Home » امریکا نے جلدبازی میں ’غیرمفید‘ وینٹی لیٹرز ذخیرہ کیے، رپورٹ

امریکا نے جلدبازی میں ’غیرمفید‘ وینٹی لیٹرز ذخیرہ کیے، رپورٹ

by ONENEWS

کرونا وائرس کی عالمی وبا پھوٹنے کے بعد امریکا نے وینٹی لیٹرز خریدنے کے لیے 3 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس رقم سے امریکا نے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار وینٹی لیٹرز ذخیرہ کیے۔

مگر ایک حالیہ جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے صرف 10 فیصد وینٹی لیٹرز کرونا وائرس کے تشویشناک مریضوں کے لیے استعمال کے قابل ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا نے ابتدا میں وینٹی لیٹرز دوسرے ممالک کو برآمد کرنے پر پابندی عائد کردی تھی جس پر مختلف ممالک نے اعتراض اٹھایا تھا کہ عالمی وبا کی صورت حال میں امریکا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے اور دوسرے ممالک کو وبا سے نمٹنے کیلئے درکار اشیا سے محروم رکھ ہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے ادارے نے امریکا کی جانب سے خریدے گئے وینٹی لیٹرز، ان کے بارے میں کمپنیوں کی فراہم کردہ معلومات اور ڈاکٹروں سے تفصیلی انٹرویوز کے بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق 40 فیصد وینٹی لیٹرز تشویشناک مریضوں کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

کرونا وائرس کے مریضوں میں وینٹی لیٹرز کی ضرورت ان کو پڑتی ہے جن کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہو۔ اس وائرس کے باعث اموات بھی زیادہ تر سانس لینے میں مسائل کی وجہ سے ہوجاتی ہیں۔ اس لیے ان کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹرز پر ڈال دیا جاتا ہے۔

امریکن کالج آف چیسٹ فزیشنز کے جریدے میں شائع ہونے والی ایک اسٹڈٰی میں 22 وینٹیلیٹر ماہرین نے لکھا ہے کہ امریکا کے پاس موجود ذخیرے میں آدھے وینٹی لیٹرز سانس لینے میں شدید دشواری کے مریضوں کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

جان ہاپکنز اسپتال میں سانس سے متعلق بیماریوں کے علاج کے ڈائریکٹر ساجد منظور نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ بہت ساری مشینیں ’تشویشناک مریضوں‘ کی ضروریات پوری نہیں کرتیں اور ان مشینوں نے لوگوں کو ’جھوٹی تسلی‘ دی ہے۔

ان وینٹی لیٹرز و دیگر خریداریوں کی ذمہ داری امریکا کے محکمہ صحت پر عائد تھی۔ محکمہ صحت کی ترجمان نے کہا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے قائم ’انٹرایجنسی ٹاسک فورس‘ نے مارچ میں سفارشات دی تھیں کہ یہ وینٹیلیٹرز خریدیں۔ ان سفارشات میں وینٹیلیٹرز کے ماڈل اور تعداد بھی بتائی گئی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ اس وقت کرونا وائرس کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب تھیں اور محکمہ ’ممکنہ بدترین صورتحال‘ کی تیاری کر رہا تھا۔ مگر ترجمان نے وہ سفارشات خبر رساں ادارے کو فراہم کرنے سے انکار کیا جو محکمہ صحت کو ’انٹرایجنسی ٹاسک فورس‘ نے دی تھیں۔

مگر ترجمان نے یہ تسلیم کیا کہ ابتدائی خریداری کے بعد جب کوویڈ 19 کے علاج کے بارے میں مزید معلومات اور طبی اعداد و شمار سامنے آئیں تو حکومت نے بھی اس کے مطابق اپنی حکمت عملی میں تبدیلی اور کمی و بیشی لائی۔

امریکا کے پاس اس وقت انتہائی نگہداشت کے لیے درکار وینٹی لیٹرز کی بھی قلت نہیں ہے مگر آئی سی یو کے تجربہ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب وسائل محدود ہوں تو حکومت کو صرف ایسی مشینیں خریدنی چاہئیں جو تشویشناک مریضوں سے نمٹنے کے لئے استعمال ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں پوری توجہ صرف ان مشینوں پر ہونی چاہئے تھی جو انتہائی خراب بیماروں کو بچاسکے مگر وبا کے ابتدائی دنوں میں امریکا کے پاس انتہائی نگہداشت میں استعمال ہونے والے وینٹی لیٹرز کی کمی تھی جس کے باعث اموات کی شرح بڑھی۔

You may also like

Leave a Comment