0

اسرائیلی بالادستی نے عرب دنیا کو چونکا دیا

متحدہ عرب امارات اسرائیل

یہ تصویر ٹی وی 7 اسرائیل سے لی گئی ہے

کیا آپ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے امن معاہدے کے بارے میں سن کر حیران ہیں؟ اگر آپ کا جواب ”ہاں“ ہے، تو یہ بالکل بڑی بات نہیں ہے کیونکہ عرب دنیا اور سارے مسلم ممالک بھی حیران ہیں۔ کیونکہ کچھ مسلم ممالک نے ابھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور انھیں اس بات کا ڈر ہے کہ اس کے پیچھے کوئی خفیہ منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ جبکہ اسرائیل کو مشرق وسطی کا طاقتور ملک سمجھتا جاتا ہے۔

اہم نقطہ یہ ہے کہ اس معاہدے کا اعلان دونوں ممالک کے بجائے امریکا نے کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا خطے میں اپنی برتری ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن ہیں، جس میں ٹرمپ کی جیت کی امید کم ہے۔ کیونکہ کرونا کی وجہ سے امریکا کو معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جب ہی یہ معاہدہ تل ابیب اور ابو ظہیبی کے بجائے واشنگٹن میں ہوا۔

ایسی کیا وجہ ہے کہ عرب دنیا یہ چاہتی ہے کہ صدر ٹرمپ دوبارہ جیتیں؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکا ایران کا دشمن ہے، جب ہی عرب دنیا امریکا کا حامی ہے۔ اسی ضمن میں امریکا نے اپنی حفاظت کے لیے ایران کے طاقتور شخص قاسم سلیمانی کو فضائی حملے میں قتل کردیا تھا۔ لیکن ایران امریکا کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکا جبکہ ایران مشرقی وسطیٰ میں امریکا کے پکے حمائتی ملک اسرائیل کے مزید خلاف ہوگیا تھا۔ کیونکہ امریکا نے ایران کی قوت ہی ختم کردی تھی۔ جبکہ ایران نے اس اسرائیل اور امارات کے معاہدے کو مسترد کردیا کیونکہ ایران کو ڈر ہے کہ یہ ہمارے خلاف ہی نہ ہو۔

ایران کے مقابلے میں ترکی کا دوہرا معیار ہے۔ چونکہ اس معاہدے کی وجہ صدر طیب اردوان امارات سے اپنا سفیر واپس بلانے پر غور کر رہے ہیں اور اس معاہدے کو فلسطین سے غداری سے تصور کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ترکی کے اسرائیل سے تجارتی تعلقات بحال ہیں۔ لیکن امارات کی اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا غداری کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کے علاوہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ترکی کی وزارت ثقافت اور سیاحت کی وزارت کے مطابق نومبر 2019 میں اسرائیل کے 35ہزار 430 سیاحوں نے ترکی کا دورہ کیا، جو نومبر 2018 کے مقابلہ میں 35.59 فیصد زیادہ ہے۔ سیاح ترکی کی سیر و سیاحت کے دوران مختلف شہروں اور تاریخی مقامات جاتے ہیں۔ کیا اس سے فلسطینیوں کے ساتھ کوئی غدّاری نہیں ہوتی؟ بظاہر ترکی کے رویے میں دوغلہ پن ہے۔

چنانچہ سفارتی تعلقات کو قائم رکھنا بے حد ضروری ہے۔ بنیادی طور پر جب تک ملکوں کے درمیان بات چیت نہیں ہوگی تو معاملات حل نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اب یہ دور جنگ کا نہیں بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت میں جیت حاصل کرنے کا ہے۔ اس لیے عرب دنیا کو حق ہے، وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرکے اپنے مسائل حل کریں۔ اس کو بات ذہن میں رکھیے کہ پچھلے 40 سال میں عرب ممالک میں امارات اب تیسرا ملک بن گیا ہے، جس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے بعد ہر جنگ میں عرب اسرائیل سے ہار چکے ہیں۔ پھر 1948، 1956، 1967 اور 1973ء کی جنگوں میں مسلسل ناکامی کے بعد مصر وہ پہلا ملک تھا، جس نے 1979ء میں امریکی صدر جِمی کارٹر کی زیر ِنگرانی کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کر کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ مصری صدر انور السادات کو اس کی پاداش میں انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا۔ پھر اس کے بعد 1994ء میں اُردن دُوسرا عرب ملک تھا، جس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے تھے۔

بلاآخر کسی بھی ملک کے دوسرے ملک سے تعلقات استوار کرنے پر ہمیں کوئی پریشان نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ اپنا قومی مفاد بہتر جانتے ہیں۔ جبکہ ان ہی ممالک سے طویل معاہدے کیے جاتے ہیں، جو دنیا میں ہر شعبے ترقی کرچکے ہوں۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں