0

اداکارعمیررانا جنسی ہراسانی کےالزامات پربول پڑے

تصویر: انسگرام

اداکارعمیر رانا نے گزشتہ ماہ لاہور گرامر اسکول کی طالبات کی جانب سے خود پرعائدکردہ جنسی ہراسانی کے الزامات پر آواز بلند کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹرپراپنے پیغام میں عمیررانا نے کہا کہ جنسی ہراسانی ایک گھناؤناالزام تھا اوراسے سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہیے۔

اداکار نے لکھا ’’ لوگوں کے وقار اور احترام کو غلط طور پر داغدار نہیں ہونا چاہیے۔ قانون سب کے لئے حل مہیا کرتا ہے اورمیں اپنے آئینی اور انسانی حقوق اور اپنے تحفظ کے لئے ضروری تمام اقدامات کرنے کا ارادہ کرتا ہوں ‘‘۔

انہوں نے لکھا ’’ میرےخلاف غیرقانونی مواد شائع کرنے، اور مجھ سے غیرمشروط معافی مانگتے ہوئے ایسا مواد ہٹانے میں ناکام رہنے والوں کیخلاف میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت ایف آئی اے سے رابطہ کروں گا ‘‘۔

اسی حوالے سے کی جانے والی عمیر رانا کی انسٹاگرام پوسٹ پر اداکارہ حنا بیا اور سیمی راحیل نے تبصرہ کرتے ہوئے اداکار کی حمایت کی۔

حنا بیات نے لکھا ’’ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں ، اور اپنے لیے سب درست کرنے کو ہم اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ حقیقت کو سامنے لائے ، باطل کو بے نقاب کرے اور آپ کا نام صاف کرے جسے بنانے کیلئے آپ نے بہت محنت کی ہے‘‘۔

سیمی نے حمایت کرتے ہوئے عمیر کو بتایا کہ وہ ان بہترین انسانوں میں سے ایک ہیں جنہیں وہ جانتی ہیں ۔ اداکارہ نے لکھا ’’ انسانوں کے لئے آپ کا احترام نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔ آپ مہربان ، قابل احترام اور روشن خیال ہیں۔ میں آپ کو ایک طویل عرصےسے جانتی ہوں، آپ میرے اور میرے بچوں کے دوست ہیں۔ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ناانصافیوں اور جھوٹ کو بے نقاب کرنے کیلئے آپ کی رہنمائی کرے‘‘۔

اس سے قبل جون میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں لاہورگرامر اسکول ون اے ون کے اساتذہ سے تفتیش کیلئے3 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔

کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ اسکول کی متعدد طالبات کی جانب سے ٹوئٹر اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انہیں ہراساں کیے جانے کے دعوؤں کے بعد کیا گیا تھا۔

ڈرامہ ’’پیار کے صدقے‘‘ میں منفی کردار ادا کرنے والے عمیر رانا اکثر سماجی مسائل کی جانب توجہ دلانے والے ڈرامہ سیریلز میں نظر آتے ہیں ، ان پر لاہور گرامر اسکول کی ایک سابقہ طالبہ نے انسٹاگرام پرجاری سیریز میں غیر مناسب سلوک کا الزام لگایا تھا جسے بعد میں مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف نے شیئرکیا تھا۔

طالبات کے مطابق انہیں نامناسب تصاویر بھیجی جاتی تھیں اور ان کے جسم کے مختلف حصوں کو چھونے کی کوشش کی جاتی تھی۔

اسکول انتظامیہ کے مطابق اس حوالے سے 4 ملازمین کوبرطرف کیا گیا ہے جن میں کیمسٹری ٹیچر، ایڈمن آفیسر،محافظ اور اکاؤنٹنٹ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ عمیر رانا ایل جی ایس کے طلبہ کو ڈرامہ پڑھاتے ہیں۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں