Home » استعفوں کا آپشن

استعفوں کا آپشن

by ONENEWS

جوں جوں اپوزیشن پیش قدمی کر رہی ہے، حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اپوزیشن نے بڑے شہروں میں بڑے جلسے کئے جس سے حکومت شدید دباؤ میں آ چکی ہے۔ لگتا ہے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں حکومت کو انڈر پریشر لانے کے بعد اپوزیشن اب وفاقی دارالحکومت پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنے دباؤ میں اضافہ کرے گی۔ اپنی ناکام کارکردگی، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی وجہ سے حکومت پہلے ہی کافی غیر مقبول ہو چکی ہے اور اس کی تپش ہر جگہ محسوس کی جا رہی ہے۔ حکومت کے قدم اگر اکھڑ گئے تو لانگ مارچ فیصلہ کن ثابت ہو گا اور ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ حکومتی وزرا کہتے رہتے ہیں کہ جلسے جلوسوں سے حکومتیں نہیں گرا کرتیں، لیکن وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں کئی مضبوط حکمران ایجی ٹیشن کے نتیجہ میں ہی کمزور ہوئے تھے او ر بالآخر ان کی حکومتیں چلی گئی تھیں۔ ان میں فیلڈ مارشل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اگر استعفوں کے آپشن کی بات کی جائے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ نمبر گیم کیا ہے۔ قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں اراکین کی کل تعداد 1090 ہے جس میں 514 کا تعلق ان پارٹیوں سے ہے جو اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں شامل ہیں۔ یہ تقریباً آدھی پارلیمنٹ بنتی ہے۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ اگر اپوزیشن استعفے دے گی تو ضمنی انتخابات کروا دئیے جائیں گے، وہ یہ بات نظر انداز کر دیتے ہیں کہ پانچ سو سے زائد سیٹوں پر دوبارہ الیکشن کروانا ویسے ہی پریکٹیکل بات نہیں ہے اور اگر کروائے گئے اور اپوزیشن ان ضمنی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کر دیتی ہے تو پھر معرضِ وجود میں آنے والی پارلیمنٹ کی کریڈبلٹی کیا ہو گی۔ بات بہت سیدھی سی ہے کہ اگر پانچ سو اراکین پارلیمنٹ مستعفی ہو گئے تو ازسر نو الیکشن ناگزیر اس لئے ہو جائیں گے کہ اس کے بغیر سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنا ہر لحاظ سے ناممکن ہو گا۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ آدھی پارلیمنٹ کے ضمنی الیکشن کرانے سے سیاسی ڈیڈلاک ختم ہو جائے گا وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ 1990 کی دہائی پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی کے لئے یاد رکھی جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ  1990 کی دہائی میں پاکستان سے بھی زیادہ سیاسی محاذ آرائی بنگلہ دیش میں تھی جس میں اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ چند برس پہلے”قومی حکومت“ کے قیام کے حوالہ سے پاکستان میں بنگلہ دیش ماڈل کا بہت ذکر ہوتا تھا اور کچھ مقتدر حلقے اس کے حامی بھی لگتے تھے۔ اب بھی کبھی کبھار کچھ لوگ پاکستان میں ”قومی حکومت“کی بات کرتے رہتے ہیں۔ خیر،وہ تو ایک علیحدہ بحث ہے، استعفوں کی سیاست میں بھی ہماری کوکھ سے جنم لینے والے بنگلہ دیش نے پہلے ہی اس کی مثالیں قائم کر رکھی ہیں جن کا تذکرہ پاکستان کی موجودہ سیاست کے تناظر میں کافی دلچسپ ہے۔

موجودہ بنگلہ دیش ماضی میں مشرقی پاکستان تھا۔ شروع کے ایک دو عشروں میں بنگلہ دیش میں فوجی حکومتیں رہیں لیکن بعد میں میدان تین خواتین سیاست دانوں کے پاس ہی رہااور شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد، جنرل ضیاء الرحمان کی بیوہ خالدہ ضیاء اور جنرل ارشاد کی بیگم روشن ارشادباہم دست وگریبان رہیں۔بنگلہ دیش میں سیاست شفاف اور جمہوری کبھی نہیں رہی۔ بائیکاٹ اور استعفوں کی سیاست بھی عروج پر رہی، انتقامی سیاست اور اپوزیشن کو دیوار سے لگا دینے کی ریت بھی وہاں عام رہی۔ 1981 اور1984 کے انتخابات کا حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء دونوں نے بائیکاٹ کیا اور جنرل ارشاد کو واک اوور ملا۔ 1986 میں جنرل ارشاد‘ جاتیہ سنگساد (قومی اسمبلی)میں 300 میں سے 251 سیٹیں ہونے کے باوجود ایجی ٹیشن کے نتیجہ میں الیکشن کرانے پر مجبور ہوگئے تو انہیں بری شکست ہوئی(صرف 35 سیٹیں حاصل کر سکے) اور سیاست پر خالدہ ضیاء اور حسینہ واجد کا قبضہ ہوگیا۔ 1991 میں بھی ایجی ٹیشن کے نتیجہ میں خالدہ ضیاء کو قبل از وقت الیکشن کرانے پڑے۔ 1996 میں بھی اپوزیشن کے 147 اراکین(تقریباً آدھی پارلیمنٹ) نے استعفی دے دیا جس میں عوامی لیگ، جاتیہ پارٹی اور جماعت اسلامی شامل تھیں تو خالدہ ضیاء حکومت کو مستعفی ہونا پڑا۔ خالدہ ضیاء کہتی رہیں کہ اپوزیشن استعفے دے گی تو خالی سیٹوں پر الیکشن کروا دیں گی لیکن جب اپوزیشن نے 147 استعفے جاتیہ سنگساد کے سپیکر شیخ رزاق علی کے پاس جمع کرائے(وصول کرنے میں کئی ہفتوں کے ٹال مٹول کے بعد) تو اگلے ہی دن خالدہ ضیاء اور کابینہ مستعفی ہو گئی۔ بات انتہائی سادہ ہے کہ آدھی پارلیمنٹ کے گھر جانے سے حکومت کی کریڈبلٹی (عالمی سطح پر بھی)ختم ہو جاتی ہے اور نئے الیکشن ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں جاری موجودہ سیاسی ڈیڈلاک میں نہ تو ضمنی انتخابات سے ڈیڈلاک ختم ہو گا اور نہ ہی کسی قومی حکومت سے۔ یہ صرف نئے منصفانہ انتخابات سے ہی ختم ہو گا۔

وزیر اعظم عمران خان کے غیر لچکدار رویہ اور اپوزیشن کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے بے دریغ استعمال نے حکومت مخالف تحریک کا جواز پیدا کیا اور اب معاملات تصادم کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں۔ وزیر اعظم لاکھ کہیں کہ استعفی کی صورت میں ضمنی انتخابات ہو جائیں گے۔ آئینی طور پر وہ اگر درست کہہ بھی رہے ہوں تو بھی آدھی پارلیمنٹ کے گھر جانے کے بعد سیاسی طور پر معاملات نہیں سنبھال پائیں گے(جو بنگلہ دیش کی مثالوں سے ثابت بھی ہوتا ہے)۔مریم نواز شریف قومی سطح کی لیڈر بن کر سامنے آئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بڑے عوامی لیڈر وہی بنے جو اپنے وقت کی مقتدرہ سے ٹکرائے۔ ذوالفقار علی بھٹو جب تک ایوب خان کے وزیر خارجہ تھے وہ محض ایک سیاست دان تھے لیکن جب وہ ایوب خان سے ٹکرائے تو لیڈر بن گئے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف بھی بار بار مقتدرہ سے ٹکرائے اور عوام کے محبوب لیڈر بنے۔ ماضی کے سلیکٹڈ صرف وزیر اعظم بنے لیڈر نہ بن سکے۔اپوزیشن تحریک نے ثابت کردیا ہے کہ  مریم نواز بھی ذوالفقارعلی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی طرح مقبول عوامی لیڈر بنیں گی۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment