کے حصول کی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی محض حکمران اشرافیہ یعنی سیاسی اور فوجی قیادتوں کی آپس کی لڑائی ہے۔ اس لڑائی کا عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں۔ اس اعتبار سے سول سپریمیسی اور ڈکٹیٹر شپ عملی طور پر ایک ہی نظام کی دو شکلیں ہیں۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی عروج دیکھا ہے وہ اسی وقت دیکھا ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قوانین کو صحیح طور پر نافذ کیا ہے اور جب مسلمانوں نے اسلام کے نظام سے منہ موڑ لیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید آج دنیا اس سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے ترقی کر رہی ہے تو ہمیں بھی اس کو اختیار کر لینا چاہیے، تو مسلمان  تنزلی کا شکار ہوگئے۔ لہٰذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے قانون کی بالادستی کی بات کی جائے جس سے یہ جھگڑا ہی ختم ہوجائے گا کہ کس طبقے کو بالادست ہونا چاہیئے کیونکہ اللہ کی بالادستی کے بعد کسی اور کی بالادستی رہتی ہی نہیں۔

.

You may also like

Leave a Comment