Home » انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے انکشافات

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے انکشافات

by ONENEWS

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے انکشافات

کووڈ 19: کورونا نے صرف ہماری معاشرت اور معیشت پر ہی نہیں،بلکہ عالمی معیشت اور معاشرت پر بھی ہمہ جہتی اثرات مرتب کئے ہیں۔ تہذیب ِ انسانی نے سینکڑوں سالوں سے جو ترقی کی ہے، فنی، تکنیکی اور سائنسی ایجادات اور انکشافات کے باعث تہذیب انسانی میں آنے والی سہولتوں  اور تعیشات کی فراوانی نے انسانوں کو جس سکھ چین سے ہمکنار کیا تھا اور پھر انسان نے اپنی عظمت اور شوکت کے بارے میں اپنے تئیں جو افکار و خیالات کے تانے بانے بن لئے تھے، آنکھ سے نظر نہ آنے والے کورونا وائرس نے اسکا دھڑن تختہ ہی نہیں کیا، بلکہ انسان کی بے بسی اور لاچاری کو بھی طشت ازبام کر دیا ہے۔

گزری صدی کی اختتامی دھائی نے جس قوم  / ریاست کو فتح دکھائی اور اس نے تاریخ کے اختتام اور سفید انسان کی برتری کا اعلان کر کے دنیا کو حیران اور پریشان کر دیا تھا، پھر اس قوم نے تہذیبی جنگ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا، مشرق و مغرب میں اپنی عسکری و تہذیبی قوت کی بالادستی کی کاوشیں شروع کر دیں، اس قوم نے عراق میں سینکڑوں ہزاروں نہیں، لاکھوں انسانوں کو قتل کیا، لاکھوں بچے دودھ اور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث ہلاک ہو گئے، لاکھوں عفت ماب عرب عورتیں جسم فروشی پر مجبور کر دی گئیں۔ پھر اسی قوم نے افغانستان پر اپنے ناٹو حلیفوں سمیت چڑھائی کی، سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں،بلکہ لاکھوں بے کس انسانوں کو ہلاک و زخمی کیا۔ تہذیب ِ انسانی کے سب سے بڑے بم (تمام بموں کی ماں) MOAB گرا کر افغانستان پر ہلاکت نازل کی، امریکی اس سے پہلے ڈیزی کٹر بموں کے استعمال کے ذریعے پہاڑوں، غاروں پر قہر نازل کر چکے تھے۔ ڈرونز کے ذریعے 15 سالوں سے ہلاکت خیزی کا عمل جاری ہے، برطانیہ اور دیگر عیسائی ممالک امریکہ کے ساتھ عالم انسانیت کے خلاف اس جر م عظیم میں شراکت دار تھے، اب ذرا کورونا کی ہلاکتوں کا چارٹ دیکھیں، اس میں کون کون سے ممالک سر فہرست نظر آرہے ہیں؟

ہلاکتوں کی فہرست میں امریکہ، برطانیہ ہی سرفہرست ہیں۔ دیگر عیسائی یورپی ممالک میں بھی کورونا اپنی شکل بدل بدل کر نازل ہو رہا ہے، اپنے آپ کو سپریم اور سپر طاقت کہلانے اور سمجھنے والی اقوام آج کہاں کھڑی ہیں؟ اپنی طاقت اور ہیبت کا سکہ جمانے اور بٹھانے کی کاوشیں کرنے والی اقوام کورونا کے مقابل مکمل طور پر پٹ چکی ہیں، ہار چکی ہیں۔ انہیں اپنے میڈیکل نظاموں پر ناز تھا اپنی طبی ایجادات پر فخر تھا، لیکن ڈیڑھ/دو سال گزر چکے،مگر تیر بہدف ویکسین کی کامیاب تیاری ممکن نہیں ہو سکی۔اُدھر ایک قسم کے وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری بارے ہمیں پتہ چلتا ہے تو ساتھ ہی وائرس نئی شکل اختیار کر لیتا ہے، اس پر ریسرچ شروع ہو تی ہے تو وائرس اس سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ انسان حیران ہے، تہذیب انسانی پریشان ہے۔ گزرے سال بھی 2020ء  کے دوران 255 ملین سے زائد افراد اپنی ریگولر نوکریوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ روزانہ کی بنیا د پر بے روزگار ہونے والوں کے بارے میں حتمی اعداد و شمار دستیاب  نہیں ہیں۔

بین الاقوامی ادارے، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی تحقیقات کے مطابق 2009ء کے عالمی فنانشل بحران میں بے روزگار ہونے والوں کی تعداد سے  چار گنا زیادہ افراد کورونا بحران کے دوران 2020ء  میں بے روزگار ہو چکے ہیں۔ چین کے شہر ووہان میں ظاہر ہونے کے بعد سے اب تک  کورونا نے 21 لاکھ سے زائد انسانوں کو ہلاک کر دیا ہے اور مزید ہلاکتیں جاری ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے چیف گائے رائیڈر نے عالمی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کی نقاب کشائی کے موقع پر رپوٹرز کو بتایا کہ 255 ملین افراد جو بے روزگار ہوئے، ان کے علاوہ 81 ملین افراد ایسے بھی ہیں، جو روزگار مارکیٹ سے نکل گئے، لیکن انہوں نے اپنے آپ کو بے روزگاروں کی لسٹ میں رجسٹر نہیں کرایا، یعنی انہوں نے خود روزگاری کے لئے جدوجہد شروع کرنے کے باعث اپنے آپ کو بے روزگاروں کی فہرست میں شامل نہیں کرایا۔ شاید وہ وبا کے باعث ایسا نہیں کر سکے یا کسی اور وجہ سے ان کے نام بے روزگار وں کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔

عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مندرجات کے مطابق بے روزگاری کے باعث عالمی سطح پر کارکنان کی آمدنیوں میں 3700 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، یعنی عالمی لیبر انکم میں 8.3 فی صد کمی واقع ہوئی،جو عالمی خام پیداوار کے 4.4 فی صد کے برابر ہے۔ یہ بہت بڑی رقم ہے، یہ بہت بڑی خام عالمی پیداوار ہے جو کم ہوئی ہے۔ آئی ایل او کی تحقیقات کے مطابق کورونا سے لڑنے اور بچنے کے لئے کچھ ویکسینوں کی تیار ی کے باعث امید پیدا ہونے لگی تھی کہ معاملات میں تیزی آ جائے گی، لیکن حقیقت حال دیکھتے ہوئے یہ امیدیں بر آتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ کورونا کی واپسی کے معاملات غیر یقینی نظر آ رہے ہیں۔ آئی ایل او کے مطابق بے روزگار ہونے والوں میں خواتین کی تعداد، مردوں سے زیادہ ہے۔ بے روزگار ہونے والوں میں 5 فی صد خواتین، جبکہ مرد 3.9 فی صد ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا کے باعث ایسے سیکٹر زیادہ متاثر ہوئے ہیں،جن میں خواتین کام کر رہی تھیں جیسے سکول۔ دوسری طرف مردوں میں ہی نہیں، بلکہ مردو خواتین میں عمر کے لحاظ سے نوجوان، عمر رسیدہ حضرات و خواتین کے مقابلے میں زیادہ بے روزگار ہوئے۔ 8.7 فی صد 15-24سالہ جوان بمقابلہ 3.7 فی صد زائد عمر افراد بے روزگار ہوئے۔

اس رپورٹ میں ایک حیران کن بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوا ن بے روزگار خواتین و حضرات نے روزگار کی تلاش کی کاوشیں ہی ترک کر دی ہیں،اس طرح ایک پوری نسل کے گم ہونے کے امکانات پید ا ہو چکے ہیں۔ ایک پوری نسل گمشدہ قرار پا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مندرجات کے مطابق کورونا وائرس نے فوڈ سروس انڈسٹری کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اس انڈسٹری میں بے روزگاری کی شرح 20 فی صد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کے شعبو ں اور فنانس اینڈ انشورنس انڈسٹری میں روزگار کے مواقع پیدا ہو ئے ہیں۔ رپورٹ نے 2021ء میں امکانات بارے بھی تجزیہ دیا ہے جو بہت کیا، تھوڑا بہت بھی حوصلہ افزاء نہیں ہے۔مایوس کن امکانات کی باتیں چھوڑ کر، روشن امکانات کے مطابق 2021ء میں 36 ملین افراد ریگولر ملازمتوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں، گویا تباہی و بربادی ابھی ٹلتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment