Home » آسٹریلین اوپن کا آغاز پیر سے ہوگا

آسٹریلین اوپن کا آغاز پیر سے ہوگا

by ONENEWS

کرونا وائرس کی عالمی وباء نے جہاں دنیا بھر کے نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا وہیں کھیلوں کی عالمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ کئی عالمی اسپورٹس ایونٹس کا انعقاد منسوخ کر دیا گیا اور کچھ ایونٹس خاصی تاخیر سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں تماشائیوں کے بغیر منعقد ہوئے۔

ٹینس ایک ایسا کھیل ہے جس کے مقابلے سارا سال دنیا کے کسی نہ کسی ملک میں جاری رہتے ہیں۔ گزشتہ برس کرونا وائرس کی پہلی لہر سے قبل سال کا پہلا ٹینس گرینڈ سلیم ایونٹ آسٹریلین اوپن ہوا تھا جس کے مینز سنگلز کے فاتح سربیا کے نواک جوکووچ اور ویمنز سنگلز کی فاتح امریکہ صوفیہ کینن تھیں لیکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شدت کی وجہ سے فرنچ اوپن اور ومبلڈن اور یویس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کا انعقاد ملتوی کر دیا گیا تھا۔ نواک جوکووچ 9 ویں مرتبہ آسٹریلین اوپن کا تاج اپنے سر پر سجانے کیلئے کورٹ میں اتریں گے۔

فرنچ اوپن ٹورنامنٹ کا انعقاد کافی تاخیر سے اکتوبر میں یوایس اوپن کے بعد عمل میں آیا تھا جس کے فاتح کلے کورٹ کنگ رافیل نڈال تھے جنہوں نے 20 واں ٹائٹل جیت کر سوئس لیجنڈ راجر فیڈررکا 20 گرینڈ سلام اعزازات کا ریکارڈ برابر کر دیا تھا۔ انہوں نے فائنل میں روایتی حریف نواک جوکووچ کو شکست دی تھی جبکہ اس سے قبل تاخیر سے ہونے والے یوایس اوپن کے فائنل میں آسٹریا کے ڈومینک تھیم نے جرمنی کیالیگزینڈر زیوریف کو 4 گھنٹے کے سخت مقابلے میں شکست دے کر اپنا پہلا گرینڈ سلیم اعزاز جیتا تھا حالانکہ وہ ابتدائی 2 سیٹ ہار گئے تھے۔ برطانیہ میں کرونا وائرس کی بدترین صورت حال کی وجہ سے ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ منعقد نہیں کی جا سکی تھی۔

یو ایس اوپن کے دوران نواک جوکووچ جو رافیل نڈال کی عدم موجودگی میں ٹورنامنٹ فیورٹ تھے ڈرامائی انداز میں ڈس کوالیفائی کر دیئے گئے  تھے جب انہوں نے  کوارٹر فائنل میں ایک پوائنٹ ضائع ہونے پر مایوسی اور غصے کے عالم اور نادانستگی میں گیند کو ریکٹ کی مدد سے بغیر دیکھے پیچھے کی جانب مارا تو گیند وہاں بیٹھی خاتون لائن جج کے نرخرے پر جا کر لگی اور وہ شدت درد سے کراہتے ہوئے زمین پر گر گئی۔ جوکووچ نے اس پر فوری طورر پر معذرت کی تھی لیکن ٹورنامنٹ مینجمنٹ نے کافی مباحثے کے بعد انہیں رولز پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈس کوالیفائی کر دیا تھا اور ان کے حریف کو فاتح قرار دے دیا تھا۔

سال رواں کا پہلا گرینڈ سلیم آسٹریلین اوپن روایتی طور پر جنوری کے وسط میں منعقد ہوتا ہے لیکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور بیرون ملک سے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے ضروری قرنطینہ اقدامات کی وجہ سے اسے 3 ہفتے کیلئے موخر کر دیا گیا تھا اور اب یہ ٹورنامنٹ پیر 8 فروری سے شروع ہو رہا ہے اور 21 فروری تک جاری رہے گا۔ یہ مجموعی طور پر 109 واں ٹورنامنٹ ہے لیکن یہ اوپن ایرا کا 53 واں ایڈیشن ہے۔ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ کرونا پابندیوں کی وجہ سے ایونٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے مقابلے بیرون ملک منعقد ہوئے جو دوحہ اور دبئی میں ہوئے۔

آسٹریلیا پہنچنے والے کھلاڑی اور آفیشلز میلبورن میں قرنطینہ مکمل کرنے کے بعد وارم اپ میچوں اور میلبورن پارک میں ہونے والے دیگر ٹورنامنٹس میں حصہ لے رہے تھے کہ آسٹریلین اوپن کے آغاز سے 4 روز قبل ایک ہوٹل کے اسٹاف کا کرونا وائرس کوویڈ 19 ٹیسٹ مثبت آ گیا جس کی وجہ سے اس ہوٹل میں قیام کرنے والے کھلاڑیوں  اور دیگر آفیشلز کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن کے نتائج چند روز میں سامنے آئیں گے۔اس صورت حال سے  160 کھلاڑی اور 500 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ میلبورن پارک میں ہونے والے تمام وارم اپ میچ ختم کر دیئے گئے تھے۔ تاہم اس صورت حال کے باوجود منتظمین کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ شیڈول کے مطابق شروع ہوگا گو بعض حلقوں کی جانب سے ٹورنامنٹ کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ قرنطینہ کے دوران کھلاڑیوں نے اپنے کمروں میں ہی پریکٹس جاری رکھی تھی۔

اس کے ساتھ ہی ہسپانوی اسٹار 34 سالہ رافیل نڈال جو گرینڈ سلام اعزازات جیتنے کی دوڑمیں راجر فیڈرر سے آگے نکلنے کے خواہاں ہیں نے یہ اعلان کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ وہ مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں۔ انہوں نے کمر میں انجری کی وجہ سے ایک اور اے ٹی پی کپ مقابلے میں حصہ نہیں لیا جس سے آسٹریلین اوپن میں ان کی شرکت کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں تاہم انہیں ٹورنامنٹ سیڈنگ میں دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے اور ان کا نام ڈراز میں بھی شامل ہے۔ نڈال نے منگل کو آسٹریلیا کے خلاف سپین کے اوپننگ میچ میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ میچ کھیلنے کے لیے مکمل فٹ نہیں ہیں اور اپنی پوری قوت کے ساتھ کھیلنے سے قاصر ہیں اور انہیں آرام کی ضرورت ہے۔ رافیل نڈال نے 21 نومبر کو لندن میں اے ٹی پی فائنلز کے بعد کسی مسابقت والے میچ میں شرکت نہیں کی ہے۔ وہ گزشتہ جمعہ کو ڈومینک تھیم کے خلاف میلبورن میں نمائشی میچ کھیلے تھے جس میں وہ 7-5,6-4 سے فاتح تھے۔اس سے پہلے انہوں نے ایڈیلیڈ میں 14 دن کا قرنطینہ مکمل کیا تھا۔

عالمی نمبر ایک اور آسٹریلوی اسٹار ایشلے بارٹی کو ویمنز سنگلز کیلئے فیورٹ قرار دیا ہے۔ ویمنز ایونٹ میں سخت اور دل چسپ مقابلوں کے ساتھ ساتھ اپ سیٹ کی بھی توقعات ہیں عالمی نمبر دو سیمونا ہالیپ، سن 2020 کی یوایس اوپن چیمپئن ناؤمی اوساکا، دفاعی چیمپئن صوفیہ کینن کے علاوہ ٹاپ 10 میں شامل دیگر خواتین ایلینا سویٹولینا، کیرولینا پلسکووا، بیانکا اینڈریسکو، پیٹرا کیویٹووا اور آریانا سبالینکا بھی سخت جاں حریف ثابت ہوں گی۔

سابق عالمی نمبر ایک اور 23 گرینڈ سلام اعزازات جیتنے والی سرینا ولیمز 8 ویں بار آسٹریلین اوپن کا تاج اپنے سر پر سجانے کیلئے کوشاں ہیں اگر وہ یہ ٹورنامنٹ جیت گئیں تو وہ سب سے زیادہ گرینڈ سلیم اعزازات جیتنے والی آسٹربلوی کھلاڑی مارگریٹ کورٹ کا 24 گرینڈ سلام اعزات کا ریکارڈ برابر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ وہ گزشتہ سال بھی یہ ریکارڈ برابر کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کرتی رہی ہیں لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سرینا ولیمز نے اپنا آخری گرینڈ سلام اعزاز سن 2017 میں میلبورن میں جیتا تھا۔ گزشتہ سال کے فرنچ اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں وہ انجری کی وجہ سے پرونکووا کے خلاف میچ میں دستبردارہوگئی تھیں جبکہ یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں سرینا کو وکٹوریہ آزارنیکا نے مات دی تھی۔

دو بار آسٹریلین اوپن جیتنے والی بیلا روس کی وکٹوریہ آزارینکا بھی  ٹورنامنٹ میں شریک ہیں۔ فرنچ اوپن چیمپئن ایگا سواٹیک با صلاحیت کھلاڑی ہے جو اپ سیٹ کر سکتی ہے۔ خواتین سنگلز میں 104 کھلاڑیوں کو براہ راست مین ڈرا میں انٹری  دی گئی ہے۔ جبکہ 8 کھلاڑیوں کووائلڈ کارڈ انٹری ملی ہے۔ کوالیفائنگ راؤونڈ سے 16 کھلاڑیوں کو جگہ ملی ہے۔

سن 2011 کے بعد آسٹریلین اوپن خواتین سنگلز کا اعزاز 8 مختلف کھلاڑیوں کے نام رہا ہے۔ سن 2011 میں کم کلسٹرزنے یہ اعزاز حاصل کیا جبکہ  2012 و2013 وکٹوریر آزارنیکا، 2014 لی نا، 2015  سرینا ولیبمز، 2016، اینجلک کیربر، 2017 سرینا ولیمز، 2018 کیرولینا وزنیاسکی، 2019 ناؤمی اوسااکا اور 2020 میں صوفیہ کینن نے یہ ٹائٹل جیتا۔

راجر فیڈرر کی عدم موجودگی اور رافیل نڈال کے فٹنس مسائل کی وجہ سے دفاعی حیمپئن نواک جوکووچ کے لیے فائنل تک رسائی اور ٹائٹل کے دفاع کا راستہ کچھ آسان دکھائی دیتا ہے لیکن ڈومینک تھیم، الیگزینڈر زیوریف، ڈینیل میڈیڈیف، ڈیوڈ گوفن، ڈیگو شوارٹزمین، اسٹیفانو سٹیسپاس، آندرے روبیلف، ملیوس راؤنک، جانک سنر اور دیگر کئی باصلاحیت کھلاڑی ان کی  راہ میں حائل ہو سکتے ہیں۔

اس بار ٹورنامنٹ میں شائقین ٹینس کئی معروف اور اپنے فیورٹ کھلاڑیوں کو کورٹ میں متحرک دیکھنے سے محروم رہیں گے۔ ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے والوں میں راجر فیڈرر، اینڈی مرے، جان اسنر، کیکی برٹنز، جو ولفریڈ سونگا، میڈیشن کیز، یوآن ڈل پوٹرو، کم کلسٹرز، جواؤ سوسا، کائیل ایڈمنڈ، ثانیہ مرزا، کرسٹین گارین، امانڈا اینیسمووا، ہیون چنگ اور سباستین کورڈا شامل ہیں۔

آسٹریلین اوپن کے ڈائریکٹر کریگ کا کہنا تھا کہ ہم میلبورن میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کا خیرمقدم کر رہے ہیں اور امید ہے کہ کھیلوں میں کرونا کی ایک سال سے خلل اندازی کے بعد ہم شاندار ایونٹ منعقد کرنے میں کامیاب ہوں گے۔اگرچہ حالات ماضی کے مقابلے میں یکسر مختلف ہیں۔ ہم عوام کو محدود تعداد میں ایونٹ سے لطف اندوز ہونے کا موقع دے رہے ہیں لیکن ایس او پیز پر انتہائی سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔روزانہ  30 ہزار شائقین کو مختلف کورٹس میں ہونے والے مقابلے دیکھنے کی اجازت ہوگی۔

.

You may also like

Leave a Comment