Home » انتظامیہ کی بے بسی

انتظامیہ کی بے بسی

by ONENEWS

14نومبر کی شب، اسسٹنٹ کمشنر پاکپتن کو اطلاع موصول ہوئی کہ ایک شادی ہال میں حکومت وقت کی طرف سے شہریوں کے جسمانی اور مالی مفاد کے پیش ِ نظر جاری کردہ ہدایات کو اعلانیہ ہوا دوش کر دیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنراپنا فرضِ منصبی ادا کرنے کے لئے شادی ہال پہنچے، جہاں نہ صرف کثیر اقسامِ کے طعام کا اہتمامِ خاص تھا،جو ون ڈش پابندی کی کھلم کھلا خلاف ورزی  تھی،بلکہ کرونا کے عدم پھیلاؤ کی تمام تدابیر اور احتیاطوں کو بھی بالائے طاق رکھا گیا تھا۔ یہ صورتِ حال، مفادِ عامہ کے تناظر میں، اسسٹنٹ کمشنر کے لئے اخلاقی سے زیادہ پیشہ ورانہ مداخلت کی طلبگار تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے شادی ہال انتظامیہ کی توجہ سرکار ی احکامات کو پس ِ پشت ڈالنے کی طرف دلائی تو دولت کی فراوانی اور سیاست کی جولانی میں مدہوش انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنر کو مکّوں، گھونسوں، ٹھُڈوں اور رائفلوں کے بٹّوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا، اور اُسے زبردستی مار کی کے مالک ایم پی اے کی گاڑی میں ڈال کر حبس ِ بے جامیں رکھا۔

ڈپٹی کمشنر کی بروقت مداخلت سے اسسٹنٹ کمشنر کو بازیاب کرایا گیا اور مارکی کے مالک ایم اپی اے کے خلاف اُس کے ارتکابِ جرم کے عین مطابق پولیس میں پرچہ درج کرایا گیا، تاہم، تاحال، اس کی عدم گرفتاری ایک معِمّہ ہے۔ اس واقعہ کی خبر سے ملک بھر کے انتظامی افسروں میں مایوسی، بددلی اور عدم تحفّظ کا احساس مزید گہرا ہوا ہے۔

مندرجہ بالا واقعہ محض ایک واقعہ نہیں،بلکہ اپنی نوعیت کے دیگر واقعات کے تسلسل میں ایسی ذہنی سطح کی تصویر کشی ہے،جو تہہ در تہہ  اور گنجلک ہے۔ کبھی تواِس سوچ کے پروردہ دائمی اقتدار کی ہوس کے مارے کچھ حضرات،انتظامی اَفسروں میں اپنی بیٹیوں کے لئے رشتوں کے متلاشی ہوتے ہیں تاکہ اُن کے معاشرتی وقار کو دوام ملے اور کبھی انہی افسروں کے لئے اُن کے منہ سے گالیوں کے خار جھڑتے ہیں،جیسے ”مَیں ایس پی کی وردی اتار دوں گا، مَیں ڈپٹی کمشنر کو اُلٹا لٹکا دوں گا، تجھے جرأت کیسے ہوئی میری گاڑی روکنے کی“وغیرہ وغیرہ۔ کبھی کسی تھانے پر اپنے ”بندگانِ خاص“ کے ِجلُو میں دن دیہاڑے دھاوا بول کر اس کے تمام عملے کو اُن کے ”کِیے“کی ”قرار واقعی“ سزا دینا،کبھی دفتر میں گھس کر بندو ق کی نوک پر افسر کو زودوکوب کرنا، پھر اِن ”خصلتوں“ کا اپنے خطابات کے دوران تکبّرانہ ذکر کرنا:

مت پوچھ نواز، تکبّر زدہ لوگوں کے مزاج

خدا کو مانتے ہیں، خود کو ماننے کے بعد

میدان ِ سیاست میں بہت اعلیٰ اخلاق اور مثالی کردار کے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ جھنگ سے پنجاب اسمبلی تک پہنچنے والے ایم پی اے ریاض حشمتؒ کے نام سے بھلا کون واقف نہیں۔وہ اِس قبیل کی ایک عمدہ مثال ہیں، مگر دوسری طرف ایسے چند لوگ بھی اس میدان میں وارد ہو گئے ہیں،جو کسی گاؤں میں حجامت کا کام کرتے تھے، پھر انہیں خیال آیا کہ معاشرتی پہچان کو بدلاجائے،جس کے لئے شہر کا رُخ کیا۔ گھر کے باہر اپنے نام کی تختی میں اپنے مستقبل کی پہچان بھی لکھ دی۔ شہر میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارا،اِس کو ٹھگا، اُس کو لُوٹا،پیسہ اکٹھا کیا۔ جائزو ناجائز پیسہ جمع کر کے اس کو تحفظ دینے کے لئے سیاسی کارکن کا لبادہ اوڑھ لیا۔ بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ پھر منافقت اور خوشامند کے بل بوتے پر شرافت کی چادر اوڑھ لی اور ایوانِ اقتدار تک رسائی حاصل کر کے جائز و ناجائز کارگزاری کا لائسنس حاصل کر لیا۔

قائداعظمؒ نے پشاور میں 14اپریل 1948ء کو سول افسروں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”آپ کو کسی سیاسی جماعت یا سیاست دان کے دباؤ میں نہیں آنا چاہئے۔ اگر آپ پاکستان کے وقار اور عظمت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو اپنا فرضِ منصبی عوام اور ملک کے خادم بن کر بے خوفی اور دیانت داری سے سرانجام دیجئے۔ وزرائے اعظم اور وزراء آتے جاتے رہتے ہیں،یہ سیاسی جماعت یا وہ سیاسی جماعت، یہ سیاسی رہنما یا وہ سیاسی رہنما …… اس سے آپ کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے“۔ قائداعظمؒ نے اُسی نشست میں سیاست دانوں کے متعلق فرمایا: ”مَیں آپ کی جانب سے ملکی زُعما اور سیاست دانوں کو بھی زور دے کرکہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ کبھی آپ کے سرکاری کام میں داخل اندازی کریں گے اور سیاسی دباؤں ڈالیں گے تو اس کا نتیجہ بدعنوانی، رشوت خوری اور اقرباء پروری کی صورت میں نکلے گا،جو نہایت ہولناک مرض ہے۔ اگر وہ اس طرح کی کوشش کرتے ہیں تو وہ پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کر رہے“…… قائداعظمؒ کی گفتگو کے دونوں اقتباسات کو توجہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ جہاں سول افسروں کو اپنی ذمہ داریوں کو بلاخوف و خطر،سیاسی وابستگی سے آزاد بروئے کار لانے کا حکم دیا گیا ہے،وہاں اُسی نشست میں زُعما اور سیاست دانوں کی طرف سے سرکاری کام میں مداخلت کرنے کو مہلک مرض اور پاکستان کی عدم خدمت گردانا گیا ہے۔ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا قائداعظمؒ کی تقریروں کا عکس ہماری دفتری، سیاسی اورمعاشرتی زندگی کے کسی پہلو سے جھلکتا ہے؟

جب تک سیاسی، قانونی اور انتظامی ماہرین قانون کے عملداروں کی معاونت اور تحفّظ کے لئے نظام میں ”مطلوبہ سہولت“ میّسر نہیں کریں گے۔ انتظامی افسران قائداعظمؒ کے فرمودات پر مکمل عمل سے معذور رہیں گے اور پاکپتن کا وقوعہ دہرایا جا تا رہے گا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment