Home » آسٹریلیا بمقابلہ بھارت:17دسمبرکو پہلاڈے نائٹ ٹیسٹ

آسٹریلیا بمقابلہ بھارت:17دسمبرکو پہلاڈے نائٹ ٹیسٹ

by ONENEWS

فوٹو: ٹوئٹر

بھارتی کرکٹ ٹیم ان دنوں آسٹریلیا کے دورے پر ہے جہاں وہ ایک روزہ سیریز میں شکست سے دو چار ہوچکی جبکہ ٹی 20 سیریز میں مہمان ٹیم فتحیاب رہی۔ اب ٹیسٹ کرکٹ ورلڈ چیمپئن شپ ٹیبل پر 2 ٹاپ ٹیمیں 4 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کیلئے تیار ہیں۔ بارڈر گواسکر ٹرافی کیلئے کھیلی جانے والی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں آسٹزیلیا اور بھارت کا ٹاکرا ایڈیلیڈ کے اوول گراؤنڈ میں 17 دسمبر کو ہوگا جو ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ ہوگا۔ بھارتی ٹیم کے قائد ممتاز بلے باز ویرات کوہلی جبکہ آسٹریلیا کے کپتان وکٹ کیپر ٹم پین ہیں۔ اس وقت بھارت بارڈر گواسکر ٹرافی ہولڈر ہے جس نے گزشتہ دو ٹیسٹ سیریز میں آسٹریلیا کو شکست سے دو چار کیا ہے۔ اگر سیریز ڈرا ہوئی تو رولز کے تحت ٹرافی بھارت کے پاس ہی رہے گی۔ دسمبر 2018 میں بھارت نے ہی آخری بار اس گراؤنڈ پر آسٹریلیا کو سخت اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد 31 رنز سے شکست دی تھی۔

اب دونوں ٹیمیں آسٹریلوی سرزمین پر ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ گزشتہ دو سیریز میں آسٹریلیا کو رن مشین اسٹیون اسمتھ کی خدمات حاصل نہیں تھی جن کا بیٹ پھر تیزی کے ساتھ رنز اگل رہا ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ میں اسٹیون اسمتھ کی کارکردگی متاثر کن نہیں تھی لیکن بھارت کے خلاف ون ڈے میچز میں انہوں نے انتہائی جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے دو سنچریاں جڑ دیں اور بھارت کو متنبہ کیا کہ وہ اب بھرپور فارم میں ہیں اور ورلڈ بیٹنگ رینکنگ میں ٹاپ بلے باز ہونے کے اعزاز کا حقدار ہونے کو درست ثابت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سر ڈان بریڈ مین کے بعد بھارت کے خلاف 87 رنز فی اننگز کے بیٹنگ اوسط کے ساتھ اسٹیون اسمتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ آسٹزیلیا پہلے ٹیسٹ میں اپنے اوپنر ڈیوڈ وارنر کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی جو وارم اپ میچ میں گروئن انجری کا شکار ہوگئے۔ ان کی جگہ نوجوان باصلاحیت بلے باز ول پوکووسکی کے ٹیسٹ ڈیبیو کے قوی امکانات تھے لیکن وہ بھی سائید میچ میں بھارتی بولر کارتک تیاگی کی گیند سر میں لگنے سے زخمی ہو گئے اور ان کے بھی ٹیسٹ میں شامل ہونے کے امکانات معدوم ہو گئے۔ تین میچوں کی ون ڈے سیریز آسٹریلیا نے 2-1 سے جیتی جبکہ بھارت ٹی 20 سیریز میں 2-1 سے قاتح رہا۔

'اسکول والے' پری نے کپ کی تاریخ کیسے لایا؟  کرکٹ ڈاٹ کام

آسٹریلیا اور بھارت کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ 73 سال پرانی ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین 26 ٹیسٹ سیریز میں اب تک 98 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے جن میں آسٹریلیا کا پلہ بھاری رہا ہے۔ آسٹریلیا نے بھارت کو 42 ٹیسٹ میچوں میں شکست سے دوچار کیا جبکہ بھارت 28 میچوں میں فاتح رہا۔ 27 میں ڈرا ہوئے اور ایک ٹیسٹ میچ ٹائی ہوا۔ آسٹریلیا نے 12 ٹیسٹ سیریز اور بھارت نے 9 ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں پانچ سیریز ڈرا ہوئی ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی بار 1947 میں مدمقابل آئے تھے جب بھارتی کرکٹ ٹیم نے لالہ امرناتھ کی قیادت میں پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنے کیلئے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا جو آسٹریلیا نے 4-0 سے جیتی تھی۔ اولین سیریز میں بھارت کو تین ٹیسٹ میچوں میں اننگز سے شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ اس سیریز میں آسٹریلوی ٹیم کی قیادت لیجنڈ بیٹسمین سر ڈان بریڈمین نے کی تھی۔ پہلا ٹیسٹ میچ برسبین میں کھیلا گیا تھا جس میں میزبان آسٹریلیا 226 رنز سے فتحیاب ہوا تھا۔

پہلی اننگز میں سر ڈان بریڈ مین نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 185 رنز بنائے تھے اور میزبان ٹیم نے 382 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔ جواب میں بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 58 رنز پر فالو آن ہو گئی تھی اور دوسری میں 98 رنز بنا سکی۔ آسٹریلیا کے لیف آرم میڈیم پیسر ارنی توشک نے پہلی اننگز میں 2.3 اوورز میں دو رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور دوسری اننگز میں 29 رنزکے عوض چھ شکار کیے تھے جو ان کے کیریئر کی بہترین بولنگ تھی۔ آسٹریلوی ٹیم میں کیتھ ملر‘رے لینڈوال اور بل جانسن جبکہ بھارتی ٹیم میں وی جے ہزارے‘گل محمد‘ کشن چند‘ ونو منکڈ اور ہیمو ادھیکاری جیسے کھلاڑی شامل تھے۔ آسٹریلیا نے میلبورن ٹیسٹ 233 رنز اور ایڈیلیڈ ٹیسٹ ایک اننگز 16 رنز اور میلبورن ٹیسٹ ایک اننگز 177 رنز سے جیتا تھا۔ سڈنی میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹیسٹ میچ ڈرا ہوا تھا۔ اس سیریز میں سر ڈان بریڈ مین نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے بھارتی بولنگ کے پرخچے اڑا دیئے تھے۔ انہوں نے چھ اننگز میں چار سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 715 رنز بنائے اور ان کا اوسط 178.75 رنز فی اننگز تھا۔ ان کا سب سے زیادہ اسکور 201 رنز تھا۔ آسٹریلیا کے رے لینڈوال نے 18‘جانسن اور جانسٹن نے 16‘16 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ بھارت کے وی جے ہزارے نے سب سے زیادہ 429 رنز بنائے تھے۔

بھارت اور آسٹریلیا کے مابین 1947سے 1996تک 49 برسوں کے دوران 50 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے تھے جس کے بعد بارڈر گواسکر ٹرافی کا اجراء ہوا۔ انگلینڈ اور اسٹریلیا کے مابین ایشیز سیریز کی طرح بھارت اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں کے جوابی دوروں کیلئے کوئی فکسڈ شیڈول نہیں تھا۔جوابی دورے کئی کئی سال بعد ہوتے تھے۔ تقسیم ہندکے بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے بھارت کا پہلا جوابی دورہ 1956-57 میں کیا تھا جس میں تین ٹیسٹ میچ کھیلے گئے تھے اور یہ سیریز مہمان آسٹریلیا نے 2-0 سے جیت لی تھی۔ایک ٹیسٹ میچ ڈرا ہوا تھا۔ آسٹریلوی ٹیم کی قیادت ایان جانسن اور بھارت کے کپتان پولی امریگر تھے۔ آسٹریلیا نے سیریز کا پہلا چنائے ٹیسٹ ایک اننگز 5 رنز سے جیتا تھا جس میں رچی بینو نے پہلی اننگزاور رے لینڈوال نے دوسری اننگز میں سات سات کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔ ممبئی ٹیسٹ ڈرا ہوا اور کلکتہ میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میں مہمان ٹیم 94 رنز سے فتح سے ہم کنار ہوئی تھی۔

دونوں ملکوں کے مابین 1996تک کھیلے جانے والے 50 ٹیسٹ میچز میں سے آسٹریلیا نے 24 اور بھارت نے 8 ٹیسٹ میچ جیتے جبکہ 17 ٹیسٹ میچ ڈرا اور ایک ٹیسٹ ٹائی ہوا تھا۔ اس عرصے کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم صرف ایک ٹیسٹ سیریز اپنے ہوم گراؤنڈ پر جیت پائی تھی جب بھارت نے 1979-80 میں چھ ٹیسٹ میچز کی سیریز میں آسٹریلیا کو 2-0 سے شکست دی تھی۔ آسٹریلیا کے خلاف بھارتی ٹیم پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس سیریز میں آسٹریلوی ٹیم کے کپتان کم ہیوز اور بھارت کے قائد سنیل گواسکر تھے۔ بھارت نے آسٹریلیا میں کانپور ٹیسٹ میں 153 رنز سے زیر کیا تھا۔ ممبئی میں چھٹا ٹیسٹ میچ ایک اننگز اور 100 رنز سے میزبان ٹیم نے جیتا تھا۔ اس ٹیسٹ میں گواسکر اور وشواناتھ نے سنچریاں بنائی تھیں جبکہ دلیپ دوشی‘ شیو لال یادیو اور کپیل دیو کی تباہ کن بولنگ نے دونوں اننگز میں آسٹریلوی بیٹنگ کا شیرازہ بکھیر دیا تھا۔ آسٹریلوی بیٹنگ لائن اینڈریو ہلڈچ ئ گراہم یلوپ‘ کم ہیوز‘ ایلن بارڈر‘ ڈیو واٹمور‘ رک ڈارلنگ جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔

آسٹریلیا کے سابق قائد ایلن بارڈ اور بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر کے نام سے بارڈر گواسکر ٹرافی کا آغاز1996ء میں ہوا تھا۔ ان دونوں بلے بازوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10ہزار سے زیادہ رنز بنائے تھے اور ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا ریکارڈ شاندار ہے۔ اس لیے ٹرافی ان دونوں سے موسوم کی گئی۔ اس ٹرافی کیلئے پہلی ٹیسٹ سیریز صرف ایک ٹیسٹ پر مشتمل تھی۔ دہلی میں اکتوبر1996 میں ہونے والے اس ٹیسٹ میچ میں بھارت نے سچن ٹنڈولکر کی قیادت میں مارک ٹیلر الیون کو سات وکٹوں سے شکست دے کر اولین بارڈر گواسکر ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

بھارت نے 1997-98 میں اپنی ہی سرزمین پر اظہرالدین کی قیادت میں آسٹریلیا کی مارک ٹیلر کو تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 2-1 سے ہرا کر ٹرافی کا میاب دفاع کیا تھا۔ دونوں ملکوں کی کرکٹ ٹیموں میں بارڈر گواسکر ٹرافی کیلئے 14 سیریز کھیلی گئی ہیں جن میں بھارت کا پلہ 9 بار ٹرافی اپنے پاس رکھنے کی وجہ سے بھاری ہے جبکہ آسٹریلیا نے پانچ مرتبہ یہ ٹرافی جیتی ہے۔ بارڈر گواسکر ٹرافی کیلئے دونوں ملکوں کے مابین 48 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے جن میں سے بھارت 20 اور آسٹریلیا 18 میں فاتح رہا جبکہ 10ٹیسٹ میچز ڈرا ہوئے۔ بھارت نے ویرات کوہلی کی زیرقیادت 2017 میں اپنی سرزمین پر چار ٹیسٹ میچز کی سیریز میں آسٹریلیا کی اسٹیو اسمتھ الیون کو 2-1 سے ہرا کر ٹرافی جیتی تھی۔

اسمتھ نے اس سیریز میں تین سنچریاں بنائی تھیں اور وہ بھارتی سرزمین پر ایک سیریز میں یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے آسٹریلوی بلے باز تھے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم نے 2018-19 میں دورہ آسٹریلیا میں حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان آسٹریلیا کو چار ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 2-1 سے زیر کر کے بارڈر گواسکر ٹرافی کا کامیاب دفاع کیا تھا۔ اس سیریز میں آسٹریلوی کپتان ٹیم پین تھے۔ بھارت نے ایڈیلیڈ ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد 31 رنز سے جیتا تھا۔ آسٹریلیا نے پرتھ ٹیسٹ 130 رنز سے جیت کر مقابلہ 1-1 سے برابر کیا لیکن میلبورن ٹیسٹ میں جسپرت بھمرا کی تباہ کن بولنگ کے نتیجے میں آسٹریلیا کو 137 سے ہرا کر 2-1 کی سبقت حاصل کر لی۔ بھمرا نے میچ میں 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ سڈنی ٹیسٹ خراب روشنی کی وجہ سے مکمل نہ ہو سکا اور صرف تین دن کھیل ہوا۔ اس میچ پر بھی بھارت کی گرفت مضبوط تھی جس نے پہلی اننگز میں 622 رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے کے بعد آسٹریلیا کو 300 پر آؤٹ کر کے فالو آن کر دیا تھا۔ اس طرح بھارت ٹرافی اپنے پاس رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔

انڈیا بمقابلہ آسٹریلیا: آسٹریلیا میں ہندوستان نے تاریخی ٹیسٹ سیریز جیتنے کا طریقہ |  کرکٹ نیوز۔ ٹائمز آف انڈیا

بھارتی لیجنڈ سچن ٹنڈولکر دونوں ملکوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے اور انیل کمبلے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔ سچن ٹنڈولکر 39 ٹیسٹ میچز میں 3630 رنزکے ساتھ پہلے اور آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ 29 ٹیسٹ میچز میں 2555 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ موجودہ کرکٹرز میں چتیشور پوجارا نے 16ٹیسٹ میچز میں 1622‘ ویرات کوہلی نے 19ٹیسٹ میں 1604رنز‘اسٹیون اسمتھ نے 10 ٹیسٹ میں 1429‘ریہانے 13 ٹیسٹ میں 622 ‘شان مارش 15 ٹیسٹ میں 605‘کے ایل راہول 9 ٹیسٹ میچز میں 580 رنز کے ساتھ نمایاں ہیں۔ سر ڈان بریڈ مین کا بینٹگ اوسط سب سے زیادہ 178.75 رنز فی اننگز ہے۔ انہوں نے پانچ ٹیسٹ میں 715 رنز بنائے تھے۔ دونوں ملکوں میں سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹوں کی فہرست میں ٹاپ تھری پوزیشن پر اسپنرز قابض ہیں۔ بھارتی اسپنرانیل کمبلے 100سے زائد ٹیسٹ وکٹیں لینے والے واحد بولر ہیں تاہم آسٹریلیا کے ناتھن لیون اس سیریز میں 100وکٹوں کا سنگ میل عبور کرسکتے ہیں۔ انیل کمبلے نے 20 ٹیسٹ میں 111اور ہر بھجن سنگھ نے 18ٹیسٹ میں 95 ناتھن لیون نے 18 ٹیسٹ میچز میں 85 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔ رویندرا جدیجا نے 10 ٹیسٹ میں 56 ہیزل وڈ نے 10ٹیسٹ میں 34 محمد شامی نے 7ٹیسٹ میں 31 مچل اسٹارک نے11 ٹیسٹ میں 31 پیٹ کمنز نے 6 ٹیسٹ میں 22 اور جسپرت بھمرانے چار ٹیسٹ میچوں میں 21 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

ایڈیلیڈ اوول کو دنیا کے چھٹے ٹیسٹ کرکٹ وینیو ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس گراؤنڈ پر پہلا ٹیسٹ میچ 12 دسمبر 1884 کو آسٹریلیا اور انگلینڈ کے مابین کھیلا گیا تھا جو انگلینڈ نے 8 وکٹوں سے جیت لیا تھا۔اس کے بعد سے ہر موسم گرما میں اس گراؤنڈ پر باقاعدگی سے ٹیسٹ میچ کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس اسٹیڈیم میں آخری ٹیسٹ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین 29 دسمبر 2019 کو ہوا تھا جو میزبان آسٹریلیا نے ایک اننگز اور 48 رنز سے جیت لیا تھا۔ ڈیوڈ وارنر نے 335 نز کی ناقابل شکست اننگ کھیل کر سر ڈان بریڈ مین کا سب سے زیادہ 299 رنز ناٹ آؤٹ کا ریکارڈ توڑ دیا تھا جو انہوں نے 1932 میں قائم کیا تھا۔

اس گراؤنڈ پر آسٹریلیا کی فتوحات کا ریکارڈ 52 فیصد سے زائد ہے اس اسٹیڈیم پر کھیلے جانے والے 78 ٹیسٹ میں سے آسٹریلیا 41 میں فاتح رہا اور اسے 18 میں شکست ہوئی19 ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔ بھارت اور آسٹریلیا اس گراؤنڈ پر 12مرتبہ مدمقابل آئے جن میں سے بھارت کو سات بار شکست ہوئی اور دو مرتبہ حصے میں آئی۔ تین ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔

.

You may also like

Leave a Comment