Home » اسلام آباد واقعہ کیا وکلاء سبق سیکھیں گے؟

اسلام آباد واقعہ کیا وکلاء سبق سیکھیں گے؟

by ONENEWS

اسلام آباد واقعہ، کیا وکلاء سبق سیکھیں گے؟

قانون کو گھر کی باندی سمجھنے والے وکلاء کو پہلی بار یہ تجربہ ہو رہا ہے کہ قانون کی گرفت کیا ہوتی ہے وکلاء نے اسلام آباد ہائیکورٹ پر اس وقت حملے کی جو غلطی کی جب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ بھی وہاں موجود تھے اور انہیں روکتے رہے، مگر جنونی وکلاء نے ان کی بھی نہ سنی، اب اس کا خمیازہ انہیں ایسے بھگتنا پڑ رہا ہے کہ وہ قانون کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں بڑے سے بڑے واقعہ کے بعد قانون کو بے اثر کر کے نکل جانے والے وکلاء آج ریلیف مانگتے پھرتے ہیں مگر ان کی شنوائی نہیں ہو رہی جس شاخ پر آپ کا آشیانہ ہو، اسی کو کاٹیں گے تو گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے،چھوٹی عدالتوں کے ججوں کو تشدد اور بے عزتی کا نشانہ بناتے بناتے وکلاء جب ہائیکوٹ کی سمت بھی جا نکلے تو گویا انہوں نے خود اپنے لئے تباہی و بدنامی کا راستہ چن لیا یہ بڑی عدالتیں ہی تھیں جہاں سے وکلاء کو ضمانتیں اور ہلہ شیری ملتی رہی ان کے ہاتھ انہی عدالتوں تک پہنچے تو انہوں نے خود اپنے لئے عدالتوں کے دروازے بند کر لئے۔ اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں ملوث وکلاء مکمل طور پر قانون کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں اب انہیں صرف قانونی طریقے سے ہی ریلیف مل سکتا ہے دھونس اور زورا زوری کام نہیں آ رہی کیونکہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے قانون شکنوں کو سخت سبق سکھانے کا تہیہ کر لیا ہے۔

وکلا کے لئے حالات کس حد تک غیر موافق ہو چکے ہیں اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے سی ڈی اے کو حکم دیا ہے کہ تمام غیر قانونی چیمبرز گرا دیئے جائیں خاص طور پر گرین بیلٹ پر بنے ہوئے چیمبرز اور غیر قانونی تجاوزات کو مسمار کر دیا جائے جب آپ اپنی حد سے گزرتے ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے وکلاء نے سی ڈی اے کی طرف سے چیمبرز گرانے پر احتجاج کیا تھا اور اس کے لئے یہ تک بھول گئے تھے کہ ہائیکورٹ ایک مقدس ادارہ ہے اس کی حرمت کا احترام تمام شہریوں پر تو واجب ہے ہی، تاہم وکلاء پر کچھ زیادہ ہی ہے کہ وہ کالے کوٹ میں قانون کے رکھوالے سمجھے جاتے ہیں اسلام آباد سے قانون کی بالا دستی کا جو پیغام ملا ہے اس کے اثرات پورے ملک پر ہوں گے یہاں بدقسمتی سے وکلاء نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ قانون سے بالا تر ہیں پورے ملک میں وکلاء کے اکثر چیمبرز غیر منظور شدہ اور سرکاری زمینوں پر بنے ہوئے ہیں مگر ان کے خلاف کارروائی اس لئے نہیں ہو سکتی کہ وکلاء ایسی کسی کوشش پر کچہری بند کر دیتے ہیں، تاہم اسلام آباد میں اب یہ مثال قائم ہو چکی ہے کہ اگر کچھ غیر قانونی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی، چاہے سامنے وکلاء ہی کیوں نہ ہوں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا بلکہ مصلحتوں کی وجہ سے آنکھیں بند کی جاتی رہیں۔

ایک خبر کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے فول پروف سیکیورٹی کے لئے رینجرز کی مزید نفری طلب کر لی ہے، جو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی حفاظت کرے گی یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اب وکلاء کی لا قانونیت پر آنکھیں بند کرنے کو تیار نہیں وہ نہ صرف ہائیکورٹ حملے میں ملوث وکلاء کو قانون کے مطابق جزا و سزا کے مرحلے سے گزارنا چاہتی ہے اور دوسرا ان کی غیر قانونی تجاوزات اور قبضوں کو ختم کرانا چاہتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ادارہ وکلاء سے اس لئے گھبراتا رہا ہے کہ وہ ایک طرف قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں اور دوسری طرف اس قانون کا سہارا لے کر کسی بھی سزا سے محفوظ رہتے ہیں کیا سب کو یاد نہیں  کہ ہائیکورٹ بار ملتان بنچ کے ایک سابق صدر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جج کی عدالت پر حملہ کر دیا تھا۔ مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس اسے گرفتار نہ کر سکی۔ اس نے بالا بالا کیس ختم کرانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے۔

لاہور میں وکلاء نے اسے بچانے کے لئے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی قصہ مختصر یہ کہ بالآخر وکلاء کامیاب ہو گئے اور وہ شخص بغیر ضمانت کرائے گرفتاری سے بھی بچ گیا اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہلکی پھلکی سرزنش کے بعد اسے بری الذمہ قرار دیدیا۔ اب ظاہر ہے ایسے واقعات وکلاء میں لاقانونیت کا جذبہ ابھارتے ہیں ان کے دلوں سے عدلیہ کا خوف اور قانون کا احترام ختم کرتے ہیں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اپنے تئیں اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی کوشش کرتے رہے سابق چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے تو اس حوالے سے لمبی لمبی واعظانہ تقریریں بھی کیں۔ خاص طور پر لاہور میں پی آئی سی کے واقعہ پر انہوں نے درد مندانہ اپیل کی تھی کہ نوجوان وکلاء اپنے سینئرز سے سیکھیں اور قانون شکنی کا راستہ اختیار نہ کریں مگر کون سنتا ہے فغانِ درویش۔

اسلام آباد کا واقعہ بھی اگر اس مصلحت بندی کی نذر ہو جاتا تو یہ بہت بڑی بدقسمتی ہوتی۔ اچھا کیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی ٹھان لی۔ بار کونسل اور وکلاء تنظیموں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لانے کا فیصلہ کیا ”قانون سب کے لئے“ کا نظریہ اپنایا اور سی ڈی اے کو قانون کے مطابق غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ آج صاف نظر آ رہا ہے کہ کم از کم اسلام آباد ہائیکورٹ کی حد تک وکلاء گردی کے نظریئے کو رد کر دیا گیا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ اپنے ادارے کا تقدس اور حرمت بحال رکھنے کے لئے ہر سطح تک جانے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے جو بار اور بنچ کی سوچ میں آئی ہے پہلے بار اور بنچ کے خوشگوار تعلقات کے نام پر لاقانونیت کے جن واقعات کی پردہ پوشی کی گئی انہوں نے بار اور بنچ کے تعلقات کو ایک مذاق بنا دیا۔ ان تعلقات کی پہلی شرط گویا یہ بن گئی تھی کہ جج صاحبان وکلاء کے سامنے سر نہ اٹھائیں، وہ جو انہیں کہیں، بے چوں و چرا کرتے جائیں ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں خواتین جج بھی وکلاء کے ہاتھوں زچ ہونے سے نہ بچ سکیں۔ مرد ججوں کو تو جسمانی تشدد اور زبانی گالم گلوچ کا بھی سامنا رہا اور اب بھی ہے تاہم اسلام آباد واقعہ کے بعد اعلیٰ عدلیہ کا اداروں کی حرمت بحال رکھنے کا عزم ایک خوش آئند امر ہے اب وقت آ گیا ہے کہ وکلاء تنظیمیں بھی مصلحت سے ہٹ کر بار اور بنچ کے باوقار تعلق کو یقینی بنانے کے لئے اپنا حقیقی کردار ادا کریں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment