Home » امریکی پالیسیوں کے عالمی اثرات

امریکی پالیسیوں کے عالمی اثرات

by ONENEWS

امریکی پالیسیوں کے عالمی اثرات

امریکہ نے اپنی ماضی کی پالیسیوں پر پر نظر ثانی شروع کردی ہے۔امید ہے کہ کھچاو سے بچنے کے لئے دوسرے ممالک میں مداخلت کی بجائے،امریکہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے گا اور اپنی من مانی دوسروں پر مسلط نہیں کرے گا۔ امریکہ تائیوان کے مسئلے پر پینٹاگون کے ذریعے چین کو سخت پیغام دے چکا ہے۔ اسی طرح روس کے صدر پوٹن کو بھی جو بائیڈن نے سخت فون کیا ہے،مگر پوٹن نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔امریکہ کے نئے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سفارتکاری کا اچھا تجربہ رکھتے ہیں۔انہوں نے آتے ہی افغانستان سے فوجی انخلاکے طالبان سے معاہدے پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔البتہ ایران کے ساتھ عالمی قوتوں کے ایٹمی معاہدے پر قربت کے اشارے مل رہے ہیں، اسرائیل اور فلسطین تنازع کے حوالے سے دوریاستی فارمولے پر بات بڑھتی نظر آرہی ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحہ اورجنگی طیارے نہیں دیں گے۔ جس سے یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی حالات اچھے نہیں ہوں گے۔ بھارت میں مسلم کش فسادات،مساجد کی بے حرمتی اور مسلم شہریت کے حوالے سے متنازع اور متعصبانہ قوانین،مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور آزادی اظہار رائے پر قدغن کی وجہ سے پائی جانے والی تشویش سے بھی خطے میں مزید گشیدگی پیدا ہوگی۔

حیران کن بات تویہ ہے کہ ایران کے ساتھ حالات نارمل کرنے کی ذمہ داری جس شخص کی لگائی گئی ہے وہ باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے رابطے میں رہا ہے۔ وہ اس مسئلے پر آگاہی بھی رکھتا ہے۔ اس طرح مشرق وسطی کے اندر اگر حالات بہتر ہوتے ہیں تو ایران کو امریکہ کے ساتھ موجودہ حالات میں صرف ایٹمی معاہدہ بحال کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ امریکہ کے روایتی مخالف اسلامی جمہوریہ کے مطالبات اس سے زیادہ ہونے چاہیئں۔کیونکہ حالات بہت بگڑ چکے ہیں۔ ٹرمپ کی حکومت کے دوران ایران کے اندر اسرائیلی مداخلت بڑھی ہے۔ عراق میں القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے سربراہ ابو مہدی المہندس کو ساتھیوں سمیت شہید کیا گیا۔ اس طرح سے نامورایرانی  ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادے کوٹارگٹ کلنگ میں شہید کیا گیا۔ان واقعات کے بعد ایران کو صرف پرانا معاہدہ بحال کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ سے معافی مانگنے کی شرط رکھی جائے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران اور عراق کے اندر اہم حکومتی افراد کو شہید کیا گیا جو لوگ اس میں ملوث ہیں انہیں بین الاقوامی قوانین کے شکنجے میں لایا جائے۔

ان حالات میں فرض کریں کہ ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بحال ہو بھی جاتے ہیں۔ ایٹمی معاہدہ 2015ء کی اصل پوزیشن میں آ جاتا ہے تو کیا سعودی عرب، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات یہ سب برداشت کرلیں گے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے کہ کیا اپنے تزویراتی اتحادی (Strategic Partners) کو ناراض کرنا امریکی مفاد میں ہو گا۔میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک یہ برداشت نہیں کریں گے۔چونکہ ایران کے ساتھ دونوں کی مخاصمت بہت پرانی ہے۔

اسی طرح یمن سعودی تنازع کے حوالے سے بھی کافی مشکلات عالمی سطح پر موجود ہیں۔یمن کے لاکھوں انسانوں کو  سعودی اتحادی فورسز کے حملوں میں شہید کیا گیا،ان کے گھر برباد کردئیے گئے۔ سکول کالج بازار برباد کردیے گئے۔یمن میں غربت افلاس بھوک بہت زیادہ ہوچکی ہے۔

پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ امریکہ افغانستان سے تمام افواج نہیں نکالے گا۔ افغان طالبان کے ساتھ جو معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کرگئی تھی، اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح جواب میں افغان طالبان نے بھی حملے ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔یوں مستقبل میں تلخی مزید بڑھے گی۔

ایک بات جو کسی حد تک قابل اطمینان نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جو بائیڈن عمر کے اس حصے میں ہیں  جہاں انسان تحمل مزاجی اور دھیمے انداز سے سوچ سمجھ سکتا ہے۔ کیونکہ جھگڑا اس وقت ہوتا ہے جب عقل اور شعور ختم ہو جائے۔ اور مذاکرات کاکوئی ذریعہ نہ بچے توانسان دست و گریبان ہو جاتے ہیں۔ آج دس بیس سال پہلے کا دور نہیں ہے۔ دنیا بدل چکی ہے۔ امریکہ بھی بدل چکا ہے اور مختلف ممالک کے درمیان جاری سرد جنگ کا بھی اب دور نہیں رہا۔عالمی سطح پر اختلافات کو  مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کو چین اور روس کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اسی طرح سابق امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے ختم کیے گئے معاہدوں کو بھی بحال کرنا چاہیے۔ٹرمپ نے موسمیاتی تغیرات اور عالمی حدت کے معاہدوں سے بھی نکلنے کا اعلان کیا تھا۔ان میں امریکہ کی دوبارہ شمولیت خوش آئند ہے۔اسی طرح جوبائیڈن انتظامیہ نے عالمی ادارہ صحت کے بجٹ کی بحالی کا بھی اعلان کردیا ہے۔اس طرح جن پالیسیوں کا نئی حکومت کی طرف سے اعلان کیا جارہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکہ ایک قوم کی حیثیت سے عالمی سطح پر اجاگر ہوگا۔ جو بائیڈن کے اب تک کے مثبت اقدامات اگر جاری رہتے ہیں توامریکی قوم متحد ہوگی۔ تفریق اور تقسیم کا خاتمہ ہوگا۔

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کھربوں کا بجٹ رکھنے والے امریکہ میں بھی قومی یکجہتی،اتحاد اور اتفاق کی بات کی جا رہی ہے۔اسی طرح پاکستان کی قیادت سے میری گزارش ہے کہ ایک مالیاتی اور عسکری سپر طاقت امریکہ قومی تقسیم سے خائف ہے کہ قومی وحدت اور یکجہتی کے بغیر امریکہ کو نہیں بچایا جاسکتا۔امریکہ کے پاس ایٹمی اسلحہ، سرمایہ اور سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے، لیکن قوم کی تقسیم اگر بڑھ جائے تو صدیوں تک اس اس خلا کو پورا نہیں کیا جاسکے گا۔پاکستان میں بھی حالات کچھ اسی طرح کے ہیں۔ان غیر معمولی حالات میں وزیراعظم عمران خان کے پاس ایک ہی جملہ ہے “این آر او نہیں دوں گا، کسی کو نہیں چھوڑوں گا”۔یہ باتیں وہ اپنے پیش رو حکمرانوں کے بارے میں کہتے ہیں۔ لیکن عوام کے لئے ان کا صرف ایک جملہ ہے کہ” آپ نے گھبرانا نہیں نہیں “۔مہنگائی جتنی ہو جائے اس سے فرق نہیں پڑتا۔بس آپ نے گھبرانا نہیں،لیکن وزیراعظم کا گھبرانا بنتا ہے۔مختلف قومیتوں کے اندرتناو اور گھٹن ہے اور یہ وزیراعظم کے کردار کی وجہ سے ہے۔کیونکہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment