Home » اب بھی وقت ہے

اب بھی وقت ہے

by ONENEWS

گورننس میں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے اور ذمہ داروں کو سسٹم سے آؤٹ کرنے کے لئے صوبوں میں اہم سول و پولیس انتظامی عہدوں پر تعینات افسران پر کڑی نظر رکھنے کے لئے سول خفیہ ادارے میں دو ماہ قبل ایک خاص سیل قائم کیا گیا۔ اعلیٰ خفیہ ادارے کے اہلکار کے بقول پنجاب اور خیبر پختونخوا میں خاص طور پر صوبائی ایڈیشنل سیکرٹریز، سیکرٹریز  ڈپٹی کمشنرز، ریجنل کمشنرز، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس، ریجنل و ڈسٹرکٹ پولیس آفیسروں کی طرف سے کی جانے والی مبینہ کرپشن پر چیک رکھنے اور انکوائریز کرنے کے لئے سیل کو ٹاسک دیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا۔ایسے صوبائی محکمے جن میں پبلک ڈیلنگ ہے اور جو عوامی فلاح کے منصوبے شروع و مکمل کرتے ہیں ان پر خاص نظر رکھی جائے۔ سیل صوبائی محکمے خاص طور پر مواصلات و تعمیرات، ہاؤسنگ، لوکل گورنمنٹ، صحت و تعلیم، خزانہ، منصوبہ بندی و ترقیاتی بورڈ، جنگلات و ٹورزم میں جاری ترقیاتی منصوبہ جات میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر رپورٹ بنائے گا۔یہ سیل سول و پولیس آفیسران کی عام شہرت،اثاثہ جات، قریبی رشتہ داروں کے اثاثہ جات بھی چیک کر کے رپورٹس تیار کرکے اپنی سفارشات دے گا۔یہ رپورٹس ڈائریکٹر جنرل کو بھجوائی جائینگی جو وزیراعظم پاکستان کو اس پر بریفنگ دیں گے۔ رپورٹس کی کاپیاں گورنر سندھ اور پنجاب، کے پی کے وزرائے اعلیٰ سے بھی شیئر کی جائیں گی ان رپورٹس کی روشنی میں کرپٹ و گندی شہرت رکھنے والے افسروں کو اہم عہدوں سے ہٹایا جا سکے گا۔

قومی اخبارات میں چھپنے والی اس خبر کو پڑھ کر دِل میں ایک  خیال ابھرا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر گورننس میں کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ یہ رپورٹ بھی مرتب کی جاتی کہ سرکاری بابوز اور پولیس افسروں کا سائلوں کے ساتھ رویہ کیسا رہا، وہ اخلاقیات کے کس پائیدان پر رہے تو سونے پے سہاگہ ہو جاتا۔

سرکار کے افسروں کے حوالے سے سرائیکی کی بڑی مشہور کہاوت ہے ”بیوروکریسی، برا کریسی“ مطلب سرکار کے افسر ہمیشہ برا ہی کریں گے۔ اب اس کہاوت کی سچائی کہاں تک ہے یہ تو وہی بتا سکتا ہے، جس کا ان سرکاری بابوز سے واسطہ پڑتا ہے ویسے زبان زد عام ہے کہ بیورو کریٹس کسی کا پہلی بار کام کر دیں یہ انہونی ہی ہو گی۔ ہر شخص کا یہی کہنا ہے وہ سائل کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہر ایک کو گھنٹوں اپنے دفتر کے باہر بٹھانا اور سب کو بذریعہ نائب قاصد یہ پیغام دینا۔ ”صاحب میٹنگ میں ہیں“۔ وہ اسباق ہیں،جو لگتا ہے شروع دن سے ہی سول سروس اکیڈمی میں افسروں کا ازبر کرا دئیے جاتے ہیں۔

اگر خوش قسمتی سے کئی دنوں کے بعد چھوٹے یا بڑے افسر سے ملاقات ہو بھی جائے تو ہر شخص کو یہ میٹھی گولی دینا۔”آپ فلاں افسر سے مل لیں“۔ آپ کا کام ہو جائے گا۔ اس بات کی تکرار کرنا تو ہمارے سرکاری افسروں پر ختم ہے۔

خاکسار کئی بار ارباب اختیار سے عرض کر چکا۔ بیرون ملک جانے کے لئے ویزہ کا حصول لازمی ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ہر سفارت خانہ کی ویب سائٹ پر متعلقہ کاغذات کی فہرست کی مکمل تفصیل دی ہوتی ہے۔ ان کاغذات کے ساتھ دی گئی تاریخ پر انسان خود یا ٹریول ایجنٹ سفارت خانہ پہنچ جاتا ہے۔ افسران کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے کے ساتھ کچھ سوالات بھی کرتے ہیں۔ مطمئن ہونے پر وہ تاریخ دیتے ہیں کہ ویزہ اتنے دن میں مل جائے گا۔ بعض اوقات کاغذات اگر ان کی منشا کے مطابق نہ ہوں یا مزید درکار ہوں وہ دوبارہ آنے کا بھی کہہ دیتے ہیں۔اس طرح ویزہ مل جاتا ہے۔

سول سیکرٹریٹ ہر محکمہ میں آنے والے سائلوں کے ساتھ بھی یہی طریقہ روا رکھا جائے۔ اگر کسی سائل کا محکمہ صحت، تعلیم یا کسی بھی محکمہ میں تبادلہ، پوسٹنگ، پروموشن، انکوائری الغرض کوئی بھی کام ہے اس کام کی نوعیت کے بابت تمام کاغذات کی تفصیل ویب سائٹ پر دے دی جائے۔ سائل کو تمام کاغذات کے ساتھ متعلقہ محکمہ کے سیکرٹریٹ آنے کا وقت دیا جائے۔ ہر محکمہ میں کاغذات کی وصولی کے لئے کاوئنٹر بنائے جائیں۔ یا ٹوکن سسٹم رکھا جائے۔ روزانہ کے کیسز کو ڈیل کرنے کے مطابق وقت مقرر کر دیا جائے۔ سائل کے آنے پر اس کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اس کو وقت دے دیا جائے کہ اس تاریخ کو آپ کا کام ہو جائے گا۔ اگر اس کے کاغذات نامکمل ہوں تو اسے لکھ کر آفیشل مہر لگا کر دی جائے اور دوبارہ آنے کا وقت دے دیا جائے۔ اگر کسی سائل کا کام وقت پر نہ ہوا ہو اسے ناجائز تنگ کیا جا رہا ہو اس سے رشوت طلب کی جا رہی ہو تو اس کے ازالے کے لئے علیحدہ شکایت کاؤنٹرز بنائے جائیں۔

محکمہ انٹرنیٹ کا ایسا نظام ترتیب دے کہ ہر سائل اپنی درخواست بارے جان سکے۔ وہ کہاں تک پہنچی۔ایسا شفاف نظام وضع کرنے سے حکومت کی نیک نامی کے ساتھ عوام کی کھجل و خواری میں کمی آئے گی۔

ایسا سسٹم لانا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ بات تو نیک نیتی، احساس اور اہلیت کی ہے لیکن حکومتی بھانڈ اپنی نوکری بچانے کے لئے سوشل میڈیا پر کپتان کی مدح سرائی کا چورن بیچنے کے ساتھ اصلاحی  تنقید کا نشتر چلانے والوں کو بھی رگڑ رہے۔ خدا کی پناہ! ایسے ایسے مشورے کہ نہ پوچھئے۔ ان قصیدہ گوئی کے چیمپیئنز کا جناب عمران خان کو عوامی مسائل کے تدارک کے لئے ٹیلی فون کالز سننے کا بھونڈا مشورہ دینا بالکل اسی طرح ہے جیسے دو تہائی اکثریت نہ رکھنے والی پی ٹی آئی حکومت کا سینٹ الیکشن میں شو آف ہینڈ کی ترمیم کروانے کے لئے قرارداد کو لانا اور پھر بھرے بازار عزت نیلام کروانا۔ کسی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

خیر سے پی ٹی آئی کی حکومت میں روزانہ کوئی نہ کوئی کارنامہ سننے کو ملتا ہے۔ پتہ نہیں کون ہیں؟ ایسے مشورے دینے والے آئن سٹائن……!

آج کل پنجاب میں اسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہسپتالوں کے خفیہ دورے کرنے پر لگا دیا گیا ہے، حالانکہ محکمہ صحت پنجاب جو پی پی ایس سی میں وومن کوٹا اور ڈاکٹرز کی میرٹ کے برعکس سلیکشن اور ایم ٹی آئی ایکٹ کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ میں ہے وہاں بیوروکریٹس کے چھاپے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف۔ چاہئے تو یہ تھا ان افسروں کو عوام کا تیل نکالنے والی خودساختہ مہنگائی کرنے والے گراں فروشوں کو نتھ ڈالنے کا ٹاسک سونپا جاتا اور نہیں تو پنجاب کے دِل  پھولوں کے شہر لاہور کے داخلی راستوں کی کھنڈرات بنی سڑکوں کا پُرسان حال بننے کے ساتھ ٹریفک کے اژدہام کو کنٹرول کرنے اور سب سے بڑھ کر کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا کام لیا جاتا۔ لا اینڈ آرڈر اور قبضہ گروپ کو لگام دینے کی بات کی جاتی۔

صد افسوس! سب اچھا کی رپورٹ پیش کرنے والوں نے عوام کی کھال ادھیڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

مَیں تو یہ کہوں گا…… جناب عمران خان سنجیدہ ہو کر سینٹ الیکشن کے بعد پنجاب کا ضرور کچھ سوچیں۔ اپنی ٹیم کے چاپلوس، فارغ البال امپورٹڈ وزیروں، مشیروں کو جو یہ بھاشن دیتے نہیں تھکتے۔ معشیت کی مضبوطی کے لئے ٹیکسوں کی بھرمار کریں۔ کوئی مسئلہ نہیں مہنگائی پچھلی حکومتوں کا کیا دھرا…… آپ ہر  سات دن بعد تیل، گیس، بجلی کی قیمتیں بڑھا کر عوام کا کچومر نکال دیں۔

آخری سال ہم خوب کام کریں گے۔ عوام کو ریلیف دیں گے۔ایسی سوچ رکھنے والے سب ڈفرز کو چلتا کریں۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ اگر ایسا جلد نہ کیا گیا تو یہ پی ٹی آئی حکومت کو چلتا کردیں گے۔ اب بھی وقت ہے……!!!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment