Home » الزام تراشی نہیں – انصاف کی اہمیت ہے- جمہوری عمل اختیار کریں

الزام تراشی نہیں – انصاف کی اہمیت ہے- جمہوری عمل اختیار کریں

by ONENEWS

الزام تراشی نہیں – انصاف کی اہمیت ہے- جمہوری عمل اختیار کریں

ہمارے ملک میں جمہوریت ہے، لیکن جمہوری مزاج عنقا ہے۔ جمہوریت میں برداشت سب سے بڑا کلیہ ہے۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ کسی کی تنقید سن کر اسے جانچنے اور پھر مہذب انداز میں اس کا جواب دینا چاہئے اور جو نشان دہی درست ہو اسے مان بھی لینا درست عمل ہے لیکن ہمارے یہاں باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں برداشت اور تحمل نام کی کوئی شے نہیں۔ خصوصاً موجودہ دور میں تو بات دشمنی کی حد تک ہے کہ مسلسل جواب الجواب کی کیفیت ہے۔ تازہ تر چشمک ان تین جے آئی ٹی رپورٹوں کے حوالے سے ہے جو سندھ حکومت کی طرف سے عدالتی حکم اور مسلسل اصرار کے بعد جاری کی گئی ہیں، یہ تین مشترکہ تفتیشی ٹیموں کی رپورٹیں ہیں، جو لیاری گینگ وار والے عزیر بلوچ، سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور چیئرمین شپنگ کارپوریشن مورائی کے حوالے سے ہیں۔ عزیر بلوچ کئی ماہ سے سرکاری تحویل میں ہے اور اس کے خلاف بھتہ خوری، سمگلنگ، قتل اور دیگر الزام ہیں۔ جن کے مطابق اس نے خود اور اس کی ایماء پر قریباً 189 افراد قتل ہوئے جبکہ ایک الزام جاسوسی کا بھی شامل ہے، دوسری جے آئی ٹی رپورٹ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے بارے میں ہے۔ اس میں فیکٹری کے اندر 250 سے زیادہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا اور یہ سب بھتہ خوری کی وجہ سے ہوا، اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں بہت ہی واضع طور پر ایم کیو ایم کے خلاف الزام ہے اور ملزموں کے نام بھی دیئے گئے ہیں، جو ملک سے مفرور ہیں، رپورٹ میں ان کو واپس لا کر ان کے خلاف مقدمات چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ ایک اجمالی سی تصویر ہے جو اب تک قارئین تک پہنچ چکی اور اس حوالے سے تجزیئے بھی کئے جا رہے ہیں، لیکن ہماری سیاست کا یہ کمال ہے کہ ساری بحث لیاری گینگ وار کے حوالے سے ہو رہی ہے، تحریک انصاف کے حضرات (خصوصاً علی زیدی) پوری طاقت پیپلزپارٹی کو ملوث کرنے پر لگا رہے ہیں اور پیپلزپارٹی دفاع کے ساتھ ساتھ جوابی حملے کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی پیش نظر رہے کہ عزیر بلوچ کے خلاف مقدمات درج ہیں، اور سانحہ بلدیہ کی تفتیش بھی کئی بار ہو چکی، دکھ کی بات یہ ہے کہ ان 250 سے زیادہ افراد کے زندہ جلانے کی کوئی اہمیت نہیں اور عزیر بلوچ کا مسئلہ ملک بھر کے تمام مسائل پر بازی لے گیا ہے۔ حالانکہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین مرحومین کے لواحقین اب تک انصاف کو ترس رہے ہیں۔ اس سانحہ کے ملزم بھی سامنے ہیں، تفتیش رہی اپنی جگہ، کراچی کے عوام اور متاثرین ہی سے پوچھ لیا جائے تو سب واضع ہو جاتا ہے ایم کیو ایم اس سانحہ سے انکار کرتے ہوئے بھی الزام سے جان نہیں چھڑا سکتی کہ ایک سے زیادہ بار ہونے والی تفتیش میں انہی کا نام آتا ہے۔ اب یہ کیسی مصلحت ہے کہ ایم کیو ایم کو بانی اور متحدہ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایک کو لندن اور دوسری کو متحدہ ایم کیو ایم کہا جاتا ہے

جو حضرات متحدہ کے پلیٹ فارم پر آ گئے ان کو پناہ کی چھتری مل گئی، ان کے سارے گناہ دھل گئے لیکن یہ ممکن نہیں کہ کراچی میں صرف ایک سانحہ بلدیہ ہی تو نہیں اور بھی بہت سے حادثات ہیں اور پھر متحدہ والوں نے اب تک گناہوں کا اعتراف کر کے نہ تو بانی کو ملزم ٹھہرایا اور نہ ہی مفروروں کے حوالے سے کوئی بات کی۔ خود ان کی کمیٹی کے اراکین جو وفاقی وزیر تھے۔ امریکہ جا کر بیٹھے ہوئے ہیں، تحریک انصاف والوں کو نہ تو یہ نظر آ رہے ہیں اور نہ وہ دکھائی دیتے ہیں جو ملک سے باہر ہیں۔ محترم ڈاکٹر عشرت العباد بھی تو ہیں جو طویل عرصہ تک گورنر رہنے کا ریکارڈ بنائے ہوئے دوبئی میں مقیم ہیں، ن کا نام دس بار آیا آج تک کسی جے اءٓی ٹی نے بھی ان کو نہیں پوچھا کیا یہ سب اس لئے ہے کہ متحدہ اب تحریک انصاف کی حلیف ہے، اور اس کے چار ارکان میں دو وفاقی وزیر ماشاء اللہ یہ سب اپنی جگہ، لیکن مسئلہ تو اس وقت عزیر بلوچ ہے جسے پیپلزپارٹی کے ساتھ ملوث کرنا مقصود ٹھہرا، چلیں یہ بھی سہی، قارئین خود جانتے ہیں کہ جب ذوالفقار مرزا سندھ حکومت میں وزیر داخلہ تھے تو وہ کس طرح دندناتے ہوئے لیاری جا کر جلسے کرتے اور عزیر بلوچ کا ہاتھ تھام کر لہراتے اور ان کے ساتھ دوستی اور وفاداری کا اعلان کرتے تھے ان کو کس نے پوچھا؟ وہ تو اب جی ڈی اے کے معزز رکن اور وفاقی حکومت کے حلیفوں میں شامل ہیں، ان کی اہلیہ وفاقی وزیر بھی ہیں، یہ علی زیدی ان کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے۔

یہ معاملہ انصاف کی دہلیز پر سیدھا سادا ہے۔ تفتیش ہوئی۔ ایک رپورٹ موجود اور مقدمات درج ہیں ان کی منصفانہ سماعت ہونا چاہئے جس جس کے خلاف بھی الزام بنے اسے جواب دہ ہونا چاہئے کہ یہی منشاء ہے، اور انصاف بھی یہی ہے۔ عزیر بلوچ کے خلاف جاسوسی کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ اس کی سماعت فوجی عدالت کے دائرہ اختیار میں بتائی گئی ہے تو پھر فوجی عدالت ہی کو سماعت کرنے دیں۔ بلکہ ایک خصوصی اعلیٰ سطحی فوجی عدالت تشکیل دے لی جائے جو سب ملزموں کو خواہ کوئی بھی ہو، طلب کر کے باقاعدہ سماعت کرے کہ دہشت گردی کی دفعات بھی اس عدالت کو با اختیار بنا دیتی ہیں۔

اب جو سیدھی بات ہے وہ یہ ہے کہ انصاف ہے تو پھر انصاف ہوگا، سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور مورائی کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی رپورٹوں پر عمل کیا جائے۔ ایم کیو ایم کے مفرور ملزموں، وزراء بانی اور یہاں موجود ان کے ساتھیوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عشرت العباد کا صرف دوبئی میں بیان کافی نہیں، ان کو بھی تو تفتیشی مراحل سے گزارا جائے اور یہ جو ذوالفقار مرزا ہیں۔ا ن کو بھی تو کٹہرے میں لے آئیں۔ دکھ تو الیکٹرونک میڈیا پر بھی ہے جس کی ساری توجہ ایک ہی رپورٹ پر ہے، یہ ذوالفقار مرزا کے ان جلسوں کی فوٹیج کیوں نہیں چلاتے؟ جو عزیر بلوچ کے گھر جا کر کئے جاتے اور عزیر بلوچ کا ساتھ دینے کے اعلان ہوتے تھے۔ یہ سب اتنا سادہ معاملہ نہیں۔ انصاف کرنا ہے تو انصاف کریں، ڈنڈی ماریں گے تو اللہ اور عوام کو جواب دہ ہوں گے۔ یہ گزارشات اس عرض پر ختم کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین خود اپنی غلطیوں اور اقدامات سے ختم اور رسوا ہوتے ہیں۔ الزام اور انتقام سے کبھی ختم نہیں ہوتے، نہ ہی کسی کو پھانسی لگانے سے اس کی حیثیت اور شہرت کم ہوتی ہے۔ اس لئے براہ کرم اگر جمہوریت ہے تو جمہوری عمل بھی ہونا چاہئے یہی راہ نجات ہے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment