Home » استعفوں کا کھیل

استعفوں کا کھیل

by ONENEWS

استعفوں کا کھیل بھی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے تو استعفوں کو ایٹم بم کہہ دیا ہے، جو حکومت پرگرے گا تاہم حکومت کی طرف سے جس طرح استعفوں کا بے تابی سے انتظار کیا جا رہا ہے، اُس سے لگتا ہے کہ اُس نے بھی کوئی منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔استعفے دینے کی دھمکیاں پاکستانی سیاست کا معروف ہتھکنڈہ ہے۔ یہی تحریک انصاف جو آج استعفوں کا انتظار کر رہی ہے، نواز شریف دور میں استعفے دینے کے باوجود سپیکر کے سامنے تصدیق کے لئے پیش نہیں ہوئی تھی، جس کے باعث یہ استعفے منظور نہ ہوئے اور واپس لے لئے گئے، مگر اس بار شاید معاملہ دوسرا ہو، کیونکہ پی ڈی ایم ہر قیمت پر حکومت کو بھگانا چاہتی ہے۔ اُس نے مرحلہ وار اپنے پتے استعمال کرنا شروع کر رکھے ہیں، چاروں دارالحکومتوں میں جلسے کرنے کے بعد اب اُس نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے تاہم اس سے پہلے31دسمبر تک اپنے پارٹی قائدین کو استعفے جمع کرانے کی تاریخ دے رکھی ہے۔ اپوزیشن غالباً لانگ مارچ کا آپشن بھی پہلے استعمال کرے گی، بات نہ بنی تو استعفے دیئے جائیں گے۔ گویا پی ڈی ایم نے اپنے سارے پتے ظاہر کر دیئے ہیں، کیا لڑائی میں اس طرح اپنے پتے ظاہر کرنے چاہئیں، اس طرح تو حریف چوکنا ہو جاتا ہے اور اُسی حساب سے حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ کیا استعفوں کی ٹائمنگ اپوزیشن کے کچھ کام آئے گی یا ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے گا؟

استعفوں کے اس کھیل میں حکومت بھی پوری تیاری کے ساتھ اُتری ہوئی ہے۔ اُس نے سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا جو دھماکہ کیا ہے وہ اپوزیشن کے لئے حیران کن تو ہے ہی، مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اگر اپوزیشن اِس لئے استعفے دینا چاہتی ہے کہ سینیٹ کے انتخابات نہ ہو سکیں تو اُسے اپنا شیڈول تبدیل کرنا پڑے گا، اُسے لانگ مارچ سے پہلے استعفے دینا ہوں گے تاکہ حکومت فروری میں سینیٹ کے جو انتخابات کرانا چاہتی ہے وہ نہ ہو پائیں۔ اگر انتخابات ہو جاتے ہیں تو استعفوں کا حکومت پر اتنا دباؤ نہیں رہے گا۔ پھر شاید ضمنی انتخابات کرانے کا آپشن بھی استعمال کر لیا جائے۔استعفوں کے آپشن کو سب سے آخر میں رکھ کر اپوزیشن نے حکومتی وزراء اور ترجمانوں کو مذاق اڑانے کا جو موقع فراہم کیا ہے  وہ عوام میں اس تحریک کی سنجیدگی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم اس معاملے میں اختلافات کا شکار نظر آتی ہے۔

بلاول بھٹو کی باتوں سے تو لگتا ہے کہ وہ استعفوں کے ایٹم بم کو اچانک استعمال کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مریم نواز اسے فوری استعمال کرنے کے حق میں ہیں۔ سب سے زیادہ بے تابی مولانا فضل الرحمن کو ہے، جو یہ چاہتے ہیں کہ استعفے دے کر حکومت کو چاروں شانے چت کر دیا جائے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملکی تاریخ میں کبھی بڑے پیمانے پر استعفے دینے کی روایت موجود نہیں۔ یہاں حیرانی تو اِس بات پر بھی ہے کہ اپوزیشن جس کی قومی اسمبلی میں اچھی خاصی اکثریت ہے،حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کو تیار نہیں، نجانے وہ کیا خوف اور تحفظات یا ایک دوسرے پر عدم اعتماد ہے کہ استعفوں کے آپشن پر متفق ہونے والی اپوزیشن تحریک عدم اعتماد پر متفق نہیں ہو رہی، حالانکہ اس میں کامیابی کے امکانات مستعفی ہونے کی حکمت عملی سے کہیں زیادہ ہیں۔

مارچ میں آدھے سینیٹرز اپنی مدت پوری کر کے سبکدوش ہو جائیں گے،امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف سینیٹ میں ایک  بڑی اکثریت حاصل کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر قیمت پر انہی اسمبلیوں کی موجودگی میں سینیٹ انتخابات کرانا چاہتی ہے۔ سینیٹ انتخابات کے بعد اپوزیشن کے استعفوں کا حکومت پر اتنا دباؤ نہیں رہے گا جتنا آج ہے۔ یہ چوہے بلی کا کھیل ہے، جس میں جو بروقت فیصلہ کر گیا جیت جائے گا۔ سینیٹ الیکشن کے بعد اگر اپوزیشن کے استعفے آتے ہیں تو حکومت اُن میں ضمنی انتخاب کرانے کا آپشن بآسانی استعمال کر سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ اپوزیشن اپنی چھوڑی ہوئی نشستیں دوبارہ حاصل کرلے گی۔اس سے حکومت کو کیا فرق پڑے گا۔ اگر اپوزیشن ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی تو حکومت کے حامی بڑی تعداد میں جیت جائیں گے، جو آج سے بھی زیادہ اپوزیشن کے لئے گھاٹے کا سودا ہے۔ یہ نہ  ہو کہ بروقت فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے اپوزیشن کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے اور وہ پچھتاوے کے ساتھ ہاتھ ملتی رہ جائے۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ اپوزیشن کسی آئینی طریقے سے حکومت کو ہٹانے کی پوزیشن میں نہیں، وہ غیبی امداد کی منتظر ہے اُسے خود پر اتنا بھروسہ بھی نہیں کہ اسمبلی کے اندر سے تبدیلی لانے کی کوشش کرے اور نہ اتنا اعتماد ہے کہ فی الفور استعفے دے کر حکومت کے لئے سینیٹ انتخابات کا انعقاد ناممکن بنا دے۔ وہ اپنی تحریک بھی کچھوے کی چال سے چلا رہی ہے۔ پہلے دسمبر میں حکومت نہیں رہے گی، کے دعوے کرتی رہی،اب معاملہ خود ہی فروری تک لے گئی ہے۔ فروری میں بھی شیڈول طے کرنے کی پھلجھڑی چھوڑی گئی ہے، صاف لگ رہا ہے کہ اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ سے چاہتی ہے کہ مداخلت کرے اور حکومت کو گھر بھیجے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اُسی اسٹیبلشمنٹ کو جمہوری حکومتیں وقت سے پہلے گھر بھیجنے کے طعنے بھی دیتی ہیں۔ اب ایسے الجھے ہوئے اور مبہم بیانیے کے ذریعے کوئی کامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان پر ایسا کوئی دباؤ نہیں جو اس قسم کی صورتِ حال میں ماضی کے وزرائے اعظم پر ہوتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور اس وجہ سے بھی کھڑی ہے کہ پی ڈی ایم اپنے جلسوں میں وزیراعظم کو کم اور اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ نشانہ بناتی ہے۔

لاہور کے جلسے مییں مولانا فضل الرحمن نے تو کھل کر کہہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ درمیان سے ہٹ جائے۔ بالفرض اسٹیبلشمنٹ درمیان سے ہٹ بھی جائے تو اپوزیشن کس طرح اور کس قانون کے تحت منتخب حکومت کو اقتدار سے باہر کرے گی۔ کیا لانگ مارچ کر کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہ وزیراعظم کو ایوانِ وزیراعظم سے پکڑ کر باہر لے آئے گی؟ کیا وہ اس کی بھی اجازت مانگ رہی ہے؟ استعفوں کے کھیل میں سنسنی بڑی ہے، مگر بروقت فیصلے نہ کئے گئے تو اس کھیل میں فتح کی بجائے مات کے امکانات زیادہ ہیں جو سامنے کی حقیقت ہے، اُسے پیش ِ نظر رکھا جانا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت پر اندر سے کوئی دباؤ نہیں، بلکہ اُلٹا سپورٹ موجود ہے۔عمران خان کو تابعدار خان کہنے والے اگر اتنی سی بات نہیں سمجھ سکتے کہ اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ کیوں یہ چاہے گی کہ ایک اچھے بھلے سیاسی سیٹ اپ کو تہہ و بالا کیا جائے،تو انہیں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے،ایسے حالات میں جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment