Home » اسلام آباد میں مندر: چند توجہ طلب پہلو

اسلام آباد میں مندر: چند توجہ طلب پہلو

by ONENEWS

اسلام آباد میں مندر: چند توجہ طلب پہلو

سچ بات تو یہ ہے کہ آج میں یہ تحریر بڑی دل گرفتگی اور آزردگی کی کیفیت میں لکھ رہا ہوں۔ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جس پر ہر شخص اپنی آراء دینا شروع کر دے۔ یہاں تک تو مسئلہ شاید قابل گرفت نہ ہو۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ دوسری طرف میں نے انتہائی پڑھے لکھے— پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ اور قانون وغیرہ—ذمہ دار اہل علم کو روا روی میں اس انتہائی حساس مسئلہ کو ایک دو جملوں میں نمٹاتے دیکھا۔ زمین پر تعمیر ایک مختصر سے کمرے کے چھ پہلو یا زاویے ہوتے ہیں۔ کوئی ہوش مند شخص ایک کمرے کے اس مکان کے ایک ایک زاویے۔۔۔ مشرق، مغرب، شمال، جنوب چھت اور فرش۔۔۔ کو جب تک خوب ٹھونک بجا کر نہ دیکھ لے، کبھی سودا نہیں کرتا۔ ادھر اللّٰہ کا دین ہے کہ اس کو، حد تو یہ ہے کہ، پڑھے لکھے افراد نے بازیچہ اطفال بنا کر رکھ دیا ہے۔ زیادہ تفصیلی بحث میں آگے چل کر کروں گا، فی الحال لوگوں کی آراء کو دو حصوں میں سمونے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہندو اور دیگر غیر مسلم آبادیاں اس ملک کا محترم جزولاینفک ہیں۔ ان کے دستوری اور شرعی حقوق مسلم ہیں۔ ہمارا ملک اس عالمگیر برادری کا رکن ہے جس میں ہر ملک کو عالمگیر تقاضوں کے ساتھ ساتھ موقع کی مناسبت سے اپنی شرعی اور دستوری نزاکتوں کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن مسلمانوں میں سے اس اہم معاملے پر رائے دینے والے ایک گروہ کے ذہنوں میں یہ تاثر ہے کہ ہر ہندو شاید مودی ہوتا ہے، اور یہ کہ مندر کی تعمیر کے ساتھ ہی یہاں پر را(RAW) اور دیگر ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیاں طاقت پکڑ لیں گی۔ اگر یہ رویہ افسوسناک ہے تو مسلمانوں ہی میں سے ایک قابل ذکر گروہ ہندوؤں سے بڑھ کر ہندوؤں کا وکیل ہے۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ مندر مخالف اور محبان مندر دونوں مسلمان اس مندر کے ان چھ پہلوؤں کا علم تو کیا، اس مندر کے بارے میں معمولی سا علم بھی نہیں رکھتے۔

بات کو آگے بڑھانے سے قبل ضروری ہے کہ میں تین اہل علم کی آراء آپ کے سامنے رکھوں اور پھر آپ کو دعوت فکر دوں کہ میری ان معروضات کی روشنی میں ان آراء میں کس قدر جان ہے۔ میں خود کوئی حرف آخر قسم کی بات کہنے کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ میرے ایک نہایت محترم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن نے اسلام آباد میں تعمیر مندر کے معاملے کو فیس بک پر چار جملوں میں یوں نمٹادیا، کاش وہ کوئی مبسوط مضمون لکھتے تو ہمیں رہنمائی حاصل ہوتی: “غیر مسلم شہری ہر قسم کے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ملک کے وفادار بھی ہیں. لہذا مسلمان حکومت ان کے حقوق کی ضامن ہے. ٹیکس کے پیسے سے ان کی عبادت گاہیں بھی تعمیر کی جا سکتی ہیں. شرعاًاس میں حرج نہیں ہے”۔

میرے ایک اور پی ایچ ڈی دوست نے اس رائے پر جو گرہ لگائی, وہ ملاحظہ ہو: ” اسی لئے اسلام آباد کے ہندو شہریوں کو مندر کی تعمیر سے روکنا درست نہیں “. تیسری رائے بھی ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر کی ہے۔ پڑھ کر میں تو سٹ پٹا کر رہ گیا۔بعض آ را ایسی ہوتی ہیں کہ ان پر معمولی سوچ بچار بھی غیر علمی رویہ اور وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ یہ رائے ویسی ہی ہے، ملاحظہ ہو:” ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کو مسجد نبوی تک میں (سازاور باجے کے ساتھ) عبادت کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس مسئلے پر میں نے آرٹیکلز بھی لکھے ہیں “۔ ان پروفیسر ڈاکٹر صاحبہ سے میں نے مسجد نبوی میں ساز اور باجے کے ساتھ مسیحیوں کی عبادت کا حوالہ مانگا تو ان کا جواب ملاحظہ ہو: “میں نے جس کتاب میں پڑھا تھا، کبھی حوالہ سامنے آیا تو ضرور بتا دوں گی. بہتر تو یہ ہے کہ آپ خود صحیح بخاری و مسلم میں تلاش کریں “. اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہماری جامعات میں سے کس اہلیت کے ڈاکٹر نکل نکل کر دھڑا دھڑ پروفیسر بن رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے کئی دوست اس تاسف کا اظہار کرتے ہیں کہ محکمانہ اور ادارہ جاتی مجبوری کے سبب وہ پی ایچ ڈی کر گزرے ہیں، ورنہ اس طرح کے پڑھے لکھے ٹبر میں وہ کبھی شامل نہ ہوتے۔

اس ساری بحث میں صف اول کے علمائے کرام میں سے میں نے کسی ایک عالم کی ایسی رائے پڑھی نہ سنی جو ہندوؤں کے دستوری یا شرعی حقوق کے خلاف ہو یا بجائے خود خلاف شرع ہو۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ کرونا اور تراویح کے بحرانی ایام میں محبان مندر اور تحریک بندش مساجد کے عہدے دار یہ دعویٰ لے کر مساجد بند کرانے پر کمر بستہ تھے کہ مساجد بند کرانے کا اختیار اہل طب کو ہے، اہل مذہب کو نہیں۔ اور جب تمام مکاتب فکر کے علماء نے اہل طب کو ساتھ ملا کر صدر مملکت کی موجودگی میں اہل طب کی رائے پر عمل کرنے کا ایک طریقہ وضع کر کے مساجد میں رائج کر دیا تو یہ لوگ استبدادی حکومتوں کے سرکاری علماء کے فتوے لہرانے لگ گئے تھے جن کا پاکستان کے حالات اور ماحول سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ آج جب علمائے کرام نہایت سوچ سمجھ کر اس مندر پر رائے دے رہے ہیں اور یہاں رائے دینا انہی کا کام ہے تو متعدد افراد اس انتہائی اہم شرعی مسئلے کا کوئی ایک رخ بھی سمجھے بغیر اور بلا سوچے سمجھے وہ کچھ بولے اور لکھے جا رہے ہیں جو نہ تو شرعاً درست ہے، نہ وہ مہذب اور متمدن دنیا کے چلن کے مطابق ہے۔

آج جس جگہ پر ہندو آبادی کو مندر کی جگہ ملی ہے، وہیں پر مسیحی قبرستان بھی موجود ہے۔ اسلام آباد اور پنجاب میں مسیحی آبادی زیادہ ہونے کے باعث اس قبرستان میں خاصی قبریں ہیں۔ متحدہ پاکستان میں مشرقی پاکستان کے آخری وزیر جناب راجہ تری دیو رائے بدھ مذہب سے متعلق تھے۔ ان کی کوششوں سے مسیحی قبرستان کے قریب بدھ آبادی کو بھی دو کنال کا ایک پلاٹ قبرستان کے لیے مل چکا ہے۔ بدھ لوگ اسلام آباد میں نہ ہونے کے برابر ہیں لہذا یہ پلاٹ خالی پڑا ہے۔ہندو آبادی نے اولا یہ کوشش کی کہ شمشان گھاٹ کے لیے بدھ آبادی کی نمائندہ راجہ تری دیو رائے کی بیٹی سے تعاون حاصل کیا جائے۔ انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ اسلام آباد ہندو پنچایت کونسل کے صدر جناب مہیش کمار صاحب نے مجھے بتایا کہ گزشتہ پچاس ساٹھ سالوں میں دیگر برادریوں کی طرح ہندو آبادی بھی اسلام آباد میں بڑھتی چلی گئی۔ دو ہزار تیرہ میں ہندو اپنی ضروریات اقلیتی کمیشن کے سامنے لے گئے۔

جسٹس علی نواز چوہان نے اس پر فیصلہ دیا کہ حکومت ہندو آبادی کی مطلوبہ ضروریات پوری کرے۔ یہ مطلوبہ ضروریات تین ہیں: میتوں کو ٹھکانے لگانے کے لے شمشان گھاٹ، میل جول کے لئے کمیونٹی سنٹر اور پوجا پاٹ کے لئے مندر۔ ان تین ضروریات کی نفی یقینا غیر انسانی رویہ ہوگا۔ بڑھتی ہوئی ہندو آبادی کی میت ٹھکانے لگانا ایک انسانی ضرورت ہے، چاہے یہ ضرورت کسی مذہبی برادری کی ہو۔ اگر مسیحی اور بدھ آبادیوں کو قبرستان کی جگہ مل سکتی ہے تو ہندو آبادی کو کیوں نہیں؟ تاہم ہندو آبادی کی یہ تین ضروریات الگ الگ ہیں۔ یہ ضروریات پورا کرنے کے طریقے بھی الگ الگ ہونے کا تقاضا کرتے ہیں۔ مسلمان اور مسیحی آبادی اپنے مردوں کو دفناتے ہیں لیکن ہندو آبادی لکڑیوں پر میت کو رکھ کر اسے دیسی گھی سے جلاتی ہے۔

چنانچہ مسلمان محبان مندر پروفیسروں سے سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کے وسط میں جب میت جلانے کا عمل ہوگا تو اس سے پیدا شدہ ماحولیاتی مسائل کا حل کیا ماہرین ماحولیات پیش کریں گے یا حسب معمول یہ محبان مندر پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ پروفیسر ہی اس بابت ہمیں کسی حرف آخر سے بہرہ مند فرمائیں گے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ یہ مسئلہ آج کے پھیلے ہوئے اسلام آباد کے وسط کا ہے، مدتوں قبل چھوٹے سے اسلام آباد کے دور مضافات میں کوئلے سے چلنے والی اینٹوں کی بھٹیاں ہوا کرتی تھیں۔ ماحول کو کوئلے کی معمولی سی آلودگی سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ نے تو دور ترلائی اور لوئی بھیر گاؤوں میں چند بھٹیوں کو بند کرا دیا تھا۔ تو جہ طلب امر یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے مختص اس سیکٹر میں لکڑیوں اور دیسی گھی پر انسانی گوشت اور ہڈیوں کو بھوننے کے اس عمل سے اشتہا انگیز خوشبو سے ماحول جس طریقے پر معطر ہوگا، کیا ہمارے مسلمان محبان مندر اس خوشبو سے مستفید ہو سکیں گے؟ کیا فتوی دینے سے قبل انہوں نے اس پر غور کیا تھا؟ اور یہ کہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد کو آلودگی سے بچانے کے لئے جو فیصلہ دور دراز کی بھٹیوں کے بارے میں دیا تھا، کیا شہر کے وسط میں واقع اس شمشان گھاٹ پر وہ فیصلہ لاگو ہو گا یا نہیں اور اگر نہیں تو کیوں؟

ہندو آبادی میری ان معروضات سے یہ نتیجہ نہ نکالے کہ میں شمشان گھاٹ کا مخالف ہوں۔ شمشان گھاٹ ان کی انسانی ضرورت ہے جو ہر حال میں پوری ہونا چاہیے، بشرطیکہ مغربی ممالک کی طرح یہ شمشان گھاٹ کسی سائنسی انداز میں چلایا جائے۔ اسلام آباد ہندو پنچایت کونسل کے جناب مہیش کمار کے مطابق ایسے نہیں ہوگا بلکہ یہ کام دیسی طریقے سے ہوگا۔ چنانچہ موجودہ صورت حال میں اپنی اس ہندو آبادی کو سہولت بہم پہنچانے کی خاطر یا تو یہ شمشان گھاٹ اپنی اسی جگہ پر سائنسی انداز میں چلایا جائے جو ممکن نہیں ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ شمشان گھاٹ کو شہر سے باہر، آبادی سے کہیں دور تعمیر کر لیا جائے۔ اس “دور” کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے. بلدیہ اسلام آباد ایسے مواقع پر مسلمان اور مسیحی آبادی کو میت گاڑی مہیا کرتی ہے۔ یہی سہولت ہندو آبادی کو اس دوری کی نسبت سے ذرا ارزاں نرخوں پر مہیا کی جا سکتی ہے۔ انسانی گوشت اور ہڈیوں کے شہر کے عین وسط میں جلنے سے پیدا شدہ آلودگی اور بدبو کسی مذہبی برادری کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ انسانی مسئلہ ہے جو ہمارے ہندو شہریوں کے لیے اتنی ہی سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے جتنی دیگر مذہبی آبادیوں کے لئے۔ امید ہے بلدیہ اسلام آباد ہندو آبادی کے ساتھ مل کر اس کا کوئی حل تلاش کر لے گی۔

مندر کی تعمیر، شمشان گھاٹ سے مطلقا الگ مسئلہ ہے اور کمیونٹی سنٹر کی تعمیر وہ تیسرا مسئلہ ہے جس کی نوعیت دونوں سے یکسر مختلف ہے۔ ان تینوں کے متعدد زاویے ہیں۔ ہر زاویے پر رائے دہی کا عمل طویل مطالعے اور تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔ آئندہ موقع پر میں کچھ مزید معروضات پیش کروں گا۔ فی الوقت آپ کی توجہ ایک اہم نکتہ کی طرف مبذول کرانا پیش نظر ہے۔ انسانی حقوق کی موجودہ شکل کا تصور جس مغربی دنیا سے آیا ہے، وہاں مسجد کیسے بنتی ہے، آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ میرے چچا زاد بہنوئی جناب عبدالسلام ملک، برطانیہ کے پیدائشی اور وہیں مقیم ہیں۔ مساجد کی تعمیر ان کا مقصد حیات ہے۔ اس بارے میں میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ وہاں کے مسلمان قانونی تقاضے پورے کرکے مقامی بلدیہ کو یہ ثابت کرتے ہوئے درخواست دیتے ہیں کہ شہر کے اس حصے میں مسلمانوں کی اتنی آبادی موجود ہے جس کے لیے مسجد موجود نہیں ہے۔ بلدیہ کے مطمئن ہونے اور بہت سے پہلوؤں (مثلا مسجد سے ممکنہ طور پر پیدا شدہ ماحولیاتی مسائل، ٹریفک، پارکنگ، امن عامہ، حقوق انسانی، مذہبی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری وغیرہ) پر غور کے بعد بلدیہ مطمئن ہو جائے تو مسجد کی یہ تجویز شہر کی دیگر آبادی میں مشتہر کرکے اس پر اعتراضات طلب کیے جاتے ہیں۔ اعتراضات جائز ہو ں تو مسجد نہیں بن سکتی، ورنہ اجازت مل جاتی ہے۔ اجازت ملنے پر نہ تو مسجد کے لئے زمین دی جاتی ہے، نہ پلاٹ اور نہ کسی قسم کے دیگر وسائل۔ مسلمان ہوں یا مسیحی، بدھ ہوں یا ہندو، اپنی عبادت گاہ کے اخراجات متعلقہ مذہبی آبادی خود ادا کرتی ہے۔

ہر معاملے میں مغربی تہذیب اور تمدن کی پیروی کرنے والی ہماری اشرافیہ اور بیورو کریسی نے کیا اس طریق کار کے کسی معمولی سے حصے پر بھی عمل کیا ہے؟ کیا سی ڈی اے اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ان میں سے کسی ایک پہلو کا بھی خیال رکھا ہے؟ یہ جمہوری ملک ہے یا چنگیز خان کا استبدادی دور حکومت؟اور یہ کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کی بنیاد پر اس قضیے کو نمٹاتے ہوئے سپریم کورٹ کے اینٹوں کی دور دراز بھٹیاں بند کرانے والے فیصلے کو سامنے رکھا ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کو یہ بھی توجہ دلائی جاتی ہے کہ ہائی کورٹ اسلام آباد کے اپنے عین سامنے سڑک کے پار مردے جلانے سے عدالتی فضا یقیناً معطر ہو گی۔تو کیا اس موقع پر سی ڈی اے کو معزز عدالت عالیہ کا ازخود نوٹس تو نہیں سہنا پڑے گا؟ میرا خیال ہے کہ عدالت عالیہ اور سی ڈی اے دونوں مل کر ابھی سے اس پر بھی غور کر لیں (باقی آئندہ)

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment