0

اسے ضرور پڑھیے!

ہر کتاب کا کوئی نہ کوئی موضوع ہوتا ہے لیکن اگر کتاب کا موضوع بھی ایک کتاب ہی ہو تو کیا کہنے!….اور کتاب بھی وہ جس کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ شکوک سے پاک ہے اور پرہیزگاروں کے لئے منبع ہدائت ہے، جسے قیامت تک اصل حالت میں قائم رہنا ہے اور جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لیا ہے۔

اگر آپ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ قرآن کے مطالعہ کے آداب کیا ہیں، وحی کی ہیئت، تاریخ اور قرآنی شکل میں ترتیب پانے کا طریقہ کار کیا تھا، قرآن مجید فرقان حمید کی فہم کے لئے حدیث کو سمجھنا کیونکر ضروری ہے، قرآن پاک کے بڑے موضوعات کیا ہیں، چودہ سو سال گزرجانے کے باوجود اس کی معنویت کیونکر برقرار ہے، قرآن زندگی کے آداب بارے کیا کہتا ہے، یہ تضادات سے پاک کیونکر ہے، مدرسوں کے حوالے سے کہاں کیا غلط ہوگیا، مظاہر فطرت سے قرآن کا رشتہ کیا ہے، سماجی مسائل پر قرآنی تعلیمات کیا ہیں، اور علامہ اقبال کی شاعری کا موضوع قرآن مجید کیونکر بنا تو پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری کی تازہ کتاب The Holy Quran: A continuous Miracleکا مطالعہ ضرور کیجئے۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں تحریر کی گئی ہے مگر اس قدر آسان اور سہل کہ شائد اردو میں بھی اس روانی سے نہ لکھی جا سکتی!

ڈاکٹر چودھری پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور ان دنوں Professor Emeritusہیں۔ فلسفہ، عربی زبان و ادب اور قرآنی علوم کے ماہر کے طور پر آپ نے ایک بڑانام کمایا ہے اور زمانے بھر سے اعزازات کے ٹوکرے سمیٹ چکے ہیں، آپ بزم اقبال لاہور سے تعلق خاص رکھتے ہیں۔

کتاب کے بارے میں خود ڈاکٹر چودھری رقمطراز ہیں کہ اس کتاب کا محرک قرآن مجید کی سورہ نسا ء کی یہ آئت ہے کہ ’کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر اسے اللہ کے سوا کسی نے بھیجا ہوتا تو انہیں اس میں بہت سی خامیاں اور تضادات ملتے۔‘ اس کے علاوہ فرانسیسی ماہر لسانیات Roland Barthesکا مضمون بعنوان The Death of the Authorہے جس کا مرکزی نقطہ کچھ یوں ہے کہ The form is permanent and the content moves

اسی طرح وحی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر چودھری بتاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے خوابوں، حضرت جبرائیل علیہ السلام اور صوت الجرس کی صورت وحی اترتی تھی۔ وحی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ ماہرین کے مطابق سب سے پرانی وحی بحر مردار میں سے ملنے والی ایک تحریر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت ادریس علیہ السلام پر اترنے والی وحی تھی جو اخلاقی تعلیمات پر مبنی ایک تحریر کی صورت ہے۔ اسی طرح عراق میں السعدیات کے نام سے ایک چھوٹا سا مذہبی گروہ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ ایک زمانے میں ان کے پاس ایک مکمل کتاب ہوتی تھی مگر اس میں سے اب محض چند سطریں ہی ان کے پاس باقی بچی ہیں۔ تمام نبیوں میں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم واحد نبی ہیں جنھوں نے وحی الٰہی کو تحریری شکل دینے اور محفوظ بنانے کا سامان کیا جو بلاشبہ اللہ کا حکم بھی تھا کہ 315 مقدس کتابوں اور صحیفوں میں صرف قرآن مجید واحد کتاب ہے جو ہر طرح کی ملاوٹ اور قطع و برید سے پاک ہے اور تاقیامت اسی صورت میں رہے گی۔

ڈاکٹر چودھری بتاتے ہیں کہ پچھلی صدی میں جرمنی میں واقع یونیورسٹی آف میونخ میں قرآن کے مطالعے کا ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا جہاں Professor Gotthelf Bergstrasserنے چودہ سو سالوں میں دنیاکے مختلف کونوں میں شائع ہونے والے قرآن مجید کے 42000 نسخے اکٹھے کئے اور تحقیق سے پتہ چلا کہ کسی ایک میں بھی زیر و زبر کا فرق نہیں ہے۔

ڈاکٹر چودھری کا یہ بھی ماننا ہے کہ بائبل کی طرح قرآن میں مختلف سورتوں مخصوص موضوعات اور تاریخی واقعات اس لئے نہیں ہیں اور یہ کہ سوائے حضرت یوسف علیہ السلام کے کسی اور نبی کا کسی ایک سورہ میں مکمل واقعہ نہیں دیا گیا ہے کیونکہ قرآن مجید تاریخ یا سائنس کی کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ اس کا مخاطب بنی نوع انسان اور اس سے جنم لینے والے معاشرے کی وحدت اور سماجی انصاف کا حصول ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں دیئے گئے واقعات دیگر کتابوں سے ہٹ کر ایک علیحدہ انداز میں دیئے گئے ہیں۔

دین اسلام اور قرآن مجید سے محبت کرنے والوں کے لئے یہ کتاب ایک تحفے سے کم نہیں ہے، اس کا ایک ایک حرف قابل مطالعہ ہے اور کتاب ہدائت کے حوالے سے انسانی مخمصوں کا حل ہے۔ اسے ضرور پڑھیے!

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں