Home » افغانستان میں قیام امن کا راستہ

افغانستان میں قیام امن کا راستہ

by ONENEWS

افغانستان میں قیام امن کا راستہ

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے قطر کے دارالحکومت دوھا میں اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بہت خوب بات کہی کہ افغانستان میں 20 سالوں سے جاری جنگ کو 20 دنوں میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان جرأت کا مظاہرہ کریں اور قومی جنگ بندی کا اعلان کریں، بظاہر یہ سچ بھی لگتا ہے کہ 20 سالوں سے جاری جنگ ایسے ہی تو ختم نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ اس دوران ایک پوری نسل اس جنگ میں شریک رہ چکی ہے اور دوسری نسل اس جنگ کے دوران پل بڑھ کر جوان ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے طالبان سے جرأت کر کے قومی جنگ بندی کرنے کا کہا۔ یہ بات بھی بڑی خوب لگتی ہے کیونکہ یہ طالبان ہی ہیں جنہوں نے 20 سالہ گوریلا جنگ کے ذریعے دنیا کی سپریم طاقت، جو صرف عسکری ہی نہیں بلکہ تمدنی سپریم طاقت بھی ہے، کو جھکنے اور میدان جنگ سے رخصت ہونے پر مجبورکیا۔ اشرف غنی ایک پڑھے لکھے انسان ہیں انہیں اپنے ملک و قوم کی تھوڑی بہت تاریخ کا علم تو ضرور ہو گا کہ تاریخ میں اس حوالے سے کیا رقم ہے، تاریخ اس حوالے سے کیا کہتی ہے۔ آیئے ذرا تھوڑا سا پیچھے چلتے ہیں ذرا وہ وقت سامنے لایئے جب اشتراکی افواج 10 سالہ جنگ میں افغان مجاہدین کے ہاتھوں شکست کھا کر واپس جانے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔ ایسے ہی جیسے اب امریکی افواج واپس جا رہی ہیں۔ ایسے ہی اشتراکی افواج دریائے آ مو کراس کر کے واپس جا رہی تھیں ان کی واپسی کا عمل ایک امن معاہدے کے ذریعے ہی طے پایا تھا۔ جنیوا امن معاہدے نے انہیں ”باعزت واپسی“ کی راہ دکھائی تھی۔ ایسے ہی جیسے طالبان۔ امریکہ کے درمیان قطر میں امن معاہدہ ہوا ہے جس کے ذریعے امریکی افواج کو واپسی کی ”محفوظ اور باعزت“ راہ میسر آئی ہے۔

اشتراکی افواج کی واپسی کے ساتھ ہی تخت کابل کے لئے افغان مجاہدین گروپوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہو گئی تھی آپریشن جلال آباد، کابل پر افغان مجاہدین کی حکمرانی قائم کرنے کی ایک منظم کاوش تھی جو کامیاب نہ ہو سکی اور بالآخر معاملات کنٹرول سے باہر ہو گئے۔ حصول اقتدار کے جھگڑے کو نمٹانے کے لئے معاہدہ اسلام آباد بھی ہوا لیکن نتیجہ نہ نکلا پھر معاہدہ پشاور کے ذریعے بھی اشتراک اقتدار کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ سب کاوشیں کیونکہ افغانوں کی دو ہزار سالہ تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں اس لئے کامیاب نہیں ہوسکیں اور بالاخر افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ ایک عظیم مقصد یعنی اپنے ملک کی آزادی کے بعد ایک  پست مقصد  یعنی  حصول اقتدار کے لئے آپس میں الجھے اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ گلبدین حکمت یار، احمد شاہ مسعود، پروفیسر ربانی جنرل رشید دوستم اور دیگر کئی گوریلا لیڈروں نے مل جل کر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔  افغانستان ایک عظیم سول وار سے گزرا اور اس سے طالبان منظر پر ابھرے۔ ملا عمر کی قیادت میں طالبان نے سب جنگجو گروپوں کو شکست سے ہمکنار کیا۔ تخت کابل پر قبضہ کیا اور پھر عزم با لجزم کے ذریعے یہاں امن قائم کر کے دکھا دیا۔ افغانستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ معاشرے کو اسلحے سے پاک کر دیا گیا اور یہاں حکومت یعنی طالبان کی رٹ قائم ہو گئی۔ افغانستان منشیات کے عالمی مراکز کی فہرست سے بھی نکل گیا۔ طاقت کے ذریعے امن قائم کیا گیا۔ امن قائم کرنے والے طالبان نے اپنے مدمقابل گروہوں کی عسکریت سے زیادہ قوت و شجاعت کا مظاہرہ کیا انہیں بزور جھکنے پر مجبور کیا اپنی رٹ قائم کر کے دکھائی اور پھر امن قائم ہوا۔

پھر ہم دیکھتے ہیں 9/11 کے بعد کے 20 سال۔ یہ بھی طاقت، عظمت اور جنگجوئی کی کہانی ہے دو گروہ یعنی ایک جارح گروہ، حملہ آور گروہ تھا جس کی قیادت امریکی کر رہے تھے ان کی زیر قیادت 42 سے زائدممالک کی  سپاہ تھیں دنیا کا جدید ترین اسلحہ، جنگی ٹیکنالوجی، بلاروک ٹوک رسد، ہوائی قوت موجود تھی دوسری طرف افغان قوم اور اس کے بہادر سپوت، طالبان کے پرچم تلے مصروف عمل تھے طالبان کو چوہا اور دہشت گرد کہنے والوں کو کس نے مجبور کیا کہ وہ ان کے ساتھ، ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کریں تا کہ جارح کو طالبان کے دیس سے بخیر و عافیت نکلنے کی راہ مل جائے۔جی چوہے اور دہشت گرد طالبان کی عسکریت اور بہادری نے امریکی اتحادیوں کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ آج اگر افغانستان حملہ آوروں کے قدموں سے پاک ہونے جا رہا ہے تو یہ کسی ادارے کسی اپیل یا رضا کارانہ واپسی کا نتیجہ نہیں ہے۔ پچھلے دنوں افغانستان کے ایک بڑے لیڈر عبداللہ عبداللہ پاکستان تشریف لائے تھے وہ اپنے انڈین تعلقات کے حوالے سے مشہور ہیں ان کا خاصا وقت وہاں گزرا ہے ان کے ہندوستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی بہت اچھے مراسم ہیں عبداللہ عبداللہ پاکستان پر دشنام طرازی کے لئے بھی مشہور ہیں لیکن اس دفعہ جبب وہ یہاں تشریف لائے تو ان کی زبان نے نفرت کے شعلے نہیں اگلے وہ افغان امن کونسل کے سربراہ ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لئے ہی یہاں تشریف لائے تھے ان کی زبان کو شعلے اگلنے سے کس نے روکا؟ جی ہاں فریق دوم کی جرأت و بہادری نے امریکہ کو تو پہلے ہی پتہ چل چکا ہے کہ افغانستان میں طالبان سے لڑ کر فتح حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے انہوں نے یہاں سے نکلنے میں ہی عا فیت جانی ہے۔ عبداللہ عبداللہ کو پتہ ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کا ایک اہم عامل ہے اس لئے وہ یہاں آ کر اب پاکستان کے خلاف شعلے نہیں اگلتے ہیں اور ہاں۔ اشرف غنی صاحب کو بھی پتہ ہے کہ افغانستان میں دو فریق تھے جارح اور اس کے مدمقابل۔ امریکہ اور اس کے حواری یہ بھاری پتھر چوم کر تائب ہوچکے ہیں۔ اب افغانستان میں ایک ہی فریق بچا ہے اور وہ ہے جارح کا مقابلہ کرنے والے طالبان۔ امن کی کنجی انہی کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ امن کے بند دروازے پر لگے قفل کو کیسے کھولتے ہیں؟ اس لئے انہوں نے طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دل بڑا کر کے قومی جنگ بندی کا اعلان کریں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment