Home » افغانستان میں کیا ہونے والا ہے (1)

افغانستان میں کیا ہونے والا ہے (1)

by ONENEWS

افغانستان میں کیا ہونے والا ہے (1)

معلوم ہوتا ہے امریکہ ابھی تک دنیا کی واحد سپریم پاور ہونے کے اپنے زعم / حصار سے باہر نہیں نکل سکا۔ اس کا یہ زعم کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر وہی سب سے بڑا فاتح ہو کر نکلا تھا۔1950ء کے عشرے میں کوریا کی جنگ میں اس کا مقابلہ روس اور چین سے تھا۔1960ء کی دہائی میں ویت نام کی جنگ میں بھی اس کا بالواسطہ مقابلہ سوویٹ یونین اور چین سے تھا  اس لئے اس نے اپنی شکست کے یہ اسباب تسلیم کر لئے تھے۔

اس کے بعد امریکہ نے 1980ء کے عشرے میں پاکستان اور مجاہدین کی مدد سے سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی اور جب 21ویں صدی کا آغاز ہوا تو امریکی کامیابیوں کی گویا لائن لگ گئی…… افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں اس کی یلغاروں نے دنیا کو دم بخود کرکے رکھ دیا۔ لیکن پھر جلد ہی افغانستان میں اس کی فتوحات کا خمار اترنے لگا۔ امریکیوں کے سامنے یہ بات تو آئینہ تھی کہ افغان وار میں روس اور چین افغانیوں کی پشت پر نہیں تھے لیکن دوسری طرف سارا مغربی یورپ ناٹو کی شکل میں ان کے ساتھ تھا۔ دوسرے لفظوں میں پوری مغربی دنیا امریکہ کی طرف دار تھی۔ ایک عرصے تک بظاہر پاکستان بھی امریکہ کے ساتھ رہا اور انڈیا تو روز اول سے امریکہ کا حواری بن کر کابل و ہرات و قندھار میں آن بیٹھا تھا۔ لیکن 19، 20برس کی جنگ کے بعد بھی جب ننگ دھڑنگ افغان ڈٹ گئے تو امریکہ کو اپنی عسکری سٹاک ٹیکنگ کرنا پڑی۔ اس نے ہاتھ پاؤں تو بہت مارے لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا…… یہ داستان طویل ہے اور قارئین کو اس کی ساری تفصیل بھی (تقریباً) معلوم ہے……

یہی وجہ تھی کہ ٹرمپ نے کوریا اور ویت نام کے بعد افغانستان میں اپنی ہزیمت کو تسلیم کیا اور اپنی افواج واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ اب ٹرمپ رخصت ہو چکے ہیں اور جوبائڈن تختِ امریکہ پر جلوہ افروز ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں اب صرف 2500امریکی فوجی باقی رہ گئے ہیں اور ایک اندازے اور معاہدے کے مطابق وہ بھی اس برس 31مئی تک واپس چلے جانے ہیں۔خیال تھا کہ ایسا ہی ہوگا لیکن نئے صدر نے اچانک افغانستان کی اس ساکن جھیل میں پتھر پھینک دیا۔

اب امریکہ کی طرف سے خبریں آ رہی ہیں کہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ اس معاہدے کا از سر نو جائزہ لے گی جو دوحہ (قطر) میں فروری 2020ء میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہوا تھا اور جس میں مئی 2021ء تک تمام امریکی ٹروپس کو واپس چلے جانا تھا۔بائیڈن کا نیا سیکیورٹی مشیر جیک سلی وان (Sullivan) ہے۔ اس نے اگلے روز کابل میں اپنے ہم منصب سے بات کی ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ افغانستان میں ایک ایسا امن معاہدہ طے کیا جائے گا جس کی رو سے ”افغانستان میں ایک پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کیا جائے گا جس کی رو سے اگر جنگ بندی ہوئی تو وہ مستقل ہو گی“۔

ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”پاکستان امید رکھتا ہے کہ نئی امریکی حکومت افغانستان میں جاری امن معاہدے کی شقوں پر عمل کرتے ہوئے وہاں سے اپنے سارے فوجی واپس بلا لے گی“…… قریشی صاحب نے الجزیرہ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا: ”میرا خیال ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اس حقیقت کا ادراک کرے گی کہ اس کے لئے افغانستان میں قیامِ امن کی مساعی میں اشتراک کا یہ زریں موقع ہے۔ امریکہ کو اس معاہدے کا پاس کرنا چاہیے جو فروری (2020ء) میں ہوا تھا۔ اس معاہدے کو Preserveکرنا چاہیے اور Reverseکرنے کی طرف نہیں جانا چاہیے۔“

قارئین ایک عرصے سے سن رہے ہیں کہ پاکستان کا موقف یہی ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ شاید ایک بار پھر 2001ء کی طرف لوٹنا چاہتی ہے جب جارج بش انتظامیہ نے آناً فاناً افغانستان کو روند ڈالا تھا۔ آج 20برس گزر جانے کے بعد بھی اگر امریکہ اسی طرف جائے گا تو اس کے نتائج بھی وہی نکلیں گے جو گزشتہ دو عشروں کی جنگ کے بعد نکلے ہیں۔

اس موضوع پر بین الاقوامی میڈیا پر بہت سا مواد آ جا رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں بھی اس پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔اگلے روز میری نظر سے لیفٹیننٹ جنرل طارق خان (ریٹائرڈ) کا ایک مضمون گزرا جو ’گلوبل ویلیج سپیس‘ نامی میگزین میں شائع ہوا ہے……

جنرل طارق خان اگرچہ مین سٹریم میڈیا پر نہیں آتے لیکن میں نے ان کے کئی انٹرویو (اردو اور انگریزی میں) سنے ہیں۔ ان کی نگاہ، بین الاقوامی اور سٹرٹیجک امور و معاملات پر نہائت متوازن اور گہری ہے۔ وہ فرسٹ کور(منگلا) کے کمانڈر رہے اور اس کے علاوہ فرسٹ آرمرڈ ڈویژن اور 14انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی اور انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بھی رہے۔ 2009ء میں باجوڑ کی لڑائی میں انہوں نے طالبان کے خلاف فرنٹیئر کور کی قیادت کی تھی۔ ان کے تجزیئے بڑے دبنگ، بلند آہنگ، بلنٹ (Blunt) اور قطعیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ وہ کوئی لگی لپٹی رکھنے کے عادی نہیں۔ کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں۔ اگر ہے تو صرف اور صرف پاکستان کی ترقی، آزادی، خوشحالی اور اس خطے میں پاکستان کی سربلندی سے ہے۔

سطورِ ذیل میں ان کے انگریزی آرٹیکل کا اردو ترجمہ پیشِ قارئین ہے۔ اس میں ان تمام اندیشوں، سوالوں اور مآلوں کا ذکر کیا گیا ہے جو افغانستان میں امریکی ٹروپس کے قیام و اختتام کے بارے میں ذہنوں میں اٹھتے ہیں اور اس بارے میں بھی کہ اگر امریکہ افغانستان خالی کرتا ہے تو یہاں کی صورتِ حال کے اثرات پاکستان پر کیا پڑیں گے!

………………

لوگ انتظار لگائے بیٹھے ہیں کہ دیکھتے ہیں بائیڈن ایڈمنسٹریشن کی افغان پالیسی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ جن حضرات نے سانس روکا ہوا ہے اور اونچی توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں ان میں موجودہ افغان حکومت اور انڈیا شامل ہیں۔ ان کی سب سے بڑی امید اور کوشش یہی ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنا قیام طویل کر دے، مزید امن مذاکرات نہ ہوں اور ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے۔ ان امیدوں اور توقعات میں ایک پہلو جو بہت غلط ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے پس قدمی کی کوئی پلاننگ نہیں کی۔ امریکیوں کے پاس بہت سی آپشنز تھیں اور یہ لگژری بھی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیتے لیکن وہ بہت سے متبادلات میں سے کسی ایک کا انتخاب بھی نہ کر سکے۔

وہ اب بھی گومگو کی کیفیت میں گرفتار ہیں۔ ان پر اب بھی یہ صداقت آشکار نہیں ہوئی کہ امریکہ افغانستان کی یہ جنگ ہار چکا ہے اور اب اس کوشش میں ہے کہ کوئی ایسا آبرومندانہ حل تلاش کیا جائے کہ اقوامِ عالم کو یہ خیال ہو کہ امریکہ کو یہاں افغانستان میں کسی قسم کی کوئی فوجی فتح حاصل ہوئی ہے۔ لیکن امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ افغانستان سے پس قدمی کا فیصلہ ٹرمپ کی کوئی سٹرٹیجک چال نہیں تھی بلکہ ایک حقیقت پسندانہ فیصلہ تھا کہ ایک ایسی جنگ سے باہر نکلا جائے جو جیتی نہیں جا سکتی۔ اب امریکی صدر بائیڈن ہو یا کوئی اور ہو یہ حقائق ناقابلِ تبدیل رہیں گے۔ اگر بائیڈن انتظامیہ اس جنگ کو مزید طول دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ امریکہ اس کی مزید قیمت برداشت کرنے کو تیار ہے اور اپنا مزید جانی نقصان بھی اسے گوارا ہے۔ دراصل یہی دو بڑی وجوہات تھیں کہ جنہوں نے امریکہ کو یہاں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اب اس اوور آل صورتِ حال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی کہ جو امریکہ میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو کسی تبدیلی کی طرف راغب کر سکے قطع نظر اس بات کی وہ فیصلہ ساز کسی بھی انتظامیہ کا حصہ ہوں!

طالبان کا ایجنڈا

طالبان امن مذاکرات میں کسی زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عسکری اعتبار سے ان کو گراؤنڈ پر غلبہ حاصل ہے اور ان کو یقین ہے کہ وہ جیت رہے ہیں۔وہ اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ کسی کو کسی بھی قسم کی کوئی مراعات دیں بالخصوص ان کو کہ جو ان کے خیال میں ہار رہے ہوں …… اب سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کریں گے؟…… ان کے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ ہے کہ وہ افغانستان کے مجوزہ آئین کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے تو وہ اتنی طویل مدت سے نبرد آزما ہیں۔ اگر وہ اس مطالبے سے پیچھے ہٹتے ہیں تو گزشتہ 20برس سے جو جنگ آزمائی وہ کر رہے ہیں وہ رائیگاں جائے گی اور بے مقصد ہو گی۔لہٰذا اس موضوع پر وہ کسی بھی قسم کی لچک کا اظہار کرنا نہیں چاہیں گے۔

طالبان کا دوسرا ایشو / مطالبہ یہ ہے کہ وہ ملک کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ ملک کا نیا نام ”اسلامی اماراتِ افغانستان“ ہونا چاہیے۔ اور وہ اس مطالبے پر بھی کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

ان کا تیسرا مطالبہ / ایشو وہ تنازعہ ہے جو شرکتِ اقتدار کے معاہدے کے بارے میں ہے۔ اس موضوع پر وہ بات چیت کرنے کو تو تیار ہیں لیکن کسی بڑی تبدیلی کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ افغانستان میں آنے والے ایام میں سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہوں گے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ اس بارے میں آئندہ حکومت میں کوئی معمولی سی نسلی یا نظریاتی شراکت کرنے پر تو رضامند ہوں گے لیکن یہ تبدیلی بھی عارضی ہو گی، مستقل نہیں اور بڑی ابتدائی قسم کی ہو گی جسے کاسمیٹک الاؤنس بھی کہا جا سکتا ہے۔(جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment