0

اجتماعی توبہ بین المسالک ہم آہنگی تحریک کی پھر ضرورت!

اجتماعی توبہ، بین المسالک ہم آہنگی، تحریک کی پھر ضرورت!

مشہور قوال فتح علی خان نے ایک بڑی ہی پُراثر نعت پڑھی جو بہت مشہور ہوئی اور دِل کو چھوتی تھی،نعت کے بول تھے ”میری توبہ، توبہ“ میری توبہ، توبہ“ یہ یوں یاد آئی کہ بزرگ اور سینئر سیاسی رہنما، سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے ایک سے زیادہ مرتبہ قوم سے کہا کہ سب کو توبہ کرنا چاہئے اور اللہ سے گڑگڑا کر معافی طلب کرنا چاہئے کہ وہ غفور الرحیم ہے اور معاف کر دینے والا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے بنیادی طور پر یہ ہدایت اور اپیل تو کرونا کی وبا کے حوالے سے کی،لیکن انہوں نے جو کچھ بھی کہا وہ وسیع تر تناظر میں بھی ہے،اس میں کورونا کی وبا سے نجات کے ساتھ ساتھ ملکی مشکلات کا بھی ذکر ہے، ہمارے خیال میں یہ بہت ہی درست اور مناسب تجویز ہے کہ اللہ کی مقدس کتاب کے مطالعے اور رسولؐ اکرم کی تعلیمات اور ہدایات کی روشنی میں معروضی حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر جو مصیبت اور پریشانی آئی ہوئی ہے یہ خود ان کی بداعمالیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ نہ تو احکام خداوندی کو پیش ِ نظر رکھا جاتا ہے اور نہ ہی سنت رسولؐ پر عمل کیا جاتا ہے۔

جھوٹ، بددیانتی، اپنوں سے دشمنی، جہالت اور فرقہ واریت جیسے گناہوں میں ملوث ہم سب مسلمان خود اپنے دشمن بنے ہوئے ہیں، ہم دن رات وعظ کرتے اور وعظ سنتے ہیں،ان میں یہود و نصاریٰ اور ہنود سے خبردار رہنے کی تلقین کی جاتی ہے،لیکن ہمارے اعمال اس حوالے سے بھی مختلف ہیں۔آج کے معاشی اور اقتصادی نظام ہی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم دانستہ طور پر ”سود“ میں اُلجھے ہوئے ہیں،انکار کرتے ہوئے بھی اس سے جان نہیں چھڑا پاتے،حالانکہ اس حوالے سے احکام واضح ہیں،اسی طرح مسلمان پر مسلمان کا خون ہی نہیں، نقصان پہنچانا بھی حرام ہے،لیکن ہم اپنی ذات کے تحفظ کے لئے بھائی کی نعش پر پاؤں رکھ کر گذر جاتے ہیں۔دودھ اور خوراک میں ملاوٹ اپنی جگہ ہم تو ان ادویات میں بھی نہ صرف ملاوٹ کرتے،بلکہ جعلی تیار کرتے ہیں، جو جان بچانے والی ہیں،جھوٹ اور منافقت ہمارا روز مرہ کا وطیرہ ہے، اور ہم کسی مانع امر اور حکم کو خاطر میں نہیں لاتے۔

بات چودھری شجاعت حسین کی ہدایت اور اپیل سے شروع کی تھی، تو برادران پاکستان و اسلام، کیا یہ سچ نہیں کہ ہم اس وبا کو جسے کووڈ 19 (کورونا) کا نام دیا گیا ہے، خاطر میں نہ لاتے لاتے، پھر اس سے بُری طرح خوفزدہ ہو کر زندگی کے تمام معمولات ترک کر بیٹھے ہیں اور مغرب کی طرف سے جو کچھ کہا جا رہا ہے،اسی پر آمناً و صدقناً کہے جا رہے ہیں۔ بزرگ سیاسی رہنما نے تو اللہ کی طرف رجوع کرنے اور استغفار کا مطالبہ کیا۔ ہمیں تو مسلمان کی حیثیت سے اجتماعی طور پر توبہ کر کے اللہ سے مغفرت اور نجات کی دُعا کرنا چاہئے، لیکن ہمارے اعمال جوں کے توں ہیں،بلکہ ہم مزید لالچ میں پڑ گئے ہیں۔

اب ذرا بات کر لیں اس کرونا کی جسے یہ نام بھی سائنس والوں نے دیا اور مجموعی تاثر یہ ہے کہ یہ ایک نامعلوم اور نہ نظر آنے والا وائرس ہے، جو انسان سے انسان پر اثر انداز ہو جاتا اور یہ متعدی ہے۔اگر غور کیا جائے تو ابھی تک دُنیا اس حوالے سے ٹامک ٹوئیاں مار رہی اور اگر کوئی اتفاق ہے تو یہ کہ بار بار ہاتھ دھوئیں،ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں، اور ماسک پہنیں، اس سے آگے ابھی تک باتیں ہو رہی ہیں،بلکہ اگر غور سے مختلف ممالک کے ماہرین کی آرا کو پڑھیں اور دیکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ تاحال کسی کو کچھ علم نہیں کہ جس کو وائرس کہہ کر اس کا نام کووڈ19(کورونا) رکھ دیا گیا، وہ درحقیقت ہے کیا؟اس حوالے سے ابھی تک علاج پر بھی اتفاق رائے نہیں،احتیاط، احتیاط اور احتیاط کا مشورہ ہی دیا جاتا ہے،جہاں تک علاج کا تعلق ہے تو ہمارے طبی ماہرین نمونیہ سے لے کر تپ دق، کھانسی، انفیکشن اور پیٹ کے امراض کی مختلف ادویات سے مختلف طریقوں سے علاج کرتے ہیں،آپ ان سب کو ٹوٹکے بھی کہہ سکتے ہیں، اکثر مریض اسی طرح صحت یاب ہو جاتے ہیں،لیکن جو زیادہ متاثر ہوتے ہیں، ان کی واپسی موت کے بکس ہی میں ہوتی ہے اور پھر نمازِ جنازہ بھی مشکل تر عمل بن کر رہ جاتی ہے۔اسی حوالے سے چودھری شجاعت حسین کی اپیل بالکل درست ہے تاہم غور فرمانے کی بات صرف یہ ہے کہ توبہ کرنا ہے تو پھر اجتماعی ہو گی۔ اگر ہم قوم موسیٰ جیسی نافرمانی سے گریز کریں، دِل سے توبہ کر کے اللہ سے معافی کے خواہستگار ہوں اور دیانت داری سے تائب ہو جائیں تو یہ فرمان الٰہی ہے کہ وہ معاف کر دینے والا ہے اور معاف کر دے گا، ہمیں اس وبا سے نجات دے گا تو معاشرتی اور معاشی استحکام بھی نصیب فرما دے گا، ہمیں اس سے رحم ہی مانگنا چاہئے۔

یہ سب عرض کرتے ہوئے ہمارے ذہن میں بھی معاشرے اور خود اپنی بداعمالیوں کی فلم چل رہی ہے، صاف نظر آتا ہے کہ ہم تعلیمات رسولؐ کو کس حد تک فراموش کر چکے اور نبیؐ کی تعلیمات کی من مانی تشریحات کر کے معاشرے میں فساد پھیلا رہے ہیں،معاشرتی برائیوں کا ذکر کر چکے، سب سے بڑی پریشانی اب فرقہ واریت اور فرقہ پرستی ہے، ابھی ابھی لسانیت کے زہر کا پول کھلا ہے تو فرقہ واریت کے جن کی طرف سے بوتل سے نکلنے کی کوشش نظر آنے لگی ہے اسے فوری طور پر بڑی سختی سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ایف آئی اے کے سائبر کرائمز کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے زہر پھیلانے کا تدارک کرے۔ سوشل میڈیا پر ایسی اختلافی پوسٹوں کو روکا جائے، توہین کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تحریک پھر سے شروع کی جائے اور متنازعہ مواد ضبط کیا جائے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں