0

انسان باقی جلد کو دیکھتا ہے

انسان باقی جلد کو دیکھتا ہے

اْستاد ولایت خان صاحب مرحوم جوکہ متحدہ ہندوستان کے فقید المثل سِتار نواز تھے کے ہونہار فرزند اْستاد شجاعت حسین خان صاحب بھی باکمال سِتاریے ہوئے ہیں آپ نہ صرف سِتار نوازی کے ماہر ہیں بلکہ گلا بھی خوب پایا ہے، پچھلے دنوں ریختہ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام جشنِ ریختہ کے عنوان سے دہلی میں ایک تین روزہ تقریب منعقد کی گئی جس میں اْستاد شجاعت حسین نے کرشن بہاری نور کی ایک انتہائی معروف غزل سِتار کی چھنکار کے ساتھ پیش کی، غزل کا مطلع ہے

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں

اور کیا جرم ہے پتہ ہی نہیں

ہزاروں کا جمع اْس وقت اْچھل پڑا جب آپ نے غزل کا مصرعِ اول ایک دلفریب کھٹکے کے ساتھ اْٹھایا، کھٹکہ گلوکاری کا ایک بہت ہی دلفریب اَنگ ہے جس میں الفاظ کو ہلکے ہلکے جھٹکوں کے ساتھ گلے سے نکالتے ہیں اساتذہ گلوکار راگ بھیرویں میں گلوکاری کے اس اَنگ کو خوب استعمال کرتے ہیں، کرشن بہاری نور کی یہ غزل مجھے بے حد پسند ہے اس کا ہر مصرع لاجواب اور زندگی کے تلخ و پْرآلام تجربات پر مبنی ہے جیسا کہ ایک شعر ہے

زندگی، موت تیری منزل ہے

دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں

لیکن مجھے غزل کے پہلے مصرع نے اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے بالکل اسی نوعیت کا مضمون ہمیں ساغر صدیقی کے ہاں بھی ملتا ہے لکھتے ہیں

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

خیر یہ تو شعراء کے اندوہ ناک تجربات ہوتے ہیں جنہیں وہ الفاظ کے وسیلے سے بیان کر لیتے ہیں ہمارے ہاں تو زندگی کے اس جبرِ مسلسل پر باقاعدہ ایک کلامی فرقہ پیدا ہو گیا تھا جنہیں تاریخِ اسلام میں جبریہ کے نام یاد کیا جاتا ہے اس فرقہ کے علماء کا کہنا تھا کہ انسان مجبورِ محض ہے اور اس کا ارادہ یا اختیار فی الواقع کوئی معنی نہیں رکھتا انسان کا کوئی بھی عمل اس کی قطعی مجبوری ہی ہے بالکل اسی نظریہ کا پرچار معروف برطانوی فلاسفر تھامس ہابس نے بھی کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ کائنات اور انسان کی ہر حرکت قانونِ اسباب کے تحت ہے، علمائے نفسیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی مرضی کا مختار نہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی حالات اس کے ارادے اور عمل کو جس رخ پر چاہتے ہیں موڑ دیتے ہیں، زندگی کیا ہے آج سے ساڑھے چوبیس سو سال قبل اس کے متعلق دنیائے دانش کے عظیم ترین دانا سدھارتھ گوتم بدھ نے اپنا گہرا تجربہ بیان کیا کہ زندگی محض دکھ ہے، زندگی دکھ ہے سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پیدائش ہی ایک مستقل المیہ ہے جس سے انسان کو موت تک مفر نہیں گویا پیدائش سے لیکر مرتے دم تک انسان صرف اذیت ہی سے دوچار رہتا ہے اور اسی اذیت میں شریر تیاگ دیتا ہے، زندگی کے متعلق کچھ اس طرح کا المناک تجربہ معروف جرمن فلاسفر اور دانشور فریڈرک نطشے کا بھی ہے پس ذہانت کے دائرہ میں زندگی صرف الم ہی سے عبارت ہو سکتی ہے علاوہ ازیں کوئی چارہ نہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ فلاسفہ و علمائے حکمت ہمیشہ ذہنی اضطراب کا شکار رہے ہیں کہ اْن کے نزدیک زندگی فی نفسہ ایک المیہ جو ٹھہری، خیر یہ تو کسی حد تک تمہیدی گفتگو تھی، اصل مدعا یہ ہے کہ کیا ذہانت کے علاوہ بھی کوئی پیمانہ ہے جس کی رو سے زندگی کی پڑتال کی جا سکے کیونکہ دانشور تو اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں کہ زندگی ایک مستقل المیہ ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ فی زمانہ ہر شخص ذہانت و دانشوری کی جانب لپکا جا رہا ہے اور بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ اب حصولِ حکمت کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ بیٹھے ہیں قطع نظر اس سے کہ جینا فی نفسہ ایک مقصد ہے، میری تحقیق کے مطابق ذہانت کے علاوہ بھی زندگی کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہے اور وہ ہے ایفاء و ایثار یا والہانہ سپردگی، یہ دراصل صوفیوں کی ایجاد ہے مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تردد نہیں کہ دنیا میں اگر صوفی نہ ہوتے تو زندگی کبھی اتنی دلچسپ اور پْرسکون نہ ہوتی پس اگر آپ علم و حکمت کے دشتِ ویران سے رودکی، رومی، نظامی، جامی، سعدی، حافظ، عطار، خیام اور سرمد کو نکال دیں تو باقی صرف ذہنی اضطراب اور حیرتِ لامتناہی ہی بچتے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں رہا اب کہ مطلق دانش کے پاس زندگی کا کوئی جواز نہیں ہے، زندگی دکھ اور سزا تو ٹھہری دانشور کے ہاں مگر صوفی زندگی کے متعلق کیا کہتا ہے یہ حضرت رومی کی زبانی سن لیجئے:

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

آپ نے اکثر و بیشتر مختلف پینٹنگز اور خطاطی پر مبنی فن پاروں میں حضرت رومی کا یہ بند دیکھا ہو گا مگر عموماً جو اس کی تفسیر کی جاتی ہے وہ انتہائی ناقص اور سطحی ہے، رومی کے نزدیک اس بند میں بندگی سے مراد مذہبی مشقات ہرگز نہیں بلکہ بندگی کو ایک عالمگیر معنی میں برتا گیا ہے فارسی زبان میں کسی بھی معاملے میں غیر مشروط ایفاء و ایثار بندگی کہلاتی ہے چنانچہ یہاں بندگی سے مراد وہ والہانہ سپردگی ہے کہ جو زیستِ انسانی کو حقیقی مقصد و اسلوب سے روشناس کرتی ہے ایک دوسرے مقام پر حضرت رومی فرماتے ہیں:

انسان باقی جلد کو دیکھتا ہے

قول یہ ہے کہ قول دوستانہ ہے

فرماتے ہیں کہ انسان صرف ایک جذبہ اور خالص التفات ہے علاوہ ازیں صرف گوشت پوست ہے ہاں یہ التفات تبھی ممکن ہے جب آپ کی نظر کسی پر ٹھہرتی ہے گویا جب آپ والہانہ سپردگی اختیار کرتے ہیں، بالکل یہی مضمون ہمارے ہاں علامہ اقبال نے بھی اپنی ایک طویل نظم پیرِ رومی اور مریدِ ہندی میں بیان کیا ہے جس میں وہ مذکورہ شعر کو اْردو کے قالب میں کچھ یوں ڈالتے ہیں:

خاک تیرے نور سے روشن بصر

غایتِ آدم خبر ہے یا نظر؟

زندگی کا مفہوم حضرت سعدی سے بھی سن لیتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ

زندگی یہ نہیں کہتی کہ زندگی میری زندگی ہے

زندہ آنست کہ بادوست وصالی دارد

فرماتے ہیں کہ زندگی یہ نہیں جو میں بسر کر رہا ہوں بلکہ زندہ تو وہ ہے جس کے پاس اْس کا دوست موجود ہے بالکل سادہ الفاظ میں شیخ سعدی زندگی کو والہانہ سپردگی کے سپرد کرتے نظر آتے ہیں، پس اب ہمارے پاس زندگی کو جانچنے کے دو مستند و مسلم پیمانے آ چکے ہیں ایک دانشور کا اور دوسرا صوفی کا، دانشور کے نزدیک زندگی ایک مستقل المیہ ہے جبکہ صوفی زندگی کو ایفاؤ ایثار کا سرچشمہ کہتا ہے، یہاں پر ایک سائنسی نظریہ رہ جاتا ہے کہ زندگی کو ایک سائنسدان کس نظر سے دیکھتا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ سائنس کے ہاں زندگی کی کوئی مسلم اور متفقہ تعریف ہی نہیں ملتی، دوسری بات یہ ہے کہ ایک سائنسدان زیادہ سے زیادہ یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ زندگی محض ایک حیاتیاتی مظہر ہے جو مختلف اوقات میں مختلف جسمانی ارتقاء کے سبب وقوع پذیر ہوا سائنس چونکہ انسانی دانش کی مرہونِ منت ہے اس لئے سائنس کے ہاں بھی ایک فطری اضطراب اور حتمی یاسیت نظر آتی ہے، خلاصہ بیان کرتے ہوئے مجھے یہ نکتہ بیان کرنے میں اب کوئی منطقی استرداد نہیں کہ زندگی ایک ولولہ ہے ایفاء و ایثار کا علاوہ ازیں لامتناہی فکری انتشار ہی مرجعِ عقل و دانش ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں