Home » اعضاء کی پیوندکاری……اسلامی نقطہ نظر سے

اعضاء کی پیوندکاری……اسلامی نقطہ نظر سے

by ONENEWS

اعضاء کی پیوندکاری……اسلامی نقطہ نظر سے

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بیماریاں گردوں، مثانوں اور جگر کے عارضوں کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ہر بارہواں شخص ہیپاٹائٹس کے مرض کا شکار ہے۔ لاکھوں ہم وطن آنکھوں کی بینائی سے محروم ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 70 ہزار گردے ٹرانسپلانٹ کئے جا رہے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ تعداد تقریباً 2 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 50 ہزار مریض اعضاء فیل ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ان مریضوں میں تقریباً 15ہزار گردوں کے فیل ہونے سے جبکہ 10 ہزار جگر فیل ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہوتے ہیں۔

چند ماہ قبل ایک مولانا صاحب سے انسانی اعضاء کی پیوندکاری کے حوالے سے بات ہوئی تو مو صوف نے ارشاد کیا کہ انسانی اعضاء کی پیوندکاری کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ ظاہر ہے ہم نے اس معاملے میں ان سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی کی جان بچانے کے لئے اپنا کوئی عضو کسی کو ہدیہ کر دینا ایک عظیم نیکی اور صدقہ جاریہ ہے، لیکن وہ صاحب مان نہیں رہے تھے۔ خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا کہ کچھ روز قبل وہی مولانا صاحب ملے اور کہنے لگے کہ آپ کسی ایسے ہسپتال کو جانتے ہیں جہاں سے آنکھ کا عطیہ مل سکتا ہوکیوں کہ میرے بھائی کی دونوں آنکھیں خراب ہو چکی ہیں اور ڈاکٹر کے مطابق ان کو اگر کوئی آنکھ عطیہ کر دے تو وہ دیکھنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ میں نے جھٹ ان سے پوچھا کہ حضرت آپ تو اعضاء کی ٹرانسپلانٹیشن کے حق میں ہی نہیں ہیں تو پھر اپنے بھائی کے لئے آنکھ کا عطیہ کیوں تلاش کر رہے ہیں؟ ظاہر ہے میری اس بات کا مولانا کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، سوائے شرمندگی کے۔ دنیا میں ہر سال ہزاروں افراد عطیہ کئے ہوئے اعضاء کی پیوندکاری کی  وجہ سے موت کے منہ سے واپس زندگی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

پاکستان میں بھی اب یہ قانون بن چکا ہے کہ بعد ازمرگ اپنے اعضاء کسی کو عطیہ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ نیم ملاؤں نے اس ضمن میں کافی جہالت کا ثبوت دیا لیکن خدا کا شکر ہے حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے اسلام کی اصل روح کے مطابق اس ضمن میں قانون سازی کر دی ہے، جس کی وجہ سے بے شمار قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں جانے سے بچ رہی ہیں۔ اس وقت وطن عزیز میں ہزاروں مریض ایسے ہیں، جو ڈائیلسز پر ہیں۔ اگر انہیں گردے کا عطیہ مل جائے تو یقیناً ان کی زندگی نارمل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بے شمار لوگ نابینا ہیں، اگر ہم سب یہ وصیت کر دیں کہ ہماری موت کے بعد ہمارے تمام اعضاء ضرورت مندوں کو لگا دیئے جائیں تو شائد ہمارے وطن میں گردے کا کوئی ایک بھی مریض باقی نہ رہے، کوئی بھی شخص نابینا نہ رہے، ہم سب اللہ تبارک و تعالی کی آخری ”کتاب“ میں موجود اس آیت کو بارہا سن چکے ہیں کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔ بات یہ ہے کہ ہم اس خوبصورت پیغام کو اس وقت کیوں بھول جاتے ہیں جب ہم اس قابل ہوتے ہیں کہ ہم کسی دوسرے انسان کی جان بچا سکیں۔

افسوس کہ ہمیں یہ آیت صرف اس وقت ہی یاد آتی ہے جب ہمیں اپنی جان بچانے کے لئے کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں موت کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کرنا ایک معمول کی بات ہے، سری لنکا دنیا بھر کے ممالک کو انسانی آنکھیں فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ مرنے کے بعد ایک انسان اپنے مختلف اعضاء عطیہ کرکے آٹھ انسانوں کو زندگی بخش سکتا ہے۔ پاکستان میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں بڑے پیمانے پر آگہی پھیلائی جائے کہ بعداز مرگ اعضاء عطیہ کرنا ہرگز غیر اسلامی نہیں۔ میڈیا کے ذریعے عوام میں گردوں اور جگر کی بیماریوں اور نابینا پن سے بچاؤ کے حوالے سے مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے۔ سکولوں کے نصاب میں مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے، پرہیز، وجوہات اور ابتدائی علاج کے حوالے سے مضامین شامل کئے جائیں۔ علماء کرام کے ذریعے عوام کو یہ ترغیب دی جائے کہ بعدازمرگ اپنے اعضاء عطیہ کرنا صرف جائز عمل ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ حکومتی سطح پر اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ حادثات کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے افراد کے اعضاء ان کی وصیت کے مطابق فوری طور پر نکال کر استعمال میں لا سکیں کیوں کہ مرنے کے بعد ایک مخصوص وقت تک ہی یہ کارآمد رہ سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں حکومت کو چاہیے کہ ہر بڑے شہر میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ جیسے جدید سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال قائم کرے، جہاں اپنے شعبے کے ماہرین ڈاکٹرز تعینات کئے جا سکیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا غیرضروری نہیں ہو گا کہ ایک حقیقی انسان دوست ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹرز کی نسبت زیادہ بہتر طریقے اور کامیابی سے علاج کر سکتا ہے۔ ہم بڑے بڑے ایسے ڈاکٹرز سے بھی آگاہ ہیں جو سرکاری ہسپتالوں میں محض اس لئے کام کرتے ہیں کہ وہاں سے اپنے پرائیویٹ کلینک کے لئے مریضوں کو گھیرا جا سکے۔ لاہور کے ایک بڑے ہسپتال میں شعبہ نفرالوجی کے سربراہ سے گزشتہ سال ملاقات ہوئی تو وہ صاحب اپنے ہسپتال میں علاج کرنے کے بجائے اپنے مریضوں کو یہ بھاشن دیتے نظر آئے کہ آپ ڈیفنس میں واقع ایک پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کروالیں یقینا وہ ہسپتال ڈاکٹر صاحب کا یا ان کے کسی عزیز دوست وغیرہ کا ہوگا لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سبھی ڈاکٹرز ایک جیسے ہوتے ہیں۔

گزشتہ دنوں راقم کی ڈاکٹرز ہسپتال کے نفرالوجسٹ ڈاکٹر حمید تجمل خان سے اقبال اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر اور عزیز دوست ڈاکٹر سہیل عمر کی وساطت سے ملاقات ہوئی تو ایک خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ڈاکٹر حمید تجمل کو محض ایک ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ ایک بہترین دوست اور دانش ور پایا۔ ان کا خاصہ یہ ہے کہ وہ طب کو کمائی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے پیشہ مسیحائی خیال کرتے ہیں، ان کا فلسفہ یہ ہے کہ محض مرض کو ہی ختم نہ کیا جائے بلکہ مرض پیدا کرنے والی وجوہات کو بھی ختم کیا جائے۔ اسی طرح ایس آئی یو ٹی کے سربراہ ڈاکٹر رضوی ایک ایسے مرد درویش ہیں جو مشنری جذبے کے ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت میں برسوں سے مصروف عمل ہیں۔ کاش ہمارے تمام ڈاکٹرز ان کی طرح حقیقی مسیحا بن کر امراض کے خاتمے کے لئے صدق دل سے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment