Home » انگلش سرزمین پر 24سال بعد سیریز جیتنے کا خواب

انگلش سرزمین پر 24سال بعد سیریز جیتنے کا خواب

by ONENEWS

کرونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا میں خوف اور دہشت کا ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ اب اپنا ہو یا پرایا ہر ایک دوسرے سے قریبی رابطہ رکھنے میں شاکی نظر آتا ہے۔ اس عالمی وباء نے پوری دنیا کے کاروبار زندگی کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے، دفاتر اور کارخانوں میں تو کام کے انداز تبدیل ہوئے ہی لیکن کھیل کے میدانوں میں بھی مناظر اب یکسر بدل چکے ہیں۔ کرکٹ، ٹینس اور فٹبال کے مقابلوں میں تماشائیوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی تھی لیکن اب ان میچز کے دوران اسٹیڈیم بالکل خالی ہیں اور کوئی تماشائی کھلاڑیوں کو ان کی اچھی پرفارمنس پر داد دینے کیلئے موجود نہیں ہوتا۔

انگلینڈ نے جو روٹ کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کیخلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز سخت بایو ببل رولز میں کھیلی اور 2-1 کے مارجن سے کامیابی حاصل کی، اس پوری سیریز میں گراؤنڈ میں کوئی تماشائی نظر نہیں آیا۔ اب انگلش کرکٹ ٹیم پاکستان کیخلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیل رہی ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے مابین سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ بدھ سے مانچسٹر میں شروع ہوچکا ہے، سیریز کا دوسرا میچ 13 اگست سے ساؤتھمپٹن جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 21 اگست سے اسی گراؤنڈ پر کھیلا جائے گا۔

انگلش کرکٹ ٹیم نئے ماحول ویسٹ انڈیز کو شکست دینے کے بعد انتہائی پر اعتماد دکھائی دے رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اظہر علی کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم  تجربہ کار نوجوان اور نئے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور وہ جیت کا عزم لے کر انگلینڈ گئی ہے، لیکن تاریخی طور پر انگلش سرزمین پر پاکستان کیخلاف میزبان ٹیم کا پلہ بھاری رہا ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ تاریخ 66 برسوں پر محیط ہے جس میں مجموعی طور پر انگلش ٹیم بالادست رہی ہے، دونوں ملکوں کے مابین رواں سیریز سے قبل 25 ٹیسٹ سیریز میں 83 میچز کھیلے جاچکے ہیں، جن میں سے انگلینڈ نے 25 اور پاکستان نے 21 میچ میں کامیابی حاصل کی جبکہ 37  ٹیسٹ میچز بے نتیجہ ختم ہوگئے، انگلینڈ کے گراؤنڈز پر دونوں ٹیمیں 53  ٹیسٹ میچوں میں مدمقابل آئیں جن میں 23 بار فتح انگلینڈ کے حصے میں آئی اور پاکستان 12 مرتبہ فتحیاب رہا جبکہ 18 ٹیسٹ میچز ڈرا ہوگئے۔ اس طرح اعداد و شمار کے اعتبار سے انگلش سرزمین پر میزبان ٹیم ہی بالا دست ہے۔

انگلش ٹیم 1982ء تک اپنی سرزمین یا پاکستان میں کھیلی جانے والی سیریز میں حاوی رہی اور زیادہ تر ٹیسٹ سیریز انگلینڈ کے نام رہیں اور کچھ ڈرا ہوئیں، 82ء تک پاکستانی ٹیم کوئی بھی سیریز اپنے نام نہیں کر سکی تھی۔  انگلینڈ کے خلاف پاکستان نے پہلی بار اپنے ہوم گراؤنڈ پر 1983-84ء کی تین ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-0 سے جیتی تھی۔ اس وقت پاکستانی کپتان عالمی شہرت یافتہ بیٹسمین ظہیر عباس اور انگلش کپتان فاسٹ بولر باب ولس تھے۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں 3 وکٹوں سے فتح پاکستان کا مقدر بنی تھی،  باقی دو ٹیسٹ بے نتیجہ رہے تھے۔

پاکستان نے 1954ء میں عبدالحفیظ کاردار کی قیادت میں انگلینڈ کا پہلا دورہ کیا تھا اور 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 سے برابر رہی تھی، میزبان انگلینڈ نے ناٹنگھم ٹیسٹ ایک اننگز اور 129 رنز سے جیتا تھا جبکہ فاسٹ بولر فضل محمود نے اپنی تباہ کن بولنگ سے انگلش بیٹنگ لائن کو تہس نہس کردیا تھا اور پاکستان کو انگینڈ کی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ فتح سے ہمکنار کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا، انہوں نے دونوں اننگز چھ چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور وہ اس یادگار کارکردگی کی وجہ سے اوول کے ہیرو قرار پائے تھے۔ یہ میچ لو اسکورنگ اور سنسنی خیز تھا، پاکستان انگلینڈ کیخلاف 24 رنز سے فتحیاب ہوا تھا۔

پاکستان 1987ء میں موجودہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں انگلینڈ کی سرزمین پر پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا تھا، 5 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 4 ٹیسٹ میچز کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا، لیڈز ٹیسٹ میں عمران خان کی شاندار بولنگ کے نتیجے میں پاکستان نے میزبان انگلینڈ کو ایک اننگز اور 18 رنز کے بڑے مارجن سے زیر کیا تھا، عمران نے میچ میں 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ پاکستان نے انگلش سرزمین پر آخری بار ٹیسٹ سیریز وسیم اکرم کی قیادت میں 1996ء میں 2-0 سے جیتی تھی، قومی ٹیم نے لارڈز کے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 164 رنز سے ہرایا تھا، لیڈز میں دوسرا ٹیسٹ بے نتیجہ رہا تھا جبکہ اوول گراؤنڈ پر تیسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 9 وکٹوں سے فتح ملی تھی۔

پاکستان میں کھیلے گئے 24 ٹیسٹ میچز میں سے قومی ٹیم نے 4 اور انگلینڈ نے 2 جیتے جبکہ 18 مقابلے ڈرا ہوئے۔

پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیر ملکی کرکٹ ٹیموں نے پاکستانی سر زمین پر کھیلنے سے انکار کردیا تھا تو ان حالات میں متحدہ عرب امارات کی نیوٹرل سرزمین پر پاکستان نے مختلف ملکوں کیخلاف ٹیسٹ سیریز کھیلیں، انگلینڈ کیخلاف 2 ٹیسٹ سیریز یو اے ای میں منعقد کی گئی تھیں اور ان دونوں سیریز میں پاکستان فاتح رہا تھا، 2011-12ء کی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نے 3-0 سے کلین سوئپ کیا اور 2015-16ء میں 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز قومی ٹیم نے 2-0 کے مارجن سے جیتی۔ سن 2016ء میں انگلینڈ میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز 2-2 سے برابر رہی، 2018ء میں ہونیوالی 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 سے برابری پر ختم ہوئی تھی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلش سرزمین پر 24 سال بعد سیریز جیتنے کے خواب کے ساتھ موجود ہے جس میں شامل کچھ ہی کھلاڑی انگلینڈ میں کھیلنے کا کچھ تجربہ رکھتے ہیں، پاکستانی آفیشلز کو اس ٹیم سے توقعات وابستہ ہیں۔ دوسری جانب مدمقابل انگلش ٹیم کے حوصلے خاصے بلند ہیں لیکن کرکٹ کے کھیل میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی، کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

انگلش ٹیم ویسٹ انڈیز کو ہرانے کے بعد شہباز جیسی نظر آتی ہے اور پاکستانی ٹیم اس کے سامنے ممولہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پُرعزم پاکستانی کرکٹرز میزبان کھلاڑیوں کو شکست دے کر ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

.

You may also like

Leave a Comment