Home » اسٹیبلشمنٹ پرعمران خان کی تنقیدبجا تھی،ہماری غلط کیوں،جاوید لطیف

اسٹیبلشمنٹ پرعمران خان کی تنقیدبجا تھی،ہماری غلط کیوں،جاوید لطیف

by ONENEWS

ندیم ملک لائیو میں حکومت اور اپوزیشن کے سوال جواب

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ جب وزیر اعظم عمران خان اپنے دور حکومت سے پہلے کے جلسوں میں اسٹیبلشمنٹ کا نام لیتے تھے اور حکومتی معاملات میں اس کی مداخلتوں پر نکتہ چینی کرتے تھے تب سب ٹھیک تھا اب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یہ باتیں کرہی ہے تو اس پر حکومت برا کیوں منارہی ہے۔

یہ سوال انہوں نے سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں اس وقت اٹھایا جب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پی ڈی ایم کے اعلامیے میں شامل نکات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جو اپوزیشن یہ بات کر رہی ہے انہوں نے اپنی حکومتوں کے دوران اس پر کیا کیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوج اور عوام کے کردار پر بات انہیں اپنے اقتدار کے دوران کرنی چاہیے تھی۔

پروگرام کے میزبان ندیم ملک نے شبلی فراز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر اسٹیبلشمنٹ کا ملکی سیاست میں کردار ختم کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو اس کے 126 دن کے دھرنے کا خاتمہ بھی بات چیت پر ہی ہوا تھا اب یہ حکومت میں ہے تو اپوزیشن کی شکایات پر ان سے مذاکرات کرے۔

شبلی فراز نے میزبان کی پہلی بات کا تو جواب نہیں دیا تاہم انہوں نے بعد ازاں اپوزیشن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک بہت ہی بہترین جمہوری بات کی ہے کہ اپوزیشن کو شکایات ہیں تو پارلیمنٹ کا دورازہ کھلا ہے وہ وہاں آکر ان پر بات کرے۔

میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا اپوزیشن کی اس بات میں کیا مضائقہ ہے کہ ایک ادارے کو دوسرے اداروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور اس بات میں کیا غلط ہے اگر ہم معیشت کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو اداروں سے ٹکرانے کا موقع نہ دے کیوں کہ اس سے خطرناک بات کوئی اور ہو نہیں سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان الگ ہوتے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا اور اب موجودہ حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ویسی ہی صورتحال پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی سے لے کر دیگر معاملات تک حکومت پاکستانی عوام کو ایسی جگہ دھکیل رہی ہے کہ ان کا ریاستی اداروں سے ٹکرانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

قبل ازیں شبلی فراز نے اتوار کے لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں محمود خان اچکزئی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے لاہوریوں کے خلاف بات ہوئی اور اس سے قبل کوئٹہ جلسے میں آزاد بلوچستان کی بات کی گئی۔

جاوید لطیف نے وضاحت کی کہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں کوئی آزاد بلوچستان کا نعرہ نہیں لگایا گیا تھا اور جہاں تک محمود اچکزئی کے خطاب کا معاملہ ہے ان کی بات میں ایسی کیا چیز تھی اور انہوں نے یہ کب کہا کہ لاہور نے پاکستان کے خلاف کام کیا۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا اتوار کا شو انتہائی کمزور تھا اور لاہور کے عوام نے اپوزیشن کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لوگ ذاتی مفاد کی جنگ لڑرہے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment