Home » اسٹاک ایکس چینج پر حملے کے پیچھے بھارت ہے، وزیراعظم

اسٹاک ایکس چینج پر حملے کے پیچھے بھارت ہے، وزیراعظم

by ONENEWS


وزيراعظم نے کہا کہ يقين دلاتا ہوں حکومت کہيں نہيں جارہی، اپوزيشن پورا زور اين آر او کيلئے لگا رہی ہے، وہ مائنس ون چاہتے ہيں ليکن ايسا ہو بھی گيا تو انہيں کوئی نہيں چھوڑے گا۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے پیچھے بھارت ہے، ممبئی طرز کی دہشت گردی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ سب سے پہلے پاکستان کے ہیروز سے متعلق بات کروں گا، کوئی شک نہیں کہ حملے کے پیچھے بھارت ہے، ممبئی طرز کی دہشت گردی کا منصوبہ بنایا گیا تھا جسے ناکام بنادیا گیا، انٹيلی جنس اداروں کو خراج تحسين پيش کرتا ہوں، دہشت گردی کے 4 منصوبے ناکام بنائے جاچکے ہیں، خفيہ ايجنسياں مکمل طور پر چوکنا ہیں۔

انہوں نے بجٹ پاس ہونے پر سب کو مبارکباد دی، اتحادی جماعتوں اور اقلیتوں کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے فیصلے خود کرتے ہیں، لاک ڈاؤن لاک ڈاؤن کہہ رہے ہيں، غريبوں کا کچھ معلوم ہی نہيں، لاک ڈاوَن سے متعلق سندھ سے مسائل سامنے آگئے، ہم نے 4 ہزار 900 ارب روپے اکٹھا کرنا تھا وہ 3900 ارب پر آگیا، لاک ڈاؤن کے اثرات کی وجہ سے مطلوبہ ہدف پورا نہ ہوسکا، عوام پر بڑا جھٹکا لگا ہے، لوگ مشکل ميں ہیں، تعليم اور صحت پر خرچ ہونیوالا پيسہ سرکاری کارپوريشنز پر لگ رہا ہے، پاور سيکٹر ميں بڑی تبديليوں کيلئے تيار ہيں۔

مزید جانیے : کراچی:اسٹاک ایکس چینج پرحملہ ناکام،4دہشتگرد ہلاک،3 اہلکارشہید

وزیراعظم نے مزید کہا کہ 11 سالوں ميں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے 10 چيف ايگزيکٹو ہٹائے گئے ہيں، سربراہوں کی تبديليوں سے ادارے تباہ ہوجاتے ہيں، اداروں ميں اصلاحات ناگزير ہوچکی ہيں، مقروض ملک ميں ہم اربوں روپے بند اسٹيل مل پر خرچ کررہے ہيں، اگر اداروں کی اصلاح نہ کی تو ہم مزيد نيچے آجائيں گے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہيں کہ ہمارا کسان پيسہ بنائے، اربوں روپے کی سبسڈی لے کر شوگر مافيا مہنگی چینی فروخت کررہی ہے، ميرا مشن ہے کہ تمام کارٹيل کو قانون کے تحت لے کر آئيں، آصف زرداری اور نواز شريف کی شوگر ملز ہيں، ان کی شوگر ملز بليک کا پيسہ وائٹ کرنے کیلئے ہيں۔

وہ کہتے ہیں کہ ميں نے واشنگٹن اور تمام جگہ جاکر کہا کہ پاکستان کو مدينہ کی رياست بنانا چاہتا ہوں، جو قوم مدينہ کی رياست کے اصولوں پر چلے گی وہ اٹھ جائے گی۔

وزیراعظم نے پاکستان کے ڈاکٹرز اور پيراميڈيکل اسٹاف کو خراج تحسين پيش کرتے ہوئے کہا کہ ہميں احساس ہے کہ وہ کس مشکل ميں کرونا کیخلاف کام کررہے ہيں، حکومت ڈاکٹرز اور پيراميڈيکل اسٹاف سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔

پاکستان ميں سب سے زيادہ ظلم 30سالہ سياست ميں ہوا ہے، نواز شريف پارليمنٹ ميں پانامہ فليٹ کے متعلق دستاويزات پيش کرتے تھے، جب سپريم کورٹ گئے تو معلوم ہوا کہ يہ ڈاکومنٹس جعلی ہيں، 22 کروڑ آبادی کے ملک کا وزيراعظم دوسرے ملک ميں نوکری کررہا ہے، اس کا کسی جمہوری ملک ميں تصور نہيں ہے۔

يہ لوگ چاہتے ہيں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جلدی چلی جائے، يہ پہلے دن سے شور مچارہے ہيں کہ حکومت ناکام ہوگئی، ان سب کو ڈر ہے کہ جب تک حکومت رہے گی ان کا پول کھلے گا، يقين دلاتا ہوں حکومت کہيں نہيں جارہی، اپوزيشن پورا زور اين آر او کيلئے لگارہی ہے، وہ مائنس ون چاہتے ہيں ليکن ايسا ہو بھی گيا تو انہيں کوئی نہيں چھوڑے گا، کرسی چھوڑنے سے کبھی گھبرانا نہیں چاہئے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان آج اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو اس ناقابل قبول راستے پر چلنے سے روکیں جس سے کشمیری عوام کے قانونی اور عالمی سطح پر دئیے گئے حقوق مزید سلب ہوں اور جنوبی ایشیاء کا امن و استحکام سنگین خطرے سے دوچار ہوجائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے رابطہ کیا ہے اور وہ اس حوالے سے دوسرے عالمی رہنماؤں سے بھی رابطے کررہے ہیں، پہلے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیرقانونی انضمام کی کوشش کی اور اب 25 ہزار بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کرکے مقبوضہ وادی کا آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے یہ تمام اقدامات غیرقانونی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔



Source link

You may also like

Leave a Comment