Home » افغانستان میں کیا ہونے والا ہے (2)

افغانستان میں کیا ہونے والا ہے (2)

by ONENEWS

افغانستان میں کیا ہونے والا ہے (2)

طالبان کے نقطہ ء نظر میں دوسری باتیں مثلاً خواتین کی آزادی، تعلیم اور ایڈمنسٹریشن وغیرہ زیادہ اہم موضوعات نہیں اور وہ ان پر بحث و مباحثہ وغیرہ کرنے کو رضامند ہیں ان معاملات میں مغربی نقطہ ء نظر اور روایات و اقدار کو تسلیم کرنے کے مخالف ہیں۔ طالبان کے خیال میں افغانستان کی موجودہ حکومت بغاوت کی پیداوار ہے اور اس کا محاسبہ ہونا لازمی ہے اور اس کے لئے کڑی سزاؤں کے حق میں بھی طالبان کسی سمجھوتے کے لئے تیار نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ایک بیرونی طاقت کی مدد سے برسراقتدار ہے اور وہ طاقت اس موجودہ حکومت کو جو غیر قانونی ہے۔ بلاوجہ سہارا دے رہی اور مدد کر رہی ہے۔

طالبان سمجھتے کہ موجودہ افغان حکومت کے وہ تمام بڑے بڑے کردار لائقِ تعزیر ہیں جن پر مقدمہ چلا کر ان کو ان کے جرائم کی سزا دینی چاہیے۔

موجودہ حکومت کا فوکس تو اس بات پر ہونا چاہیے کہ ان کو ان کی طرف سے وارد کئے گئے افغان عوام پر فریبوں اور دھوکے بازیوں کی سزاؤں میں کس طرح کی معافی یا ترّحم کی امید رکھنی چاہیے…… آیا ان کو کسی دوسرے ملک میں، ملک بدر کر دیا جائے یا ان کو عام معافی دے دی جائے۔ ان کو اس بات کی بھی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ اب بھی کسی امن معاہدے کی رو سے مسئلہ افغانستان کے مستقبل کے حل میں کوئی معروضی رول ادا کریں گے۔ یہ خیال کرنا کہ موجودہ افغان حکومت کوئی ایسی اکائی ہے جو مستقبل میں ریاست کے معاملات میں کسی بھی قسم کے انتظامی کنٹرول کی حق دار ہو گی ایک خیال خام اور خود فریبی کے مترادف ہوگا اور اس کے نتائج بھی اسی حساب سے فریبِ نظر کے سوا اور کچھ نہیں ہوں گے۔

امریکی پس قدمی سے توقعات

امریکہ کو افغانستان میں جنگ کرتے ہوئے 19برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب آہستہ آہستہ اس کی ’جنگی بھوک‘ ختم ہوتی جا رہی ہے اس لئے وہ مستقبل قریب میں افغانستان سے پس قدمی جاری رکھے گا۔ لیکن اگر امریکہ، طالبان سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان میں مزید قیام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا سامنا براہِ راست عسکریت پسندوں سے ہوگا جس کی وجہ سے خونریزی اور قتال و جدال میں اضافہ ہوگا۔ لیکن امریکہ اگر جنگ کرتے کرتے تھک چکا ہے تو وہ ایک بار پھر پس قدمی کی طرف لوٹے گا، شائد چھ ماہ بعد یا ایک سال کی مزید گھمسان کی جنگ کے بعد…… لیکن تب دیر ہو جائے گی اور یہ پس قدمی کسی بھی مرتب اور مربوط انداز سے ممکن نہیں رہے گی۔

امریکہ افغانستان سے آج نکلے یا بعد میں کسی وقت نکلے، افغانستان کی موجودہ حکومت کا سقوط نوشتہء دیوار ہوگا۔ اس اخراج کے بعد نسلی اور نظریاتی جھڑپیں شروع ہو جائیں گی جو سول وار (خانہ جنگی) پر منتج ہوں گی۔ ہزارہ اور شیعہ برادریاں / قومتیں ایران سے سپورٹ حاصل کریں گی جبکہ پاکستان، طالبان کی مدد کرے گا یا ایسا کرنے پر مائل یا مجبور ہو گا۔ چنانچہ حفظ ماتقدم کا تقاضا ہے کہ ایران اور پاکستان دونوں مل کر ایک معاہدہ کر لیں کہ افغانستان کو اپنا فیصلہ خود کرنے دیا جائے اور ایسا کرتے ہوئے افغانستان کے تمام دھڑے اپنے ملک کی حدود کے اندر رہیں اور باہر سے کوئی اور فریق ان کی مدد کو نہ آئے۔

چنانچہ حالات کچھ بھی ہوں آنے والے چھ ماہ افغانستان کے لئے نہائت اہم اور کرٹیکل ہوں گے اور خطے پر ان کے اثرات دور رس بھی ہوں گے اور دیرپا بھی۔

اب کہا جا رہا ہے کہ ایک بار پھر طالبان اور دوسرے سٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات از سرِ نو شروع ہونے والے ہیں۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ان مذاکرات میں حصہ لینے والی پارٹیوں میں سے کوئی ایک پارٹی بھی اتنی طاقتور نہیں ہوگی جتنی کہ طالبان ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر طالبان کی بات تسلیم نہ کی گئی تو مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے اور ایک پائیدار اور مستقل امن کا حصول ایک خواب بنا رہے گا۔ یہ معاملہ اس وقت تک لٹکتا رہے گا جب تک کوئی ایسا حل تلاش نہیں کر لیا جاتا جو طالبان کی تسلی کر سکے اور گراؤنڈ پر اس کا نفاذ بھی ممکن ہو سکے۔ یہ صورتِ حال اس وجہ سے ہو گی کہ طالبان کی عسکری جمعیت و قوت ان کی مذاکراتی گنجائش اور پوزیشن کو قوت عطا کرے گی۔ اور اگر وہ اپنی اس قوت سے فائدہ نہ اٹھا سکے تو ان سے بڑا بے وقوف کوئی دوسرا نہ ہوگا یا وہ کسی ایسے حل پر صاد کریں کہ جس کے ثمرات ان کے حق میں بہتر نہ ہوں!تو پھر بھی وہ عقل کے اندھے کہلائیں گے!

یہ بات حیران کن ہے کہ بہت سے تجزیہ کار افغانستان کے مسئلے کے بہت سے حل سامنے لے کے آ جاتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہی حل معروضی اور بہتر حل ہیں۔ مثلاً مستقبل قریب میں یعنی مئی 2021ء تک امریکہ افغانستان سے چلا جائے گا…… طالبان موجودہ افغان حکومت پر غلبہ حاصل کر لیں گے…… انڈیا افغانستان چھوڑ جائے گا کیونکہ صورت حال اس کے یہاں ٹھہرنے کے امکانات ختم کر دے گی…… اور افغانستان میں ایک نیا آئین متعارف کروا دیا جائے گا، جو اسلامی شریعت کے عین مطابق ہوگا۔

افغانستان میں طوائف الملوکی اور پاکستان کے لئے نئے چیلنج

اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ شمالی اتحاد کے خلاف پرتشدد مظاہرے شروع ہو جائیں گے اور جو لوگ موجودہ حکومت کے حامی ہیں وہ انارکی کی سی صورتِ حال پیدا کر دیں گے۔ وہ عمّالِ حکومت اور کارندے جن کا تعلق برسراقتدار موجودہ حکومت سے ہے وہ یا تو ملک سے بھاگ کر کہیں اور چلے جائیں گے یا یہیں ٹھہریں گے اور ان کے خلاف بعد میں مقدمات چلائے جائیں گے اور ان کو بغاوت کے جرم میں سزائیں دی جائیں گی اور ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ افغان نیشنل آرمی اور سیکیورٹی کے دوسرے ادارے تحلیل کر دیئے جائیں گے۔ ان کی نفری یا تو راہِ فرار اختیار کر جائے گی یا طالبان سے مل جائے گی۔ داعش اور ISISافغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)سے مل جائیں گے۔

اور لوٹ مار کا بازار گرم ہو جائے گا،لیکن  یہی لوگ ہوں گے جو ملک کے ریونیو کا باعث بنیں گے اور اپنی شرانگیزی کی قدر (Value) کے سبب اپنا آپ منوائیں گے۔ ان کی یہ حیثیت  ان کو آگے چل کر سودے بازی میں نفع پہنچائے گی، ان کی پوزیشن مستحکم کرے گی اور مستقبل میں افغانستان کی سیاسیات اور مین سٹریم انتظامیہ کا حصہ بن جائے گی۔

پاکستان کے لئے یہی صورتِ حال ایک سیّال کیفیت پیدا کر دے گی۔ سرحد کے آر پار آنے جانے کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور جرائم کی تعداد بڑھ جائے گی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تشدد کا گراف اوپر چلا جائے گا اور گلگت بلتستان پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو حفظ ماتقدم کے طور پر ضروری اقدامات اٹھانے پڑیں گے، سڑکیں اور دوسرے ذرائع مواصلات کو لیویز اور پولیس کی مدد سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہوگی اور دیہی علاقوں تک میں دفاعی انتظامات اٹھانے ناگزیر ہو جائیں گے۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستان اس گیم میں ایک موثر کھلاڑی ہو گا، اس لئے افغانستان کی تعمیرِ نو میں مدد دے سکے گا، اس کو انفراسٹرکچر، مواصلات اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں سپورٹ دے سکے گا۔ افغانستان کی معدنیات کے مراکز، تعلیم اور کان کنی کی صنعت میں بھی پاکستان مختلف طرح کے پیکیج آفر کر سکتا ہے۔ افغانستان کو اپنی سیکیورٹی فورسز اور افغان پولیس کی ٹریننگ کی طرف بھی پوری توجہ مبذول کرنا ہوگی۔پاکستان میں افغان مہاجرین کیمپوں کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں افغانستان منتقل کرنا پڑے گا۔ البتہ اس عمل میں پاکستان ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ کے حوالوں سے افغانستان کی مدد کر سکے گا۔

سال 2021ء کا نصف آخر افغانستان کے لئے ایک چیلنج بھی ہوگا اور ایک سنہری موقع بھی۔ افغانستان، وسط ایشیائی ریاستوں کو اس (ریجن) کے دوسرے ممالک سے منسلک و مربوط کرنے میں ایک کردار ادا کر سکے گا۔ تیل، قدرتی گیس اور دوسری بہت سی معدنیات کی درآمد و برآمد کے دروازے کھل جائیں گے۔ انرجی اور بجلی کے پیداوار کے امکانات میں بے پناہ اضافے کی توقعات ہیں جس سے خطے کو باہم مربوط و منسلک ہونے کے مواقع میسر آئیں گے۔

یہ ایام اور یہ ماہ و سال پاکستان کے لئے بڑی آزمائش کے ایام ہوں گے۔ پاکستان ان سے کس طرح کا فائدہ اٹھاتا ہے اپنے بارڈر کو کس طرح مستحکم رکھتا ہے، ملکی استحکام کی حفاظت کس طرح کرتا ہے اور CPECکو کس انداز سے زیادہ مضبوط بناتا ہے یہ تمام عوامل آنے والے ایام میں بہت اہمیت اختیار کر جائیں گے۔(ختم شد)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment