Home » استعفیٰ یا عدم اعتماد اور پھر عام انتخابات

استعفیٰ یا عدم اعتماد اور پھر عام انتخابات

by ONENEWS


استعفیٰ یا عدم اعتماد اور پھر عام انتخابات

افسوس ناک امر یہ ہے کہ گھسی پٹی داستان، مسترد اسکرپٹ، ناقابل قبول استدلال اور، معاف کیجئے، یہ سب کچھ احمقانہ انداز میں ہماری آنکھوں میں گھسیڑنے اور کانوں میں انڈیلنے کا عمل پھرشروع ہو چکا ہے۔گزشتہ چند ماہ سے کوئی دن نہیں جاتا کہ میرے آپ کے فون پر ویسے ہی واٹس ایپ پیغامات موصول نہ ہوتے ہوں جن میں جمہوری نظام، پارلیمانی نمایندؤں اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کو ہدف بنا کر اعداد و شمار کا جادو جگایا جاتا ہے۔ کل ہی ایک پیغام ملا جس میں صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب کر کے بتایا گیا تھا کہ یہ رقم کوئی 35، 36 ارب روپے ہے۔ مزید یہ کہ اس رقم میں ہوائی ٹکٹ، بیرونی دورے اور رہائشی اخراجات شامل نہیں ہیں۔ پھر ان سب لوگوں کے لیے بونس کی ادائیگی فرض کرکے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ کل رقم 85 ارب روپیہ سالانہ بنتی ہے۔ اور یہ کہ یہ وہی رقم ہے جو ہم قرض کی شکل میں بیرونی اداروں سے لیتے ہیں۔ اگر یہ پارلیمانی نمائندے نہ ہوں اور صدارتی نظام ہو تو ہمیں اتنی رقم قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس گمراہ کن پیغام میں لفاظی اور سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ معلوم نہیں، ارکان پارلیمان کو بونس کیسے،کب اور کیوں ملتا ہے۔ملتا بھی ہے یا نہیں۔ پیغام کے آخر میں یہ ہدایت کی گئی تھی کہ ہر شخص کم از کم اپنے بیس جاننے والوں کو یہ پیغام آگے پہنچائے۔ انسانوں کی ذہنی سطح جو بھی ہو، 90 فیصد افراد اپنے ذہن سے سوچتے ہی نہیں، پڑھتے سنتے ہی ایمان لے آتے ہیں۔ اور ایمان کا معاملہ بڑا نازک ہوتا ہے، اسے تو انسان حرز جاں بنا لیتا ہے۔

برطانیہ سے ریاضی میں پی ایچ ڈی ایک سائنس دان دوست نے ارکان اسمبلی و سینیٹ کے کیفے ٹیریا میں بکنے والی اشیائے خوردنی پر ملنے والے زر تلافی کو ہدف ملامت بنانے والا ایک پیغام بھیجا۔ میں نے حساب کر کے انہیں بتایا کہ زر تلافی دینے کا کام سرے سے غلط ہے، کسی کو بھی زرتلافی نہیں ملنا چاہیے۔ لیکن بھیا! فلاں ادارے کے فلاں عہدے دار کو 27 سالہ ملازمت میں کوڑیوں کے مول جو 4 پلاٹ ملتے ہیں، یہ پارلیمانی زرتلافی تو صرف ایک پلاٹ پر ملنے والی زرتلافی سے بھی کم ہے۔ میں نے گزارش کی کہ اس ایک ادارے میں ایسے ہزاروں دیگر افراد کو چھوڑ کر صرف اس عہد ے دار جیسے دو سو سے کچھ ہی کم عہدیدار موجود ہیں۔ اور اس ایک محکمہ کے علاوہ اسی جیسے دو دیگر محکمے بھی موجود ہیں۔ ان دو محکموں کے افسران اس کے علاوہ ہیں۔ ان سب میں سے صرف اس ایک زمرے کے افسروں کے پلاٹوں کا حساب کرلیں، کہ آپ خود ریاضی دان ہیں، تو جس رقم میں جواب آئے گا، وہ رقم ارکان پارلیمنٹ کی کیفے ٹیریا کو دی جانے والی زرتلافی کے لیے تاقیامت کافی ہوگی۔

نواز شریف کے آخری دو سالوں میں اور شاہد خاقان عباسی کے پورے عرصے میں نمونے کے ان دو پیغامات سے ملتے جلتے کئی پیغامات ہمیں صبح شام ملتے رہتے تھے۔ کبھی صدر ممنون حسین کی تنخواہ کا ذکر تو کبھی ارکان پارلیمنٹ کا ٹیکس نہ دینا ان کا موضوع ہؤا کرتا تھا۔ملک دشمن افراد کے میڈیا ہاؤس میں بیٹھے شاطر دماغ ان امور پر جھوٹ گھڑ گھڑ کر طویل عرصے تک لوگوں کے ذہن میں یہ تیزاب ڈالتے رہے، تاوقتیکہ ہمارا دفاعی بجٹ منجمد کرانے والوں کو 22 سال کی محنت کے بعد ایک مرغ باد نما مل گیا۔پھر گزشتہ ایک ڈیڑھ سال تک اس کام میں تعطل رہا۔ اب چند ماہ سے صدارتی نظام کے حق میں اور ارکان پارلیمنٹ کی کردار کشی پر مبنی پیغامات کا سلسلہ پھر شروع کر دیا گیا ہے۔

اپنے قارئین کو یاد دلا دوں کہ ملک کے تین دریاؤں کا سودا صدارتی نظام ہی میں ہوا تھا، ایران کو سینکڑوں مربع کلومیٹر رقبہ صدارتی نظام حکومت ہی میں دیا گیا تھا۔ گلگت کا ہزاروں مربع کلومیٹر کا علاقہ صدارتی نظام ہی میں چین کو دیا گیا تھا اور ملک کے دو ٹکڑے صدارتی نظام حکومت ہی میں ہوئے تھے۔کولن پاول کی پہلی فون کال پر ہمارا صدارتی نظام زمین بوس ہو چکا تھا۔ بارے کچھ ذکر پارلیمانی نظام حکومت کا! گوادر کا ہزاروں کلو میٹر لمبا ساحل پارلیمانی نظام کے فیوض و برکات میں سے ایک ہے۔صدارتی نظام کے 93 ہزار جنگی قیدی پارلیمانی نظام ہی رہا کروا کر لایا تھا۔ اور دعا دیجئے جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو کہ جس کی پارلیمنٹ نے یمن کے بحران میں حکومت کو فوج بھیجنے کی اجازت نہیں دی۔ صدارتی نظام ہوتا تو شمسی ائیر بیس اوربڈا بیر اڈا امریکنوں کو دیے جانے کے نتائج کی طرح اس کے نتائج بھی ہماری نسلیں بھگت رہی ہوتیں۔

پچھلے ہفتے کی بات ہے، ہمارے گاؤں کے ایک جواں سال نوبیاہتاکیپٹن دہشت گردوں سے جھڑپ میں دو سپاہیوں کے ساتھ شہید ہوگئے۔ ان دوسپاہیوں میں سے ایک سپاہی بھی میرے اپنے پڑوسی گاؤں سے تھے۔ہفتہ بھر قبل سندھ کے دو شہروں میں رینجرز پر حملوں میں وطن عزیز کے تین بیٹے شہید ہوئے۔اسی تسلسل میں ہفتے دس دن کے وقفے سے ماضی پر نظر ڈالتے جائیں، آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ملک میں جوں جوں صدارتی نظام “طاقت” پکڑ رہا ہے اور جمہوریت اور جمہوری اداروں کی کردار کشی کا گڑ جتنا زیادہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کے کانوں میں انڈیلا جا رہا ہے، اسی نسبت سے ہمارے بہادر سپاہی اور میجر کرنل تک کے عہدیدار شہید ہو رہے ہیں۔ رہے صدارتی نظام کے مبلغ تو 70 سالوں سے وہ لوگ یکے بعد دیگرے اس پتلی تماشے میں بین الاقوامی طاقتوں کے ہاتھوں میں پتلی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں رہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ہوش مند اور غیرت مند پاکستانی ملک کے دفاع پر سمجھوتا کر سکتا ہے۔ ہماری مسلح افواج کے خلاف مغربی دنیا میں کیا کیا زہر نہیں اگلا گیا۔ ایک عرصے تک تو اسے بدمعاش فوج (Rogue Army)سے بھی موسوم کیا جاتا رہا.ہماری مسلح افواج میں معمولی سی کمزوری ہمارا جغرافیہ بدل سکتی ہے۔تو گزشتہ سال ہمارا دفاعی بجٹ کیوں منجمد ہوا؟ کس نے اس کی منظوری دی اور اس انجماد کی کیا قیمت وصول کی؟ یہ تین سوال وہ ہیں جن سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے. یہ ابتدا اور آغاز ہے۔ ہمارے اس محترم اور مقدس ادارے کے بارے میں فیصلہ کرنے والی قوتیں اگر یونہی صدارتی نظام کے نعرے کو تقویت دیتی رہیں، اور جمہوری نمائندوں کی کردار کشی کرتی رہیں تو ملک اس قدر ضعف کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے کہ سات لاکھ کی نفری کا بجٹ منجمد تو کیا موقوف کرنا پڑے گا۔ جو کام ستر سال سے نہیں ہو سکا 2018 کے نام نہاد نئے جمہوری انتظام کے پہلے ہی بجٹ میں وہ کام مغربی ملکوں کی خواہش کے مطابق آن واحد میں ہوگیا۔ کیوں ہوا؟ وہی اوپر والے تین سوال ایک دفعہ پھر راستہ روکے کھڑے ہیں۔

الیس منکم رجل رشید؟ اے بھائی! کیا آپ لوگوں میں کوئی سوجھ بوجھ والا شخص نہیں ہے؟ اعلیٰ سطح پر ان فیصلہ ساز قوتوں میں اگر کوئی سوجھ والا شخص ہے تو اسے دو باتوں پر غور کرنا ہوگا۔ اول یہ کہ کیا بجٹ کے انجماد سے پاکستان آرمی کے پر کاٹنے کا عمل رک جائے گا۔ موجودہ حالات میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ سفر رکنے کا نہیں۔ بس اتنا غور کر لیا جائے کہ یہ فیصلہ کرنے والے کون لوگ تھے۔ بلوچستان، خیبر اور سندھ میں قوم پرست اور ملک دشمن دو سالوں میں اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ ہر ہفتے عشرے میں ہمیں اپنے چند شہید بیٹوں کے جنازے کو کندھا دینا پڑتا ہے۔ دوسری طرف معیشت صرف ڈیڑھ دو سالوں میں اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ لاکھوں افراد کے بیروزگار ہونے کے باوجود خطرہ ہے کہ آئیندہ تنخواہیں دینا مسئلہ بن جائے گا۔ ان تینوں صوبوں میں بھارت اور دیگر پڑوسی ممالک کی بچھائی ہوئی سرنگیں کہیں طاقت نہ پکڑ لیں۔کمزور معیشت کے سبب فیصلہ سازوں کو اگر وہ فیصلے کرنا پڑے جو صدارتی نظام کی شناخت ہوا کرتے ہیں تو ٹکراؤ کا عمل تیز تر ہوتا چلا جائے گا۔ اس آپادھاپی میں سمندر پار قوتوں کے لیے یہ مطالبہ کرنا آسان ہو جائیگا کہ اس ملک کے ایٹمی اثاثے خطرے میں ہیں لہذا……نعوذ بااللہ۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ سب مفروضے غلط ثابت ہوں۔ ضمنا بتاتا چلوں کہ اپنی تمام داخلی افراتفری اور بدنامی کے باوجود ہمارے دشمن لیکن پارلیمانی جمہوری ملک ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر گزشتہ ہفتے 500ارب ڈالرکا ہندسہ عبور کر چکے ہیں۔ ان سب حقائق کو جوڑ کر صدارتی نظام کی عیاشی کی ترویج و اشاعت کی بابت ایک دفعہ پھر سوچ لیا جائے۔ اسی میں ہم سب کی عافیت ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے؟

فرشتہ اجل دکھائی دینے سے قبل توبہ کی جا سکتی ہے۔ موجودہ ریاستی ترتیب میں توبہ ریٹائرمنٹ سے قبل کی جاسکتی ہے۔اس ملک، اس ملک کے اداروں، اس ملک کے سیاست دانوں اور اس ملک کی مسلح افواج میں وہ توانائی موجود ہے جو پاکستانی عوام کو اقوام عالم میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل بناسکتی ہے۔ حل ایک ہی ہے! دستوری حل اور بس! دستوری حل ایک سے زیادہ ہوا کرتے ہیں۔ ایوان کے اندر تبدیلی، وزیر اعظم کا استعفیٰ, تحریک عدم اعتماد! ان میں سے کچھ بھی ہو، نئے اور مکمل طور پر شفاف انتخابات اور بس! کسی کو اگر یہ جنون ہو کہ وہی اس ملک کا نجات دہندہ ہے تو وہ ریاستی منصب چھوڑ کر سیاست میں حصہ لے اور آئنیی طریقے سے کسی بھی منصب پر فائز ہو جائے۔ پچھلے تیس سالوں میں کرپشن کے بیان اور دانستہ بیان کا حجم اس قدر زیادہ رہا ہے کہ ہماری پوری دو نسلیں ذہنی طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔ آپ کسی نوجوان سے کسی نیکی،کسی خیر خواہی، کسی ملکی خدمت کا ذکر کریں تو وہ بات کو گھما پھرا کر سیاستدانوں کی کرپشن ہی پر لے آئے گا۔یوں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پٹواری، پولیس، کسٹمز، کچہری، محکمہ مال، اسمگلنگ،درآمد برآمد اور لاتعداد دیگر شعبے انہی فیصلہ سازوں کی نگرانی میں انہی خطوط پر چل رہے ہیں جسے کرپشن کہا جاتا ہے۔

مکمل آزادانہ اور شفاف عام انتخابات کے سوا اب ہمارے سامنے کوئی اور حل یا راستہ نہیں ہے۔ اس کام میں تاخیر ہر آنے والے دن کے ساتھ ملک کے رو بہ زوال اور پستی کے سفر کو تیز تر کر دے گی۔ رجال رشید جہاں کہیں ہوں، سوجھ بوجھ والے لوگ کوئی بھی ہوں، اگر انہیں اپنے ملک،اپنے اداروں، اپنی مسلح افواج سے لگاؤ ہے تو انہیں اپنی انفرادی رائے سے دستبردار ہو کر اجتماعی عوامی رائے کو فوقیت دینا پڑے گی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ہمارے سیاستدانوں نے اس ملک کے مسائل حل کرنے میں کبھی کوئی کمی کوتاہی کی ہو۔ ملکی یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کو ہم نے ہمیشہ جمہوری دور ہی میں مقوی اور طاقتور دیکھا ہے۔ ادھر جمہوریت کمزور ہوئی، ادھر مقامی مرکز گریز قوتیں، قوم پرست اور غیرملکی ترجمان سر اٹھائے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری مسلح افواج کے حالیہ شہداء میں اضافہ اسی المیہ کا تسلسل ہے۔ ذرا یاد کریں،پرویز مشرف کے دور میں کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں کیا ہر روز ہمیں درجنوں لاشیں نہیں اٹھانا پڑا کرتی تھیں؟ پانچ سالہ جمہوری دور میں کراچی میں قائم مثالی امن کو صدارتی نظام کی تبلیغ اور سیاست دانوں اور جمہوری اداروں کی کردار کشی کے ذریعے تباہ کرنے والی قوتیں مسلح افواج کے شہداء کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہی کر رہی ہیں۔ جنگل کے ہاتھی، بھیڑیے اور شیر کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں مکھیوں، مچھروں کے مقابلے میں انہیں راہ فرار اختیار کرنا ہی پڑتی ہے۔اور اور اور……پھر؟ ایک دفعہ توجنگل کے دو ٹکڑے بھی ہو چکے ہیں۔الیس منکم رجل رشید؟؟؟

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment