Home »  اماں کو بھکارن بنا دیا! خدارا!  وزیراعظم نوٹس لیں

 اماں کو بھکارن بنا دیا! خدارا!  وزیراعظم نوٹس لیں

by ONENEWS

اماں کو بھکارن بنا دیا! خدارا!  وزیراعظم نوٹس لیں

اپنے آپ کو پاک صاف نیک قرار دینا اور دوسرے پر انگلیاں اٹھانا، کرپٹ اور دو نمبر قرار دینا، رشوت، لوٹ مار کا الزام لگانا ہمارے معاشرے کا معمول ہے، حالانکہ کہا جاتا ہے دوسرے پر ایک انگلی اٹھانے والے کی چار انگلیاں اپنی طرف ہوتی ہیں،لاہور سمیت پنجاب بھر میں بڑھتی ہوئی گداگری کو روکنے کے لئے کچھ ماہ پہلے لاہور ہائی کورٹ نے ہر بڑے شہر کے سی سی پی او کو حکم دیا کہ بڑھتے ہوئے گرا گروں کی روک تھام اور اسباب جاننے کے لئے گرا گروں کی ویلفیئر کا ادارہ قائم کریں اور چوکوں بازاروں میں موجود مانگنے والے مرد، خواتین اور بچوں کو گرفتار کرنے کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ ہائی کورٹ نے اس سے بڑھ کر مانگنے والے افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرنے، بھکاری بننے کی وجوہات تلاش کرنے اور پھر پڑے لکھے بھکاریوں کو روزگار دینے کے لئے بھی منصوبہ سامنے لانے کی ہدایت کی۔لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد شروع ہوا تو سی سی پی او نے لاہور میں چار یا پانچ ٹیمیں تشکیل دیں اور ان کو تھانوں کے کلچر پر عدم اعتماد کرتے ہوئے بااختیار بنایا اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ضلع کچہری، کینٹ کچہری اور ماڈل ٹاؤن لاہور کچہری میں جوڈیشنل مجسٹریٹ کی عدالتیں قائم کیں،اس سے بڑھ کر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے بھکاریوں کے ویلفیئر، تربیت کے لئے رائیونڈ میں ویلفیئر ہوم فار بیگرز کے نام سے ایک ادارہ قائم کر دیا جس میں جوڈیشنل مجسٹریٹ سے سزا پانے والے بھکاری رکھنے، کھانے کی فراہمی اور ویلفیئر کے لئے جامعہ منصوبہ بنایا گیا اور اس ادارے کی انچارج ویلفیئر آفیسر جو کم از کم 17ویں گریڈ کی ڈیوٹی لگا دی گئی۔

جہاں تک تو سارے اقدامات نیک نیتی سے کیے گئے اس کے لئے لاہور ہائی کورٹ، سی سی پی او، ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو خراج تحسین پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ چندحرص کے مارے اہلکار اصلاح کی آڑ میں کس حد تک دانستہ اور نادانستہ مکروہ فعل کے مرتکب  ہو رہے ہیں، چار ماہ پہلے ایک واقع ہوا، مَیں نے واقعی سی سی پی او کی بھکاریوں کی ٹیم کی غلطی سمجھتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی۔کریم بلاک چوک کے پاس ایک اخبار فروش نے اخباروں کا سٹال بنایا ہوا ہے جو صبح7بجے سے11بجے تک موجود رہتا ہے،10بجے مجھے چودھری مشتاق اقبال ٹاؤن والے سینئر اخبار فروش کا فون آیا کہ ہمارے سٹال والے کو پکڑ کر لے گئے ہیں،مَیں نے اشرف نامی ہاکر کے فون پر رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ  میرے پاس ٹوٹے ہوئے پیسے نہیں تھے مَیں چوک میں کھڑے ایک بھکاری سے ٹوٹے ہوئے پیسے،یعنی ریز گاری لے رہا تھا کہ گاڑی آئی تو مجھے اندر پھینکا اور لے گئے۔

خیر مَیں نے ان کے انچارج سے بات کی تو اس نے کہا تھانے جا کر چھوڑ دیں گے اور انہوں نے میری درخواست پر واقعی چھوڑ دیا،مَیں خاموش ہو گیا اب جو واقعات ہوئے ہیں وہ بڑے سنجیدہ ہیں، لمحہ فکریہ یہ بھی ہے ہمارے ایک ملازم کی والدہ حویلی لکھا سے لاہور اپنی بیٹی سے ملنے آئی، شومی  قسمت گزشتہ ہفتے اپنی بیٹی کی تین بیٹیوں کی حالت دیکھ کر نہ رہ سکی اور کہا سردی ہے، مَیں بچیوں کے لئے کپڑے لا دیتی ہوں، وہ مون مارکیٹ چلی گئی وہاں سستے کپڑوں کی ریڑھیاں موجود ہیں، غریب خاتون جس کے پاس کل پونجی دو ہزار روپے تھی، نواسیوں کے لئے لنڈے کی جرسیاں خرید رہی تھیں کہ اس کی غربت کا مذاق اڑاتے اس کے معمولی کپڑے آزمائش بن گئے، پولیس کی گاڑی آئی جس میں بھکاری لدے ہوئے تھے نواب بی بی کو دو اہلکاروں نے زبردستی پکڑا اور گاڑی میں پھینکا اور مون مارکیٹ تھانہ میں بند کر دیا، زندگی میں تیسری دفعہ لاہور آنے والی نواب بی بی پر کیا قیامت گزری وہ روتی رہی، دوہائیاں دیتی رہی کہ مَیں مانگنے والی نہیں، کسی نے نہ سنی، مجھے میرے ملازم نے فون کیا مَیں نے فوری طور پر اپنے دوست اور بڑے بھائی ناظم یونین کونسل عظمت چودھری کو فون کیا اس نے تھانے جانے کا وعدہ کیا، مصروفیت کی وجہ سے وہ نہ جا سکے البتہ انہوں نے منشی کو فون کیا نواب بی بی کو آپ پکڑ کر لائے ہیں اس نے صاف انکار کر دیا، پھر مَیں نے مسلم لیگ(ن) کے جانثار ساتھی اور وائس چیئرمین اپنے بھائی مجید عالم کو فون کیا کہ مَیں لاہور میں نہیں ہوں میرے بندے کی والدہ کو رہائی دلائیں، اللہ بھلا کرے وہ تھانے پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ آپ لیٹ ہو گئے ہیں نواب بی بی  پر سی سی پی او کی خصوصی ٹیم گدا گری کا پرچہ دے چکی ہے۔

ڈی ایس پی کا فون کرایا اس کو کہا گیا سی سی پی او کی ٹیم بااختیار ہے ہمارے تھانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایف آئی آر ہو چکی ہے، مجبور ہیں ضمانت ہوگی، حویلی لکھا سے دو ہزار لے کر بیٹی کو ملنے لاہور آنے والی نواب بی بی پر قیامت گزری گئی، تھانے میں ہی نائب کورٹ مل گئے انہوں نے یقین دلایا کہ فکر نہ کریں صبح ضمانت ہو جائے گی۔ نواب بی بی کے 15ہزار ماہانہ کے ملازم بیٹے کی آزمائش شروع ہو گئی۔ بتایا گیا رات مون مارکیٹ نہیں مزنگ تھانے میں اماں رہے گی، وہاں بستر آپ دیں گے، کھانا آپ دیں گے، رات گزر گئی نائب کورٹ نے چار ہزار نذرانہ لے کر یقین دلایا کہ ضمانت پکی ہے، جوڈیشنل مجسٹریٹ محمد عدیل انور کی عدالت میں پیش کیا گیا، نائب کورٹ نے بیان دیا کہ نواب بی بی غلطی سے پکڑی گئی ہے، بھکارن نہیں ہے، مجسٹریٹ صاحب نے فرمایا پھر  پرچہ درج کیوں کیا؟ اہلکاروں نے بے بسی کا اظہار کیا تو مجسٹریٹ نے کہا مَیں اتنا کر سکتا ہوں کہ اس کو تین دن کی سزا دوں اور گزشتہ دو دن بھی شامل کر دوں تاکہ کل رہا ہو جائے، آرڈر جاری ہو گیا، رائیونڈ گراگروں کے ویلفیئر سنٹر میں اماں کو پہنچا دیا گیا، وہاں بھی میڈم  روبینہ کا جلال قائم تھا، اگلی صبح نواب بی بی کا بیٹا کام کی بجائے ماں کی رہائی کے لئے پہنچا اور مجسٹریٹ کے آرڈر دکھائے اور رہائی کی درخواست کی، میڈم نے کہا تین دن کی سزا ہے ہم نہیں چھوڑ سکتے، روبکار میں کلیئر،11دسمبر کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا، ویلفیئر ہوم فار بیگرز رائیونڈ کی انچارج کا حکم حتمی ٹھہرا اور ایک دن اور قید کاٹنا پڑی، 12دسمبر کو بھی چار بچے چھوڑا گیا،15ہزار کے ملازم کے بیٹے کے 10ہزار لگ چکے تھے اور ماں کو بھکارن کا تین دن کی قید کی صورت میں سرٹیفکیٹ مل چکا تھا اماں جو اَن پڑھ ہے اس کو لاہور اور اس کے رہنے والوں سے بھی خوف آنے لگا ہے، کہاں سے انصاف تلاش کرے کس کو نوٹس لینے کی استدعا کرے۔ کیا لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر بااختیار ٹیمیں بنانے والے سی سی پی او مانیٹرنگ ٹیم ساتھ نہیں بنا سکے، میرا ملازم بتا رہا تھا اماں کی رہائی کے لئے رائیونڈ ویلفیئر سنٹر گیا تو وہاں انہیں ایک صاف ستھرے کپڑوں والا بابا ملا جسے کاہنہ تھانہ سے لایا گیا تھا اُس بزرگ کا کہنا تھا مَیں فروٹ کا کاروبار کرتا ہوں اپنے گاؤں سے کاہنہ آیا اور سٹاپ پر کھڑا تھا، ویگن کا انتظار تھا بیٹی کو ملنے لاہور جانا چاہتا تھا کہ اچانک پولیس وین آئی اور مجھے پکڑ کر اندر پھینک دیا۔

فروٹ منڈی میں ادائیگی کے لئے میرے پاس38ہزار روپے تھے وہ بھی پولیس والوں نے نکال لئے اور کاہنہ میں ایف آئی آر درج کر کے مجھے تین دن کی ماڈل ٹاؤن کچہری سے سزا دلا دی۔ نواب بی بی کے دو ہزار، بزرگ کے38ہزار بھی گئے، بھکاری بننے کا سرٹیفکیٹ زندگی بھر کے لئے مفت مل گیا ہے۔ کوئی حاکم وقت یا عدالت نوٹس لے گی۔ پتہ چلا ہے رائیونڈ ویلفیئر سنٹر میں آنے والوں کی تصاویر بھی لی جاتی ہیں اور متعلقہ تھانوں کو بھی بھیجی جاتی ہیں، اب بے گناہ کس کس کو بے گناہی کا یقین دلائیں گے اور کیسے دلائیں گے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment