0

اسپغول تے کج نا پھول

پنجاب کا گبرو وزیر اعلی جگرا رکھے اور تگڑا ہوجائے، اگر عتیقہ اوڈھو کو شراب کیس میں 210 پیشیوں،12ججز کے تبادلے اور 9سال دو ماہ بعد انصاف مل سکتا ہے تو انہوں نے کونسی قوم کی مج چرا لی ہے یہ تو معجزوں کاملک ہے یہاں اپنے وقت کا سب سے “ٹائٹ” چیف جسٹس ایک قتل کے مجرم کے  جیل والے کمرے سے ملنے والی شراب ثابت نہ کر سکا۔ بھیا میرے ڈاڈے کی شراب بھی شہد ہوتی ہے۔ بس میرے  وزیر اعلیٰ کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ مولے کو مولا نہ مارے تے مولا نہیں مردا۔ ہم تو پہلے ہی مسلم لیگ کی ماڑی کملی سی مریم اورنگ زیب کو پیر فقیر مانتے ہیں کیا خوب انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کو این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ جیسے غریب عوام کا ہروقت گھگو بولتا ہے ویسے ہی سیاستدان کا تجربہ بولتا ہے۔ اپنا سنتا سنگھ میوزیم گیا وہاں ان سے ایک کپ ٹوٹ گیا۔ میوزیم افسر بولا سنتا جی یہ کپ 5سو سال پرانا تھا۔

سنتا بولا شکر اے میں سمجھیانواں سی۔ سمجھ سمجھ کی بات ہے مریم اورنگ زیب سمجھ گئیں باقیوں کو بھی جلد سمجھ آ جائے گی۔ کیونکہ ”اے گھوڑی تے ایہہ گھوڑی دا میدان“۔ لہٰذا سیاست کے میدان کے  شیروں چیتوں گھوڑے گھوڑیوں اور کھوتوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ این آر او عمران خان سے نہیں کسی اور کھوکھے سے ملنا ہے۔ کھوئے والی بابے دی قلفی کی جتنی مرضی جمہوریت نما فرنچائز کھل جائیں بابے دی قلفی کی ملک بھر میں ایک ہی دکان ہے۔ مریم نے دراصل یہ کہا ہے کہ کدھر  جاتا ہے کدھر تیرا دھیان ہے۔ بابے دی کھوئی والی قلفی کی پنڈی میں اصل دوکان ہے۔ سو میرے ہر دل عزیز وسیم اکرم پلس میں اس گیند کے بھی قربان جا?ں جو چمکا اور بنا کے کوئی دیتا ہے اور سوئنگ آپ کرتے ہیں۔ یہ آپ بھی جانتے ہو کہ کہا ‘دھی’ کو جا رہا ہے اور سنایا ‘نو’ کو۔ آپ کی تو فلم میں ایکشن سسپنس اور تھرل برقرار رکھنے کیلیے انٹری کرائی گئی ہے۔

میرے سابق بڑے بھیا اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیاست کے کھیل میں کبھی کبھی ”تھومارا“ نہیں ہوتا۔ اس لئے انہوں نے مجبوری کی زندگی کے بجائے مفروری کی زندگی کو بہتر سمجھا۔ جہاں آپ جب چاہیں جہاں جاہیں اپنی منجھی ڈا سکتے ہیں۔ جمہوریت اور انقلاب وڑ گیا بھانڈے میں بندے کو اپنی زندگی عزیز رکھنی چاہئے۔ ہم تو پہلے کہتے تھے ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے دیکھ لو ڈان نے کیسے آپ کے عدالتی نظام، اداروں اور عوامی جذبات کی ککڑوں کوں کرائی بس اتنی سی اوقات ہے اس نظام کی۔ یہاں غریب بجلی چوری کرنے پر جیل کے اندر اور طاقتور ملک سے باہر ہوتا ہے۔ بھیا میرے اس ملک کا نظام چیچو چیچ گنڈیریاں ہے جس میں دو تیریاں ہیں اور دو میریاں ہیں۔ جس میں چٹ بھی آپ کا اور پٹ بھی آپ کا۔ رہی یہ بائیس کروڑ عوام نما  کیڑے ان کا کام آوے آوے جیوے جیوے کہتے مر جانا ہے۔

اور انقلابی کروڑ دو کروڑ کی بلٹ پروف گاڑی میں اعلیٰ ترین پارلر کے میک اپ کے ساتھ کافی کی چسکیاں لیتے ہیں ورکر پاباجولاں ڈنڈے سوٹے کھائیں۔ ان کے کپڑے لیرولیر ہو جائیں، جسموں پر ڈنڈے کھا کر گومڑے پڑ جائیں یا سروں میں ڈنٹ پڑ جائیں بس جمہوریت کی گاڑی پر ‘چریٹھیں ‘ نہیں پڑنی چاہئیں ان کی زندگی کی قیمت گاڑی پر پڑنے والی معمولی سی چریٹھ سے زیادہ نہیں۔ ٹی وی اینکر نے اپنے بنتا سنگھ سے پوچھا بنتا جی حکومت کیسی جارہی ہے وہ بولا کاکا پتر ڈاڈیاں نوں حوراں نظر آرہی ہیں اور ہمیں ملک الموت، لیکن یہ بنتا سنگھ ہے جسے ملک الموت نظر آتا ہے ہم کیا کریں کہ ہمیں ملک الموت میں  ہی اپنے دکھوں کا مداوا نظر آتا ہے۔ کوئی ملک الموت جمہوریت کے گیٹ اپ میں کوئی اسلامی ہیرو کوئی لبرل ازم اور کوئی نئے نکور پاکستان  کا کِھیس وٹ کے سامنے آتا ہے اور ہم ہر بار اس کی ایک پپی ادھر ایک پپی ادھر لیتے ہیں۔ اپنی زبانیں کاٹ کر ان ملک الموتوں کی تلّی پر رکھ دیتے ہیں کہ مبادا ان کی شان میں گستاخی نا ہو جائے۔ ہے کوئی ہے جو پوچھے بھیا جس آئین میں لکھا ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی۔ وہ آئین انگلش میں کیوں ہے؟ مجال ہے کسی نکر سے آواز آئے بھیا آئین کی پہلی شق ہے ریاست کا نظام قرآن و سنت کے تابع ہوگا پھر ریاست کا نظام کاروبار سود میں کیوں؟ بس بھائی چپ کر جا دڑ وٹ جا کیونکہ بانگ دینے والا مرغا ہی ذبح ہوتا ہے۔ یعنی جیہڑا بولے اوہی کنڈا کھولے۔

ہے تو گھساپٹا لطیفہ، تھوڑا بدتہذیب اور اخلاقی گروٹ کا شکار، بس سمجھ لیں اپنی جمہوریت جیسا لطیفہ ہے۔ سنتا سنگھ نے بنتا سنگھ سے کہا سردار جی فصل کیسی ہوئی، بنتا بولا تے تیری بہن نے نس کے ویاہ نہیں کیتا سی۔ سنتا سنگھ بولا میں نے فصل کا پوچھا اور تو نے یہ کیا بکواس کردی۔ بنتا بولا فیر گلاں وچوں گل تے نکل آؤندی اے۔ ہمارا لاڈلے بھانجے نمبر2 مرتضیٰ وہاب نے بھی خوب گلاں وچوں گل کڈی،ان سے کراچی کی بارش پر سوال ہوا تو وہ بولے پھر کیا ہوا کیا لاہور میں بارش کا پانی کھڑا نہیں ہوتا؟ بھیا پانی گوڈے گوڈے کھڑا ہویا گٹے گٹے ڈوبتا غریب ہی ہے۔۔کرپشن کا چاہے بحر منجمند ہی کیوں نہ ہو امیر شرم سے ڈوب نہیں مرتا۔ غریب چاہے گھوٹکی کا ہو یا پتوکی ایک سا ہوتا ہے۔ آپس میں ناراض ناراض اور پارٹیوں، فرقوں اور زبانوں میں تقسیم۔ اور ان پر حکومت کرنے والے ‘اتوں اتوں رولا پاتے ہیں اور اندروں اندروں لٹ کے کھاتے ہیں ‘۔ ورنہ ہے کوئی جو صرف یہ بتا دے نوازشریف کو کس عدالت نے ضمانت دی یا کس ادارے نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالا۔ بس یہ ملک اسپغول تے کج نہ پھول ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں