Home » ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی فنڈز

ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی فنڈز

by ONENEWS

ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی فنڈز

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کے لئے کونسل کا ایک مضبوط نظام رائج ہے تاکہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوامی مفادات کے لئے ہی خرچ کیا جا سکے۔ یورپ، برطانیہ اور امریکہ بھر میں سیوریج، پانی کی فراہمی، سڑکوں و پلوں کی تعمیر، صفائی و سرکاری سکولوں کی تعمیر، عوام کے انسانی بنیادی حقوق کا تحفظ، شادی بیاہ کی رجسٹریشن، کاروباری طبقے کو سہولتیں، علاقے کے عوام کے لئے پارکوں اور بچوں کی تربیت کے مراکز، معذوروں و محتاجوں کی دیکھ بھال کا نظام، بے گھر افراد کے لئے گھروں کی فراہمی،تعلیم بالغاں کا نظام، ٹرانسپورٹ کا نظام، پارکنگ کا انتظام، ہسپتالوں کی تعمیرو ترقی کا انتظام، ملازمت کے لئے مدد کا نظام، بے روزگار افراد کو بے روزگاری فنڈ کی فراہمی، کونسل ٹیکس کا نظام، الیکشن کروانے اور ووٹ کی رجسٹریشن جیسے بنیادی کام کونسل کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ ان ممالک میں حکومت کسی طور بھی کونسل کے معاملات میں بلا جواز مداخلت کا حق نہیں رکھتی، ماسوائے تعمیری تنقید اور وسائل کی یکساں تقسیم کے لئے احتساب کو یقینی بنانے کے، انہی مراحل سے عوام سیاسی جماعتوں کا موازنہ کرتے ہیں ہے کہ اگر کسی بھی سیاسی جماعت نے فتح کے بعد کونسل کی سطح پر عوامی خدمت کو یقینی نہیں بنایا تو اس کو عوام ملکی سطح پر بھی خدمت کا موقعہ نہیں دیتے۔ مسلم آبادی والے ملکوں میں یہ نظام ترکی اور ملائیشیا میں رائج ہے عوامی ریفرنڈم اور ان کے نمائندوں کی مدد سے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

وطنِ عزیز میں اصل کونسل کا نظام سرے سے ہی موجود نہیں،جو بچا کھچا نظام موجود بھی ہے اس پر اتنے تجربے کیے گئے ہیں کہ کونسل کے نظام کی اصل شکل و ہیت کہیں کھو چکی ہے۔ کونسل کے لئے کوئی مربوط نظام تو دور کی بات الیکشن تک وقت پر نہیں کروائے جاتے اور الیکشن ہو بھی جائیں تو ان کو دھاندلی، حکومتی دباو، پولیس کی سرپرستی میں جس سمت میں چاہے موڑ لیا جاتا ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ مخالفین کو ترقیاتی فنڈز کسی طور بھی جاری نہیں کیے جاتے، مختص شدہ ترقیاتی فنڈز کونسل کی بجائے ارکانِ پارلیمنٹ کو جاری کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اگلے الیکشن کی تیاری کے لیے مرضی سے ترقیاتی کام کروائیں  پھر ان فنڈز میں اکثر خورد برد کی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔

یہاں چند ارکان پارلیمنٹ کے ہاتھوں حکومتیں اکثر بلیک میل ہوتی نظر آتی ہیں اس کا عملی مظاہرہ آپکو  سینٹ کے متوقع الیکشن میں بھی دیکھنے میں مل رہا ہے ایسے چند لوگ پاکستان کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں وہی زنگ آلودہ  چہرے و فرسودہ نظام اس قوم کا مقدر بن چکا ہے۔ جو ملکی کی بجائے اپنے خاندانوں کی ترقی و کامیابی میں مشغول و مصروف ہیں۔

حال ہی میں وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے سے صاف انکار کر دیا ہے جو کہ کسی حد تک تو عوامی نظام لانے کی طرف ایک مثبت پیش رفت ہے مگر حیرت یہ ہے کہ فروری 2019 میں ‘دی نیوز’ نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کو خوش کرنے کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے خاموشی سے مستحکم ترقیاتی مقاصد (ایس ڈی جیز) کے نام پر 24ارب کا صوابدیدی فنڈ منظور کیا ہے تاکہ چھوٹی ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد ہوسکے میری نظر میں یہ قول و فعل کا کھلا تضاد ہے جس کا کوئی جواز  پیش نہیں کیا جا سکتا نعیم الحق مرحوم نے اس کا اعتراف بھی کیا تھا اور سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی کے باوجود اس کو کابینہ سے منظور کروایا گیا۔

درحقیقت اس پورے نظام کی تبدیلی سینیٹ و قومی اسمبلی سے لے کرکونسلز تک شفاف الیکشن ہی ہیں، چونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایوان بالا و ایوان زیریں کے علاوہ کونسلز کے اداروں کو مضبوط کیے بغیر حکومت اپنے اہداف کو کبھی حاصل نہیں کر سکتی، سب سے اہم یہ کہ ارکان پارلیمنٹ اور کونسلر میں فرق ہونا چاہیے۔

ملک میں ابھی تک غلامی کے دور کے قوانین رائج ہیں۔ یہاں پارلیمنٹ کی بالادستی نہ ہونا تو ایک مسئلہ رہا ہی ہے مگر دوسری طرف اکثرارکان پارلیمنٹ قانون سازی کے لئے کام کرنے کی بجائے ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہماری قانون ساز اسمبلی کے بیشتر ارکان نئے قوانین کی بجائے نئے پل و سڑکیں تعمیر کرنے کی طرف توجہ دیتے رہتے ہیں، حد یہ ہے کہ اصل ترقیاتی کام جو قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں نہ تو مرکزی حکومتوں سے حل ہوئے اور نہ ہی ارکان پارلیمنٹ سے کبھی مکمل ہوئے جسکی مثال ستر سال پرانا نہری و ریلوے نظام اور نئے ڈیموں کی تعمیر میں رکاوٹ جیسے مسائل ہیں اس کے علاوہ بھی باقی سارے مسائل جوں کے توں اپنی جگہ موجود ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدگی سے کونسل کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ بحال کرے اور جو کہے اس کو عملی جامہ بھی پہنائے کیونکہ دعوے و وعدے تو ستر سال سے سیاستدانوں کا اْڑھنا بچھونا رہا ہے مگر قوم سے سچ بولنا شاید ہی کسی نے سیکھا ہو۔ معصوم عوام کو الیکشن سے پہلے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں مگر الیکشن کے بعد مجبوریوں کا رونا رو رو کر پانچ سال پورے کیے جاتے ہیں۔ آخر کب تک یہ جھوٹ   اس قوم کا مقدر رہے گی، آخر کیوں ملکی سیاست کی بنیاد سیاسی اخلاقیات پر نہیں رکھی جاتی، آخر کب تک  حکومتیں وزیر و مشیر آئی ایم ایف سے ادھار لے کر ملکی مشینری کو دھکا لگاتے رہیں گے بس اب اس نظام کے تابوت میں آخری کیل پیوست کرنے کا وقت آ چکا ہے اور یہ پاکستان کی عوام کی حکومتوں کو مجبور کر کے کروا سکتے ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment