0

افغانستان: تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے!

افغانستان: تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے!

ہمارے میٹرک کے نصاب فارسی میں شیخ سعدی کی ’گلستان‘ سے ایک حکایت قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو اس طرح تھی:

”انسانوں کو ستانے والے ایک شخص کی حکایت بیان کی جاتی ہے کہ اس نے ایک درویش آدمی کے سر پر ایک پتھر دے مارا۔ اس غریب میں بدلہ لینے کی مجال نہیں تھی اس لئے چپکا ہو رہا۔ لیکن منتظر رہا کب بدلہ لے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ اس شخص سے ناراض ہو گیا اور اس کو ایک اندھے کنویں میں پھینکنے کا حکم دیا۔ درویش کو جب خبر ہوئی تو کنویں کی جانب دوڑا اور اس ظالم کے سر پر وہی پتھر پھینکا۔ اس نے نیچے سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ دیکھتے نہیں کہ میں تو پہلے ہی کنویں میں گرا ہوں۔ درویش نے جواب دیا یاد کرو میں وہی ہوں جس کو تم نے فلاں تاریخ اور فلاں روز یہ پتھر پھینکا تھا۔ اس شخص نے پوچھا اتنے روز کہاں تھے؟ اس نے جواب دیا: ”میں تمہاری ”جاہ“ سے ڈرتا تھا۔ اب تمہیں ”چاہ“ میں دیکھا تو اس فرصت کو غنیمت جانا اور خیال کیا کہ تمہارے ظلم کا بدلہ چکا دوں“…… اس کے بعد سعدی کے دو فارسی اشعار اس طرح تھے:

وہ بدنامی جو بختیار کی ناک میں ہے

انہوں نے دانشمندی سے سرنڈر کردیا

زیادہ سے زیادہ دیکھتے رہیں

تو میرے دماغ کے دوستوں کو جانے دو

]ترجمہ: جب دیکھو کہ کوئی(ظالم اور) نااہل شخص کسی اونچے عہدے پر پہنچ گیا ہے تو سمجھ جاؤ کہ عقل مندوں نے بھی اس کا اختیار تسلیم کر لیا ہے…… اس لئے اس وقت تک انتظار کروجب زمانہ اس کو بے دست و پا کر دے۔اور جب ایسا ہو جائے تو دوستوں کی مدد سے اس کا سر کچل دو[[

یہ حکایت اگرچہ کئی برس پہلے دو اشخاص کے بارے میں پڑھی تھی لیکن اگلے روز ”دی نیویارک ٹائمز“ میں ایک خبر پڑھ کر یاد آئی جو دو اقوام کے بارے میں تھی۔ سٹوری یہ تھی کہ رشیا 2001ء میں اگرچہ افغانستان پر امریکی حملے کے حق میں اور طالبان کے خلاف تھا لیکن نو گیارہ کے بعد جلد ہی طالبان کے ساتھ مل کر امریکی سولجرز کو قتل کروانے پر تیار ہو گیا اور ان کو نقد رقوم دے کر طالبان کے ہاتھوں ہلاک کروانے لگا۔

چونکہ قتل و غارت کا یہ سارا کھیل ہمارے ہمسائے میں ہوتا رہا اور ہم یادش بخیر خود اس کا حصہ رہے اس لئے چار عشرے پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ایسے معلوم ہو گا جیسے یہ ابھی کل کی بات ہو…… 24دسمبر 1979ء کو روس نے افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔(تب روس کا نام سوویت یونین تھا) پاکستان نے امریکی ڈالروں اور اسلحہ کی مدد سے سوویت یونین کو 8برس کی جنگ میں افغان مجاہدین کے ہاتھوں زخم زخم کرکے 1988ء میں واپس ماسکو جانے پر مجبو رکر دیا اور سوویت یونین کو اپنا پکا دشمن بنا لیا۔ 1990ء میں اقتصادی وجوہات کی بناء پر سوویت یونین ٹوٹ کر روس بن گیا لیکن پاکستان نے اس رشین شکست میں امریکا کا جو ساتھ دیا تھا اس کا صلہ اسے یہ ملا کہ جب 2001ء میں افغانستان پر امریکہ نے حملہ کر دیا تو اسے اپنے مستقر امریکہ کے حوالے کرنے پڑے۔ روس اس قابل نہ تھا کہ 1980ء کے عشرے والا امریکی رول ادا کرتا لیکن اس کے دل میں اپنی شکست کی خلش تو موجود تھی۔ اب پوٹن روس کا حکمران بن چکا تھا اور وہ اپنے پیشرو روسی / سوویٹ حکمرانوں سے کہیں زیادہ سٹرٹیجک وژن کا حامل تھا۔ امریکہ نے افغانستان میں جب ناٹو کو بھی گھسیٹ لیا تو پوٹن کے روس نے (یا روس کے پوٹن نے) فیصلہ کیا کہ 1980ء کے عشرے کے انتقام کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔ اس مختصر کالم میں گنجائش نہیں کہ وہ تفصیل بتائی جائے کہ روس نے کس طرح طالبان کو وہی اسلحی مدد فراہم کی جو دو عشرے پہلے امریکہ نے روسیوں کے خلاف افغان جہاد کے دور میں کی تھی۔ روس کے پاس اگرچہ امریکی سٹنگر کا متبادل تو موجود نہ تھا لیکن اس نے چھوٹے ہتھیاروں (Small arms) کی کمی کبھی بھی طالبان کو محسوس نہ ہونے دی۔

آج کل مغربی میڈیا میں جو سٹوریاں شائع ہو رہی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے:

”وہ ایک چھوٹا سا منشیات کا سمگلر تھا جو اس وقت ایک ٹھیکیدار بن گیا جب امریکہ نے لاکھوں ڈالر افغانستان کے مواصلات کے نیٹ ورک کی تعمیر میں جھونک دیئے۔ وہ بظاہر شمالی افغانستان میں امریکی ٹروپس کی نقل و حرکت کے لئے سڑکیں بناتا رہا لیکن اس بزنس میں کچھ زیادہ دولت اکٹھی نہ کر سکا۔ پھر اچانک چند سال پہلے لوگوں نے دیکھا کہ وہ بڑی باقاعدگی سے شمالی افغانستان کے چکر لگاتا ہے، بڑی بڑی کاروں کے قافلے اس کے ہمراہ ہوتے ہیں، باڈی گارڈوں کا ایک بڑا لشکر بھی ساتھ ہوتا ہے اور اس کا معمولی سا گھر دیکھتے ہی دیکھتے چار منزلہ محل میں تبدیل ہو گیا ہے…… اس کا نام رحمت اللہ عزیزی تھا!“

امریکی انٹیلی جنس نے جب مزید پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ یہ عزیزی عرصہ ء دراز سے رشین انٹیلی جنس (GRU)اور طالبان کے درمیان ایک رابطے (مڈل مین) کا فریضہ ادا کر رہا ہے اور جب امریکی انٹیلی جنس نے مزید نقطے ملائے تو جو تصویر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ عزیزی روسیوں سے کیش لے کر طالبان کو دیتا ہے اور اس کے بدلے میں امریکی سولجرز کی لاشوں کا سودا کرتا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اس کے رشتے داروں کو تو گرفتار کرلیا لیکن عزیزی ہاتھ نہ آیا۔ وہ روس فرار ہو چکا تھا لیکن اس کے گھر سے تقریباً تین لاکھ ڈالر کیش برآمد ہوئی…… یہ نقد رقم اسے کس نے دی تھی اور کس مقصد کے لئے دی تھی اس کے بارے میں دو رائیں نہیں تھیں۔ یہ اطلاعات جب امریکی صدر کو دی گئیں تو ان کا یہ عزم اور بھی پختہ ہو گیا کہ امریکیوں کو بہت جلد افغانستان سے نکال لینا چاہیے…… چنانچہ آج کل اسی منصوبے پر کام جاری ہے اور وہ دن دور نہیں جب امریکہ کو روسیوں کی طرح افغانستان سے نکل جانا پڑے گا۔

امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹیں یہ بھی ہیں کہ ماضی میں افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس میں جو سولجرز اور سپاہی بھگوڑے ہوتے رہے ہیں اور امریکی سولجرز ان کے ہاتھوں ہلاک ہوتے رہے ہیں تو اس پروگرام میں اگر مزید وسعت پیدا کر دی گئی تو افغانستان میں امریکی سولجرز کا مزید قیام بہت خطرناک ہوگا۔

ویسے تو امریکی انٹیلی جنس کو ایک طویل عرصے سے شک تھا کہ روس درپردہ طالبان کی مدد کر رہا ہے لیکن یہ خبر نہ تھی کہ امریکی سولجرز کے سر کی قیمت مقرر کر دی گئی ہے۔ ظاہر ہے عزیزی کی طرح کے اور لوگ بھی ہوں گے۔ عزیزی تو پاگل تھا کہ اس نے اپنی امارت کا برملا اظہار کرنے کے لئے ’کاریں اور کوٹھیاں‘ بنائیں لیکن سارے افغان عزیزی کی طرح بے وقوف نہیں ہوتے۔ ان کو اپنی تاریخ کا پورا پورا علم ہے۔ افغانستان کو ”سلطنتوں (Empires) کا قبرستان“ ویسے ہی نہیں کہا جاتا۔ صدیوں سے افغان ایک آزاد منش قوم ہے۔ اس کی درویشی تو سب کے سامنے نظر آتی ہے لیکن اس کی سلطانی بالعموم پوشیدہ رہتی ہے۔ اقبال نے افغانوں کی فطرت کا جو نقشہ کھینچا تھا وہ کتنا برحق ہے

میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں

تیری چٹانوں میں سے میرے اب وجد کی خاک

روزِ ازل سے ہے تو منزلِ شاہین و چرغ

لالہ و گل سے تہی، نغمہ ء بلبل سے پاک

باز نہ ہو گا کبھی بندۂ کبک و حمام

حفظِ بدن کے لئے روح کو کر دوں ہلاک؟

اے مرے فقرِ غیور! فیصلہ تیرا ہے کیا

خلعتِ انگریز یا پیرہنِ چاک چاک

افغانستان کے بارے میں تازہ خبریں یہ ہیں کہ جناب عبداللہ عبداللہ ہمارے وزیرخارجہ کی دعوت پر پاکستان آ رہے ہیں۔ ایک طویل مدت سے افغان مسئلے کے حل کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ ہمیں اپنی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع میں بیٹھے اپنے پاکستانی افسروں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ چپ چاپ اپنا کام کئے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی دیکھئے کہ انڈو۔ چائنا ملٹری سٹینڈ آف ابھی ختم نہیں ہوا لیکن اگر آپ انڈین میڈیا کو دیکھیں اور سنیں تو ان کی فریاد و فغاں کی شدت اور اپنی سفارت کاری اور دفاعی تیاری کی نسبتاً پُرسکون خامشی کی داد دینی پڑے گی۔ گزشتہ ہفتے سکردو ائرپورٹ پر ایک طیارے کی تصویر دیکھ کر انڈین میڈیا نے طوفان مچا دیا تھا کہ پاکستان اپنی ائر اور 20ہزار فوج لائن آف کنٹرول پر لے آیا ہے اور چین سے مل کر لداخ کو سینڈوچ کرنا چاہتا ہے لیکن ISPR نے فوراً دونوں خبروں کی تردید کی۔ البتہ یہ ضرور کہا کہ ہم اپنی تیاری سے غافل نہیں۔ ہماری اس پختہ کاری اور تدبر کا ثبوت دو روز پہلے 15انڈین کور کے کور کمانڈر کی طرف سے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ :”پاکستان کی کوئی نئی فورسز لائن آف کنٹرول پرجمع نہیں ہوئیں۔ نہ ہی ان کے بھاری اسلحہ جات (آرمر، آرٹلری، ائر وغیرہ) اپنی امن کی لوکیشنوں سے Moveکرکے کسی ایسی جگہ آئے ہیں جس سے انڈیا کو کوئی خطرہ ہو……“

میرا خیال ہے اس سے بڑا ”خراجِ عقیدت“ پاکستانی عسکری تدبر کے بارے میں اور نہیں ہو سکتا!

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں