0

اقبال کی ایک پہیلی

آج کل کی نانیاں اور دادیاں اپنے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کو وہ بجھارتیں اور پہیلیاں نہیں سناتیں جو ہمارے زمانے میں سنایا کرتی تھیں۔ماضی کی وہ بچگانہ حیرتیں اور معصومانہ مسرتیں جو ہمارے دور کی نانیوں اور نواسیوں کی آنکھوں میں پائی اور دیکھی جاتی تھیں، اب وہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتیں۔ آج کل کا منظر نامہ یہ ہے کہ اپنے اپنے بیڈ روم ہیں، سامنے ٹیلی ویژن دھرے ہوئے ہیں، ہاتھوں میں موبائل ہیں اور انہی پر نگاہیں مرکوز رہتی ہیں۔ کئی نامطلوب معلومات اور ناطلبیدہ اطلاعات کی فراوانیوں نے وہ شبانہ فراغتیں اور فرصتیں معدوم کر دی ہیں جو دو نسلیں پہلے عام دیکھی، سنی اور پائی جاتی تھیں۔

کل مجھے اپنے دور کی بعض بجھارتیں یاد آئیں اور پھر آتی چلی گئیں۔ پنجابی اور اردو کی یہ پہیلیاں گویا ایک متعدی مرض تھیں یا ایک کورونائی وائرس تھیں جو ایک بچے سے دوسرے بچے کو اور ایک فرد سے دوسرے فرد کو لگ جایا کرتا تھا۔ ہم اپنی نانی اماں سے کوئی پہیلی سن کر ”پلّے“ باندھ لیتے اور پھر دوست احباب اور رشتہ داروں کو سنا سنا کر ان کی ”کم علمی“ سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔ سب سے زیادہ خوشی اس وقت ملتی جب ہمارے سینئرز کوئی بجھارت سن کر ہاتھ کھڑے کر دیتے اور کہتے: ”بابا! میں ہارا……اور تم جیتے…… اب بتاؤ کہ اس کا جواب کیا ہے“…… اور ہم بڑے فخر سے سینہ پھلا کر جب جواب ”عنائت“ کرتے تو سینئرز کی ”علمی کم مائیگی“ اور اپنے ”علم و فضل“ پر اتراتے نہ تھکتے۔

سب سے قدیم بجھارتیں پنجابی زبان میں ہوتیں۔لیکن جب بڑی کلاسوں (چہارم، پنجم، ششم) میں گئے تو اردو کی پہیلیاں بھی یکساں دلچسپی کے ساتھ سنی سنائی جاتی تھیں۔ امیر خسرو کی پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں تو باقاعدہ اردو ادب کا حصہ تھیں۔ ہم موسم گرما کی تعطیلات میں اپنے ننیھال(قصور) جاتے تو جولائی اور اگست کے مہینے ساون، بھادوں کے مہینے ہوتے۔ لگاتار بارشیں ہوتیں۔ رشتے داروں کے ہاں جاتے تو ان کے گھروں کے صحن میں نیم کا ایک بڑا سا درخت بھی ہوتا جس میں زرد زرد رنگ کی میٹھی نبولیاں کھا کھا کر ہمارا ”بُرا حال“ ہو جاتا اور امیر خسرو کی یہ پہیلی بہت یاد کیا کرتے:

تَرور سے اک تِریا اتری اس نے بہت رجھایا

باپ کا نام جو پوچھا اس سے، آدھا نام بتایا

آدھا نام پِتا پر مورا، بوجھ پہیلی موری

امیر خسرو یوں کہویں ہیں، میرا نام نہ بولی

جب پانچویں کلاس میں گئے تو ہمارے قصوری کزن نبولیاں کھاتے کھاتے ہم سے یہ بھی پوچھتے کہ اس پہیلی میں جو مشکل الفاظ آئے ہیں وہ کس زبان کے ہیں اور کس کتاب میں پڑھے ہیں؟ ہم پوچھتے کون سے؟ تو ان کا اگلا سوال ہوتا: مثلاً تَرور، تِریا، پِتا اور نہ بولی…… ہم اسی شب نانی اماں سے جا کر یہ سوال کرتے اور اگلے روز اپنے عم زادوں کو ان کے نہ پوچھنے کے باوجود کسی نہ کسی بہانے ان الفاظ کے معانی بتا دیتے اور کہتے کہ تَرور ایک درخت کا نام ہے جو نیم کے درخت کی طرح کا ہوتا ہے۔ اس کی چھال سے کپڑے رنگے جاتے ہیں اور اس کا پھل اگر کچا ہو تو انتہائی کڑوا اور پک جائے تو انتہائی میٹھا ہوتا ہے……تِریا کا مطلب ہے عورت اور ”تِریاہَٹ“ایک مشہور محاورہ ہے جس کا مطلب ہے: عورت کی ضد…… اسی طرح نہ بولی (نبولی) نیم کے پھل کو کہا جاتا ہے یعنی شاعر (امیر خسرو) کہہ رہا ہے کہ: ”میرے باپ کا نام آدھا ہے اور باقی آدھا تم بُوجھ لو…… میں تو نہ بولوں گا“۔……(فارسی میں ”نیم“ کا مطلب ہے آدھا جیسے نیم حکیم، خطرۂ جان، نیم ملا، خطرۂ ایمان…… اور نیم گرم پانی وغیرہ…… ہم اس طرح کی اپنی معصومانہ اور بچگانہ فضیلتیں جھاڑ جھاڑ کر اپنے کزنوں کو بزعمِ خویش حیران و پریشان کر دیا کرتے تھے!…… اب وہ حیرانیاں اور وہ پریشانیاں کہاں ہیں جو بے ضرر ہوتی تھیں؟…… اب تو ہر حیرانی نقصان دہ اور ہر پریشانی مضر ہو چکی ہے!……اب ہمارے نواسوں، نواسیوں، پوتوں اور پوتیوں کی حیرانیاں اور پریشانیاں سچ مچ کی نقصان دہ حیرانیاں بن گئی ہیں۔ اب ہم اس نسل کو کیسے سمجھا سکتے ہیں کہ فارسی، اردو اور برج بھاشا کے شعراء آئینے کو حیران کیوں باندھتے تھے، تب آئینہ حیران کیوں ہوتا تھا اور اب کیوں نہیں ہوتا۔ اور وہ پریشانی کہاں ہے جو اقبال کے اس شعر میں پائی جاتی ہے:

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

جو مشکل اب ہے یارب! پھر وہی مشکل نہ بن جائے

یا غالب کے اس شعر میں ”پریشانی“ کا ”سہ پہلو“ مفہوم کیا ہے:

بوئے گل، نالہ ء دل، دودِ چراغِ محفل

جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا.

آج کل اگر کوئی دوست یہ پوچھ لے کہ: ”آپ پریشان کیوں ہیں“ تو اس کا وہ مطلب جو اقبال اور غالب نے درجِ بالا اشعار میں استعمال کیا ہے، وہ نہیں ہوگا۔ البتہ اس سے ملتا جلتا اردو اور فارسی میں ایک لفظ ”پشیمان“ بھی ہے۔ پریشان ہونے اور پشیمان ہونے میں جو فرق ہے اس کی تشریح و تعبیر کو فی الحال ایک طرف رکھ کر اقبال کی ایک پہیلی کی بات کرتے ہیں۔ اقبال کی یہ پہیلی پنجابی یا اردو / ہندی پہیلیوں کے برعکس فارسی میں ہے اور چھوٹے بچوں کی بجائے ”بڑے بزرگوں“ کے لئے ہے اور بزرگ بھی وہ جو عمر کے اعتبار سے بے شک بزرگ نہ ہوں لیکن عقل و دانش اور شعور و ادراک کے تناظر میں بھی بزرگ ضرور ہوں …… پہیلی کسی بھی زبان میں ہو، اس میں دو باتوں کا از بس خیال رکھا جاتا ہے…… ایک یہ کہ مختصر ہو اور دوسری ذومعنی ہو…… اقبال کی اسی بجھارت میں یہ دونوں صفات بدرجہ ء اتم پائی جاتی ہیں۔ یہ پہیلی فارسی کے ان تین اشعار پر مشتمل ہے:

پانی سے نکلنے کے لئے کیا مشکل کام ہے

خضر کو سکندر جیسا ہونے کی ضرورت نہیں ہے

مثلِ نگاہ، دیدۂ نمناک، پاک رُو

اس کا پانی اور اسکرٹ کی تلاش نہیں کی جاتی ہے

مضمونِ او بہ مصرعِ برجستہ ء تمام

یہ اب قابل قبول نہیں ہوگا

(مکرر عرض ہے کہ یہ بات ذہن میں رکھیئے کہ پہیلیوں کے الفاظ کے دو یا دو سے زیادہ معانی ہوتے ہیں)…… اب ان اشعار کا اردو ترجمہ دیکھئے:

1۔ وہ سخت کوش چیز کون سی ہے جو پتھروں سے آب (پانی) حاصل کرتی ہے اور سکندر اعظم کی طرح کسی خواجہ خضر کی محتاج نہیں ہوتی۔

2۔جس طرح آنسوؤں بھری آنکھوں میں نظر (نگاہ) پاک صاف اور خشک رہتی ہے، اسی طرح وہ چیز بھی آب (پانی) کی ندی میں ڈوبتی تو ہے لیکن پھر بھی اس کا دامن تر نہیں ہوتا۔

3۔اس کا سارا مضمون صرف ایک مصرع ہی میں ختم ہو جاتا ہے اور اسے مضمون کی تکمیل کے لئے دوسرے مصرعے کی ضرورت نہیں رہتی۔

آپ درجِ بالا ”چیز“ کو تلاش کرنے میں جتنا بھی سرکھپا لیں، اس بجھارت کا جواب نہیں پا سکیں گے اور آخر کار آپ کو ہاتھ کھڑے کرنے پڑیں گے اور کہنا پڑے گا: ”جناب! میں ہارا، آپ بتائیں کہ یہ ’چیز‘ کیا ہے“…… تو حضور یہ تلوار کی پہیلی ہے جو اقبال کی فارسی تصنیف ”پیامِ مشرق“ میں درج ہے اور اس کا عنوان ہے: ”چیستانِ شمشیر“…… (فارسی میں پہیلی کو چیستان کہا جاتا ہے) جیسا کہ میں نے دوبار اوپر کی سطور میں عرض کیا پہیلی کہنے یا بنانے والا الفاظ کی ذومعنویت سے کھیلتا ہے…… اب اس پہیلی کے متن کی طرف آیئے۔

پہلے شعر میں کہا گیا ہے کہ ”یہ ’چیز‘ وہ ہے کہ پتھر سے آب حاصل کرتی ہے“…… فارسی میں لفظ ”آب“ کے دو معانی ہیں۔ ایک تو پینے کا پانی ہے اور دوسرا آب و تاب یا چمک ہے۔ پہیلی سننے والے کی توجہ پہلے معنی (یعنی پانی) کی طرف جاتی ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ یہ ”چیز“ پتھر سے پانی (آب) کیسے حاصل کرتی ہے؟…… پھر اگلے مصرعے میں سکندر،خضر اور آبِ حیواں کے چشمے کا ذکر ہے اور اس مصرعے سے بھی سامع کی توجہ پانی (آبِ حیات) پر ہی مبذول رہتی ہے۔

دوسرے شعر میں بھی ”آب“ کا مغالطہ بیان کیا جاتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جس طرح آنکھ کے اندرآنسو، پانی کی ندی کی طرح بہہ رہے ہوں لیکن نظر پھر بھی بہتے پانی میں خشک رہتی ہے اور باہر کی ہر چیز یہ ”دیدۂ نمناک“ دیکھ لیتا ہے۔ اب تلوار کے خواص کی طرف نظر دوڑایئے۔ اس کی آب و تاب اور چمک دمک بھی شفاف بہتے پانی کی طرح لہریئے دار ہوتی ہے۔ جب تلوار لہرائی جاتی ہے تو اس کی آب (چمک) نگاہوں کو خیرہ کرتی ہے۔ لیکن شمشیرِ برہنہ اس آب و تاب کی ندی میں بھی خشک رہتی ہے۔ یعنی یہ بیک وقت تر بھی ہے اور خشک بھی۔ جوئے آب کے دو معانی ہیں۔ ایک پانی کی ندی اور دوسرا چمک دمک کی ندی۔ تلوار جتنی زیادہ آبدار (چمکدار) ہو گی اس کی کاٹ اتنی ہی زیادہ مہلک ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ تلوار اپنے شکار کو ہلاک کرنے کے بعد اسی آب و تاب سے واپس باہر نکل آتی ہے جس طرح وہ ہلاک کرنے کے لئے جسم میں داخل ہوئی تھی۔ تلوار ایک ایسی نگاہ ہے جو نہانے کے بعد بھی نم نہیں ہوتی بلکہ خشک رہتی ہے۔

اور تیسرا شعر بہت ہی فکر انگیز ہے۔ پہیلی کہنے والا بتا رہا ہے کہ تلوار کا سارا مضمون، مفہوم اور مدعا صرف ایک مصرعہ پر مکمل ہو جاتا ہے اور اسے مصرعہ ء ثانی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر شعر کے دو مصرعے ہوتے ہیں اور دونوں باہم مل کر ایک مضمون ادا کرتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ صرف ایک مصرعہ میں مکمل مضمون بن جائے۔ لیکن تلوار ایک ایسا مضمون (ہتھیار) ہے کہ اس کا ایک ہی کارگر وار اپنے شکار کا کام تمام کر دیتا ہے اور اس کو دوسرے وار کی ضرورت نہیں ہوتی۔

حفیظ جالندھری نے شاہنامہ کی جلد سوم میں حضرت طلحہؓ کی تلوار کی ایک خوبی ایسی بیان کی ہے کہ جس سے اقبال کے اس تیسرے شعر کے معانی کی توثیق ہو جاتی ہے۔ حضرت طلحہؓ ایک کافر کے سر پر تلوار کا وار کرتے ہیں۔ کافر نے اگرچہ زرہ بکتر پہن رکھی ہوتی ہے لیکن حضرت طلحہؓ کا وار اس قدر زوردار ہوتا ہے کہ کافر کا کام ایک ہی وار میں تمام ہو جاتا ہے۔ ذرا دیکھئے حضرت حفیظ نے اس ایکشن کو صرف دو اشعار میں کس طرح سمو دیا ہے:

سروگردن سے کیا لینا تھا اس تیغِ ہلالی کو

کہ یہ تو آئی تھی قلب و جگر کی دیکھ بھالی کو

زرہ بکتر کی ہر الجھن کو سلجھا کر نکل آئی

بزیرِ ناف سیدھا راستہ پا کر نکل آئی

تو پیارے بچو! پہیلی ختم، پیسہ ہضم

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں