0

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا فکر انگیز خطبہ

”امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا فکر انگیز خطبہ“

دنیا میں جتنے بھی پیغمبر رب کائنات نے مبعوث فرمائے سب نے خداوند کریم کی وحدانیت کا پیغام دیا کہ اللہ واحد لا شریک ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہی پیغام نبی آخر الزماں ؐ، احمد مجتبیٰؐ،محمد مصطفی ﷺ نے بھی دیا اور کعبہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا۔ مساوات کے دنیا کے پہلے علمبردار رسول اکرم ﷺ نے حبشی غلام حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہوکر اذان دو اور حضرت بلال ؓ نے مسرت وانبساط سے لبریز جذبات سے اذان دی۔ اس مقصد کے لئے کسی بڑے عرب سردار کا انتخاب نہیں کیا گیا مقصد مساوات کا پیغام تھا کہ کسی امیر کو غریب پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں سب انسان برابرہیں اور یوں انسانیت کا پہلا پیغام دیا گیا۔ ان خیالات کااظہار جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا سراج الحق نے اگلے روز اپنے خطبہ جمعہ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نعرے تو ریاست مدینہ کے بلند کرتی ہے لیکن اس کی عملی شکل کہیں نظر نہیں آتی۔ ہمارے حکمرانوں کا یہ اعلان صرف تقاریر اور خطابات تک محدود ہے جو ایک افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر ایک دل شکن عمل ہے جس پر پوری قوم کو تحفظات ہیں کہ اس مندر پر خرچ ہونے والی رقم سرکاری خزانہ سے خرچ کی جائے گی جو ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے اور وہ ٹیکس اس لئے تو نہیں دیتے کہ ان کی رقم سے مندر تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر ریاست مدینہ قائم کرنا چاہتی ہے تو اس کا عملی نمونہ پیش کرے اور ملک میں موجود اسلامی جماعتوں سے رابطہ کرے۔ حکومت اگر واقعی ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے تو آگے بڑھے ہم اس کے ساتھ ہیں۔ راقم بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے منصورہ کی جامع مسجد میں موجود تھا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد راقم نے مولانا سراج الحق سے ملاقات بھی کی اور ملاقات کے دوران ان سے ہونے والی بات چیت کے دوران میں نے محسوس ہوا کہ مولانا موصوف اسلام، ملک اور قوم کے لئے درد رکھتے ہیں۔

جہاں تک اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا تعلق ہے تو حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے لئے زمین نواز شریف نے اپنے دور وزارت عظمیٰ میں دی تھی اور 2017ء میں اس کا سنگ بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھا تھا۔ یہ بالکل بجا ہے کہ تو کیا موجودہ حکومت نوازشریف کا تسلسل ہے تو پھر تبدیلی کا نعرہ کیا ہوا اور وہ ریاست مدینہ کا کیا بنا۔ حکومت ہمیشہ شوروغوغا کرتی ہے نواز شریف کے خلاف مگر امریکہ اور یورپی ممالک کی خوشنودی کے لئے مندر بنا رہی ہے تو اس وقت نواز شریف کو بھول جاتی ہے۔ موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ہوئے تقریباً دو سال ہونے کو ہیں اور جس قدر تضاد بیانی اس حکومت نے ان دو سال کے عرصہ میں کی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک نہیں ہوئی۔ مندر کے حوالے سے تاریخ کا ایک متعلقہ یادگار واقعہ حکمرانوں خصوصاً وزیر اعظم عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں ؎

شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات

سلطان محمود غزنوی نے 1025میں جب سومنات کا مندر جو بھارت کے صوبہ گجرات میں واقع تھا حملہ کرکے فتح کیا تو یہ مندر ہندو دیوتا شیو اجی کا مندر تھا جس کے حوالے سے ہندو مہا شیوراتری کا تہوار بھی مناتے ہیں۔ سومنات کے مندر کے لیے ہندو راجے اپنی جاگیریں وقف کردیتے تھے اور اپنی بیٹیوں کو اس کی دیوداسی بنا کر رکھتے تھے جو ساری عمر کنواری رہتی تھیں۔ اس مندر میں 2000برہمن پوجا کرتے تھے 500 سریلی خوبصورت عورتیں بھجن گاتی تھیں جبکہ 300مغنی شیو دیوتا کی تعریف میں نغمہ سرا رہتے تھے۔سومنات کی چھت 56ستونوں پر مشتمل تھی پورے مندر میں مصنوعی روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا بلکہ ہال میں قندیلوں میں جڑے ہوئے اعلیٰ درجے کے جواہرات روشنی فراہم کرتے تھے۔ جن کی بدولت رات کوبھی دن کا سماں رہتا تھا۔ سلطان محمود غزنوی سونے چاندی کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے بتوں کو روندتے ہوئے بڑے دیو قامت بت کے سامنے کھڑے ہوئے۔ یہ بت چھ فٹ زمین کے اندر اور نو فٹ زمین کے اوپر تھا اس موقع پر بڑے بڑے ہندو دولت مندوں نے سلطان کو منہ مانگی رقم کی پیش کش کی کہ وہ بت کو کچھ نہ کہیں۔ اس دوران سلطان کے قریبی لوگوں نے بھی انہیں مشورہ دیا کہ پتھر کے بنے اس بت کو توڑ کرہمیں کیا ملے گا،جبکہ مال و دولت مسلمانوں کے کام آئے گا۔ سلطان نے اس موقع پر تاریخی جملہ ادا کیا کہ اگر میں تمہاری بات مان لوں تو تاریخ مجھے بت فروش کہے گی جبکہ میں تاریخ میں بت شکن کے طور پرزندہ رہنا پسند کروں گا۔

یہ کہتے ہوئے سلطان نے ہاتھ میں پکڑا ہوا گرز سومنات کے منہ پر دے مارا۔ اس کی گردن ٹوٹ کر دور جا گری۔ سلطان کے حکم پر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے اور اس کے پیٹ میں اس قدر بیش قیمت جواہرات، موتی، سونا اورچاندی نکلے جو ہندو معززین کی طرف سے کی گئی پیش کش سے کئی سو گنا زیادہ تھے۔ جناب وزیر اعظم آپ جو مدینہ کی ریاست کے دعویدار بنتے ہیں تو سلطان محمود غزنوی کی پیروی کریں اور بت شکن بنیں۔ بھارت میں مسلمانوں اور مساجد کو بری طرح پامال کیا جارہا ہے اور آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت ”اسلام آباد“ میں مندر کی تعمیر کرا رہے ہیں جس سے 22کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری ہوگی۔ بہتر یہی ہوگا کہ اس منصوبے کو بیک جنبش قلم ترک کرنے کے احکامات جاری کریں۔ اس سے نہ صرف مسلمانان پاکستان بلکہ اللہ رحیم اوررسول کریم ﷺ بھی خوش ہوں گے اور نہ جانے اس کے عوض آپ کو کسی بڑے انعام سے نواز دیں۔ یہی خطیر رقم جو آپ مندر کی تعمیر پر خرچ کررہے ہیں اگر اس سے کسی پسماندہ علاقے میں ہسپتال تعمیر کرا دیں تو یہ انسانیت اور قوم پر ایک احسان ہوگا کہ ملک میں پہلے ہی ہسپتالوں کی شدید کمی ہے ایک ایک بستر پر کئی کئی مریض لیٹے ہوئے ہیں، بلکہ بعض کو شدید بیماریوں کے باوجود بستر میسر نہ آنے کی وجہ سے ہسپتالوں کے برآمدوں اور راہداریوں میں اذیت برداشت کررہے ہیں۔ جس پر انسانیت نوحہ کناں ہے۔

وزیراعظم صاحب! خلاف اسلام مندروں کی تعمیر کی بجائے آپ عوامی مسائل پر توجہ دیں مہنگائی اور بیروزگاری آئے دن روبہ عروج ہے۔ غریب اور پسماندہ طبقہ اس میں پس رہا ہے اور مبصرین کے مطابق ملک کی سیکورٹی کوبھی خطرات لاحق ہیں۔ بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے کچھ کرنا ہے تو مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم کو روکنے کی بارآورکوششیں کریں۔ جہاں تین چار سالہ نواسے کے سامنے اس کے نانا کو بھارتی فوجیوں نے وحشیانہ طور پرقتل کردیا گیا اورمعصوم نواسہ نانا کی لاش پر بیٹھا ہے اس کو یہ بھی نہیں معلوم کہ رونا ہے یا اس ظلم پر مسکرانا ہے۔ جناب وزیر اعظم ملک کی حالت روز بروز دگرگوں ہوتی جارہی ہے ان معاملات پر توجہ دیں جو وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں