Home » افریقی بولر کگیسو ربادا کا 200ٹیسٹ وکٹوں کا سنگ میل

افریقی بولر کگیسو ربادا کا 200ٹیسٹ وکٹوں کا سنگ میل

by ONENEWS

فوٹو: پی سی بی

جنوبی افریقہ کے 25 سالہ فاسٹ بولر کگیسو ربادا نے  کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں حسن علی کو کلین بولڈ کر کے اپنی 200 ویں ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ انہوں نے یہ سنگ میل اپنے 44 ویں ٹیسٹ میچ میں عبور کیا۔ جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے 39 ویں اور ایلن ڈونلڈ نے 42 ویں ٹیسٹ میچ میں 200  وکٹوں کا سنگ میل عبور کیا تھا۔  اس طرح  ربادا جنوبی افریقہ کے بولرز میں کم ٹیسٹ میچز میں 200وکٹیں مکمل کرنے والوں میں تیسرے نمبر پر آ گئے۔ شان پولاک نے 49 ویں‘ ویرنن فلینڈر نے 54 ویں اور مکھایا انتینی نے 55 ویں ٹیسٹ میچ میں 200 وکٹیں مکمل کی تھیں۔  پاکستان کے  اسپنر یاسر شاہ کو دنیا میں سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 200 مکمل کرنے والے بولر کا اعزاز حاصل ہے۔  یاسر شاہ نے صرف 33 ٹیسٹ میچوں میں 200  وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔

کگیسو ربادا 200 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے آٹھویں پروٹیز بولر ہیں۔ ان سے قبل  ڈیل اسٹین 93 ٹیسٹ میچز میں 439 وکٹوں کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ شان پولاک نے 103 ٹیسٹ میچوں میں 422‘ مکھایا انتینی نے 101 ٹیسٹ میں 390، ایلن ڈونلڈ نے 72 ٹیسٹ میں 330، مورنی مورکل نے  86 ٹیسٹ میں 309، جیک کیلس نے 165 ٹیسٹ میں 291 اور ویرنن فیلنڈر نے 64  ٹیسٹ میں 224 وکٹیں حاصل کی ہیں۔  وہ 200 ٹیسٹ وکٹیں کا سنگ میل عبور کرنے والے دنیا کے 78 ویں بولرہیں۔ ربادا نے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 117 اور ٹی 20 میں 31 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

ربادا نے اپنی 200 وکٹیں حاصل کرنے کیلئے مجموعی طور پر 8145 گیندیں کیں اور وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کم گیندوں پر 200  وکٹیں لینے والے بولرز کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آگئے۔ پاکستان کے فاسٹ بولر وفار یونس اور جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین نے ان سے کم گیندوں پر یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ وقار یونس نے 7730 گیندوں اور ڈیل اسٹین کے 7848 گیندوں میں یہ کارنامہ انجام دیا۔

اسپیڈ اسٹار ربادا کو 200 وکٹوں کی منزل تک پہنچنے میں پانچ سال کا عرصہ لگا۔ انہوں نے 9378 دنوں میں یہ اعزاز حاصل کیا جبکہ وقار یونس نے سب سے کم وقت یعنی 8788 دن بھارت کے کپیل دیو 8830 اور ہربھجن سنگھ نے 9203 دنوں میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ربادا 200 وکٹوں کے سنگ میل میں بہترین اسٹرائیک ریٹ رکھنے والے بولر ہیں۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 40.8 ہے جبکہ ان کے ہموطن ڈیل اسٹین 42.3 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ مچل اسٹارک 49.3 اور نیل ویگنر 51.9 اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ٹاپ فائیو میں شامل ہیں۔

ربادا نے پانچ سال قبل 2015 میں دورہ بھارت کے دوران اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے چندی گڑھ میں 7 نومبر 2015 کو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ جنوبی افریقن فاسٹ بولر کگیسو ربادا نے بھارتی کپتان ویرات کوہلی کو صرف ایک رن پر آوٹ کر کے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی تھی۔ دوسری اننگز میں وہ کوئی وکٹ نہیں لے سکے تھے۔ بھارت نے اس ٹیسٹ میں 109 رنز سے فاتح رہا تھا۔

کگیسو ربادا نے 44 ٹیسٹ میچز میں 9 مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کاکارنامہ انجام دیا جبکہ چار مرتبہ میچ میں 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ لیکن وہ مارچ 2018 کے بعد سے ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں تاہم ان کا اسٹرائیک ریٹ مستقل بہتر ہے۔ 200 وکٹوں کے ہدف میں وقار یونس نے سب سے زیادہ 19 مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ڈیل اسٹین نے 13 مرتبہ یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ ربادا  اپنے کیریئر میں صرف ایک ٹیسٹ میچ میں کوئی وکٹ نہیں  لے سکے۔ وہ  ان کا دوسرا ٹیسٹ میچ تھا  جو بنگلور میں بھارت کے خلاف تھا جس میں بارش کی وجہ سے چار دن کا کھیل نہیں ہو سکا تھا اور انہوں نے صرف پانچ اوور کیے تھے۔  کگیسو ربادا اپنے ٹیسٹ کیریئر کی 79 اننگز میں سے صرف آٹھ اننگز میں وکٹ لینے میں ناکام رہے ہیں۔

جنوبی افریقن فاسٹ بولر ربادا نے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھنے کے بعد بہترین بولنگ کے ذریعے جلد ہی  اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے جنوری 2016  میں پاکستانی بولر وقار یونس کا ایک منفرد عالمی ریکارڈ بھی برابر کر دیا تھا جو وقار یونس نے 1990 میں قائم کیا تھا۔ ربادا نے 20 سال کی عمرمیں ٹیسٹ اننگز اور ون ڈے اننگز چھ یا زائد کھلاڑیوں کو آوٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف جنوری 2016 میں سنچورین ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 112 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔ اس سے قبل انہوں نے 10 جولائی 2015  کو بنگلہ دیش کے خلاف اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں صرف 16 رنز کے عوض چھ  کھلاڑیوں کو آؤٹ کر سنسنی پھیلا دی تھی۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ  میں ڈیبیو میں بہترین بولنگ کا ریکارڈ ہے۔ اس میچ میں انہوں نے ہیٹ ٹرک بھی کی تھی اور وہ بتگلہ دیش کے تاج الاسلام کے بعد ڈیبیو میچ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے بولر تھے۔ 1990 میں وقار یونس نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا جب انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں سات اور اس کے بعد ون ڈے میچ میں سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے منفرد کارنامہ انجام دیا تھا۔ وقار یونس ایسی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے دنیا کے پہلے بولر تھے۔

جوہانسبرگ میں  25  مئی 1995 کو پیدا ہونے والے کگیسو ربادا تمام فارمیٹ کی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ کرکٹ کھیلنے کا آغاز بچپن میں کیا اور جلد ہی اپنی برق رفتار بولنگ اور ایکوریسی کی وجہ سے نام کمانا شروع کر دیا۔ انہوں نے  دسمبر  2013 میں 18 سال کی عمر میں  سی ایس اے پراونشل ون ڈے مقابلوں میں  گوئٹنگ کی جانب سے  بارڈر کے خلاف ڈیبیو کیا۔ربادا کی شاندار کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں  2014 میں متحدہ عرب امارات میں ہونیوالے انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کیلئے جنوبی افریقہ کی ٹیم میں منتخب کر لیا گیا۔ جنوبی افریقہ کو پہلی بار انڈر 19 ورلڈ کپ جتوانے میں ربادا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ فائنل میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکست دی تھی جس میں ربادا صرف ایک وکٹ لے سکے تھے لیکن انہوں نے ٹورنامنٹ کے پانچ میچوں میں 10.28 کی اوسط سے 14 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ  دکھائی تھی۔ وہ سری لنکا کے انوک فرنانڈو 15 وکٹوں کے بعد دوسرے نمبر پر تھے۔ بھارت کے کلدیپ یادیو اور نمیبیا کے ہیسلز نے بھی 14‘ 14 کھلاڑی آوٹ کیے تھے۔ ٹورنامنٹ میں ان کا اکانومی ریٹ 3.10 تھا۔ ٹورنامنٹ میں بہترین بولنگ کرتے ہوئے انہوں نے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف 25 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔  بہترین کارکردگی کی وجہ سے ربادا کو ٹورنامنٹ کا تیز ترین اور بلے بازوں کو دہشت زدہ کرنے والا بولر قرار دیا گیا تھا۔

انڈر 19 ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کے تین ماہ بعد ہی  2014  میں ربادا کو لائنز نے فرنچائر کنٹریکٹ دیا تھا جس کے ساتھ ہی انہوں نے جنوبی افریقہ میں محدود اوورز کی کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا۔ سن فائل سیریز سیزن کے آخری دو میچوں میں لائنز فرنچائز کی نمائندگی کرتے ہوئے  ربادا نے دو میچوں میں 186  رنز دے کر 7  وکٹیں حاصل کی تھیں۔ فروری 2015 میں ربادا نے لائنز کی جانب سے ڈولفنز کے خلاف میچ میں ریکارڈ 14  وکٹیں حاصل کیں انہوں نے دوسری اننگز میں 33 رنز کیعوض 9  کھلاڑی آؤٹ کیے تھے جو جنوبی افریقن کرکٹ کے فرنچائز ایرا میں بہترین بولنگ کا ریکارڈ ہے۔ ربادا نے 2016 میں انگلش ڈومیسٹک سیزن میں کینٹ کاونٹی سے کھیلنے کا اعلان کیا اور قلیل مدتی معاہدے پر دستخط کیے تاکہ وہ خود کو انگلش کرکٹ کے ماحول سے آشنا کر سکیں۔  ربادا نے وہاں دو کاونٹی چیمپئن شپ اور چھ ٹی 20  میچ کھیلے تھے۔ اس کے بعد ربادا کو آئی پی ایل سے معاہدے کا موقع ملا۔ 2017 می ربادا کی آئی پی ایل میں 5 کروڑ روپے کی آکشن ہوئی تھی اور ان کی خدمات دہلی ڈیویلیئرز  حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ جبکہ 2018 میں بھی دہلی نے 4.2 کروڑ  روپے کی بولی میں ربادا کو اپنی ٹیم میں برقرار رکھا تھا۔

کگیسو ربادا دوسرے برق رفتار بولرز کے مقابلے میں بہت کم انجریز کا شکار ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اپنی فٹنس پر خاص توجہ دیتا ہوں اور میرا بولنگ ایکشن  اتنا آرام دہ ہے کہ اس سے میری کمر  اور گھٹنوں پر زیادہ دباؤ نہیں پڑتا اس لیے میں دوسرے بولرز کی طرح کمر اور گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتا۔  وہ گیند کو دونوں جانب سوئنگ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور  تسلسل کے ساتھ 135 سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولگ کراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری کامیابی میں کوئی جادو نہیں ہے بلکہ یہ مسلسل محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔ انہیں  ریورس سوئنگ میں بھی ملکہ حاصل ہے۔ ان کے باؤنسرز بھی بلے بازوں کو مشکلات میں ڈال دیتے ہیں۔ میں اپنی بولنگ کو  بہتر سے بہتر بنانے اور مزید کچھ سیکھنے کیلئے کوشش کرتا ہوں۔ سینیئر بولرز کے تجربات  سے استفادہ کرتا ہوں اور اپنی ہر میچ کی کارکردگی کا تجزیہ کرتے  ہوئے  خامیوں کو دور کرنے کیلئے ہر ممکن کوشاں رہتا ہوں۔

اپنی زبردست  محنت اور مسلسل بہتر کارکردگی کے نتیجے میں ربادا  بہت جلد اس مقام پر پہنچ گئے جسے  حاصل کرنے کیلئے کھلاڑیوں کو کئی برس  لگ جاتے ہیں۔ صرف تین سال کے عرصے میں جنوری 2018 تک  وہ 22  سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی آئی سی سی ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹیسٹ کرکٹ دونوں کی بولنگ رینکنگ میں  پہلے نمبر پر پہنچ گئے تھے۔ جولائی میں 2018  میں ربادا نے  23 سال 520 دن کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ میں  اپنی 150 وکٹیں مکمل کیں اور  150 ٹیسٹ وکٹیں لینے والے  کم ترین عمر والے بولر کا اعزاز بھی ان کے نام سے جڑا ہے۔

جولائی 2016  میں  جنوبی افریقن کرکٹ (سی ایس اے) کے سالانہ عشائیے میں ربادا کی بے مثال صلاحیتوں کے اعتراف کیا گیا اور وہ چھ اعزازات جیتنے والے جنوبی افریقہ کے پہلے کرکٹر بن گئے۔ ان ایوارڈز میں کرکٹر آف دی ائر ایوارڈ بھی شامل تھا۔ جون 2018  میں تاریخ دہرائی گئی اور سی ایس اے کے سالانہ عشائیہ میں کگیسو ربادا پھر چھ ایوارڈز لے اڑے جن میں  رکٹر آف دی ائر‘  ٹیسٹ کرکٹر اور ون ڈے کرکٹر آف دی ائر بھی شامل تھے۔ اگست 2018  میں کرکٹ المانک وزڈن نے ربادا کو دنیا کا بہترین نوجوان کھلاڑی قرار دیا تھا۔

فاسٹ بولرز کا رویہ عموماً جارحانہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات انہیں اپنے اس جارحانہ روئیے کا خیمازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف پورٹ ایلزبتھ ٹیسٹ کے پہلے دن انگلش بیٹسمین  جو روٹ کو آؤٹ کرنے کے بعد ربادا خوشی سے پاگل ہو گئے تھے اور وہ ان کا اندازانتہائی نامناسب تھا جس پر انہیں لیول ون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے میچ ریفری نے میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ اور ایک ڈی میرٹ پوائنٹ لگا دیا تھا جس کے نتیجے میں وہ جوہانسبرگ ٹیسٹ میں حصہ نہیں لے سکے تھے کیونکہ نئے سسٹم کے تحت 24  ماہ کے دوران 4  ڈی میرٹ پوائنٹس ہونے کی وجہ سے ان پر ایک ٹیسٹ کی پابندی عائد ہو گئی تھی۔

پورٹ ایلزبتھ گراؤنڈ پر ہی کگیسو ربادا نے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں کپتان اسٹیون اسمتھ کو آو?ٹ کرنے کے بعد دھکا دیا تھا جس پر میچ ریفری جیف کرو نے ان پر 2  ٹیسٹ میچوں کی پابندی اور جرمانہ کر دیا تھا گو میچ میں شاندار کارکردگی کی وجہ سے  بہترین کھلاڑی کا اعزاز ربادا کے نام رہا تھا۔ ربادا نے اس جرم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ انہیں 3 منفی پوائنٹس بھی دیے گئے تھے۔ اس سے قبل بھی ان کے 3  منفی پوائنٹس تھے جس کیی وجہ سے وہ اگلے دو ٹیسٹ  میچز سے محروم کر دیئے گئے تھے۔ تاہم اسی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں انہوں نے ڈیوڈ وارنر کو آوٹ کرنے کے بعد پیش آنے والے واقعے پر جرم قبول کرلیا جس پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ ایک منفی پوائنٹ بھی دیا گیا۔ میچ ریفری جیف کرو کا کہنا تھا کہ میرے فیصلے کے مطابق ربادا نے اسمتھ کو جان بوجھ کر دھکا دیا تھا جو نامناسب تھا حالانکہ وہ بچ سکتے تھے۔ میرے خیال میں یہ واقعہ اتفاقی نہیں تھا۔

.

You may also like

Leave a Comment