Home »  آدھا سچ

 آدھا سچ

by ONENEWS

محمود خان اچکزئی نے مینارِ پاکستان پر13دسمبر کے جلسے میں ایسا کیا کہہ دیا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا میں جس پر طوفان برپا ہے اور سرکاری ترجمان جسے لاہوریوں (اور پنجابیوں)کی توہین اور ان کی عزت وغیرت کے منہ پر طمانچہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کچھ گلہ انگریز راج کے حوالے سے تھا اور کچھ شکایت قیام پاکستان کے بعد کے حالات وواقعات کے سلسلے میں۔ انگریز راج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا: ایک وطن تھا جو ان کے خلاف لڑا، وہ افغان پشتون وطن تھا،دریائے آمو سے اباسین تک۔۔۔ برانہ مانیں،جہاں ہندوؤں اور سکھوں نے انگریز کا ساتھ دیا، وہاں تھوڑا سا ساتھ لاہوریوں نے بھی دیا۔ جلسے کے ہزاروں لاہوری(اورپنجابی) حاضرین اور سٹیج پر موجود قیادت نے بھی اسے بلوچستان سے آئے ہوئے مہمان کا دوستانہ گلہ سمجھ کر نظر انداز کیااور مسکرا کر ٹال گئے کہ انہیں یہی رویہ زیبا تھا۔ ویسے بھی پشتون لیڈر نے لاہوریوں کے حوالے سے ”تھوڑا سا ساتھ“ کے الفاظ استعمال کئے تھے۔

ان سطور کے راقم نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا، لیکن اب موقع محل کی مناسبت سے عرض کئے دیتا ہوں کہ میں نجیب الطرفین پنجابی ہوں۔ میرے ننھیال اور دودھیال دونوں نے امرتسر سے ہجرت کی تھی۔ میرے بچے سوفیصد لاہوری ہیں کہ ان کا جم پل یہیں کا ہے اورخود مجھے بھی یہاں آئے ہوئے نصف صدی سے دواڑھائی سال ہی کم ہیں کہ ہارون آباد (بہاولپور ڈویژن) سے وکالت کی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا اور پھر یہیں صحافت کا ہو کر رہ گیا۔ ایک میڈیا ہاؤس سے فون آیا، اچکزئی کی طرف سے پنجابیوں کی اس توہین پر آپ کا تبصرہ؟ عرض کیا:”توہین نہیں، ایک دوست کی محبت بھری شکایت“۔۔۔

البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی شکایت میں ”آدھا سچ“ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ یہاں دوپنجاب تھے، انگریز کے وفاداروں کا پنجاب (کہنے والوں نے انہیں ”ٹوڈی بچے“بھی کہا) جنہوں نے اس کے عوض بڑی بڑی جاگیریں حاصل کیں۔ان میں بعض گدی نشین بھی تھے اوردوسرا حریت پسندوں کا پنجاب،جو قیدوبند کی بدترین اذیتوں سے دوچار ہوئے اور ہنستے مسکراتے صلیبوں پر جھول گئے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کی ”زیرِ آسماں“ کا ایک طویل باب عزیمت اور استقامت کی ان ہی داستانوں سے جگمگارہا ہے۔ متحدہ ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بھی صورتِ حال مختلف نہ تھی۔ نامور ادیب وخطیب آغا شورش کاشمیری آزادی کے متوالے اسی قافلہئ سخت جاں کے ہم سفر تھے۔ اپنی خودنوشت ”بوئے گل، نالہئ دل، دودِ چراغ محفل“ میں لکھتے ہیں: ”پنجاب کے شہروں کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ سیاسیات میں نئے نئے ہنگامے پیدا کرتے۔ جلیانوالہ باغ یہاں تھا۔ مارشل لاء یہاں لگا، تحریک کشمیر یہاں سے اٹھی، سکھوں نے یہاں مورچہ لگایا۔ نامور انقلابی یہاں سے ابھرے۔ اردو کے بڑے بڑے اخبارات یہاں سے نکلتے تھے۔ کانگریس نے یہاں راوی کے کنارے آزادی کامل کا ریزولیوشن پاس کیا۔ خاکسار تحریک یہاں سے اٹھی۔ احرار یہاں سے اٹھے۔ مسلم لیگ نے پاکستان کا ریزولیوشن یہاں پاس کیا۔ پنجاب نے حالی پیدا کیا، اقبال کو جنم دیا۔ ظفرعلی خاں کو جنا،سید عطاء اللہ شاہ بخاری اٹھے لیکن اس کا تاج دوسروں کے سر چمکتا رہا“۔

اورتصویر کا دوسرا رخ۔۔۔آغا شورش نے لکھا: مغربی پنجاب کے اضلاع برطانوی حکومت کی عسکری کان تھے۔ اِدھر مسلمانوں میں پیرپرستی راسخ کی گئی۔ اُدھر ”تعزمن تشاء وتذل من تشا“ کی ملو کانہ تفسیر مسلمان عوام کے دلوں پر نقش کی گئی۔ تقدیر کا ظالمانہ تصور ان کے دلوں میں بیٹھ گیا۔ ان کی معیشت جاگیر داروں کو دے دی گئی۔ انہیں اور ان کے لگے بندھوں کو فوج اور پولیس میں بھرتی کر کے ترغیب وتحریص کے دام میں پھانسا۔ اپنوں پر ظلم کرنا سکھایا۔ میں خود پنجابی ہوں اور مجھے اپنے پنجابی ہونے پر فخر ہے لیکن مجھے اس تصور ہی سے شرم آتی ہے کہ انگریزوں کو اپنے استعمار کی خدمت گزاری اور اپنے موقف کی وفاداری کے لیے بہترین سپاہی اور بہترین جاسوس پنجاب ہی سے ملے۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کی وحدت کو تاراج کرنے کے لیے مرزا غلام احمد کو بھی اسی مٹی سے اٹھایا گیا۔ مرزا نے محمد عربیﷺ کی امت میں نقب لگا کر ایک استعماری امت پیدا کی جس نے انگریزوں کی غلام کاجواز پیدا کیااور اس کی خاطر اتنے شرمناک کارنامے انجام دیئے کہ اس عظیم غداری کی مثال نہیں ملتی“۔

آغا شورش ہی کا ایک قطعہ اس ساری صورتحال کی تصویر کشی کرتا ہے  ؎

ہم نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا

جب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیں

حق پرستوں کے لیے دارورسن قائم تھے

خان زادوں کے لیے مفت کی جاگیریں تھیں

تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کے مقابل یونینسٹ بھی پنجاب ہی کے تھے۔1937کے انتخابات میں مسلم لیگ کو یہاں صرف دونشستیں ملیں۔ ایک ملک برکت علی اور دوسرے راجہ غضنفر علی۔ راجہ صاحب نے یونینسٹ بننے میں دیر نہ کی۔ متحدہ پنجاب کے یونینسٹ وزیراعظم سرخضر حیات نے اچھا کیا کہ مسلم لیگ کی سول نافرمانی (مارچ47) کے دوران، مخالفانہ نعروں کی تاب نہ لاکر مستعفی ہو گئے (کہا جاتا ہے، یہ فیصلہ انہوں نے اپنی والدہ محترمہ کے حکم پر کیا تھا)لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ خضر حیات کے والد جنرل سر عمر حیات انگریز کے وفادار رہے تھے۔ سرسید احمد خان کی کتاب The Royal Mohammadans of India انگریز کے وفاد ار مسلمانوں کی کہانی ہے۔

محمود اچکزئی کا کچھ شکوہ، قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے کردار کے حوالے سے بھی تھا۔ لیکن یہاں بھی ”آدھا سچ“ ہے۔ اب پھر دوپنجاب تھے۔ ایک مفاد پرستوں،ابن الوقتوں اور چڑھتے سورج کے پجاریوں کا پنجاب۔ اور دوسرا جمہور کی حکمرانی کے لیے برسرِ پیکار جرات مندوں کا پنجاب۔ اس میں کیا شک ہے کہ لاہور(اور پنجاب) کے امراء ورؤسا،جاگیر داروں اور بڑے زمینداروں کی بھاری اکثریت کا قبلہ ایوانِ اقتدار ہی رہا۔ تفصیل میں جانے کا محل نہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے مقابل صدارتی انتخابات میں مادرِ ملت کو کتنے رؤساوامرا، وڈیروں اور نوابوں کی تائید حاصل تھی۔ لاہور میں میاں افتخار الدین اور میاں بشیر احمد کے خاندان اور ادھر جنوبی پنجاب میں نواب زادہ نصر اللہ خان اور سردار شیر باز مزاری جیسے چند مردان جری جو قائد اعظم کی ہمشیرہ کی شمع جمہوریت کو تھامے ہوئے تھے۔بہاولپور کے میاں نظام الدین حیدر اور سرگودھا کے ذاکر قریشی کو بھی انہیں میں شامل کر لیں۔البتہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے سیاسی رہنمااور کارکن اور عام عوام کی اکثریت مادرِ ملت کے ساتھ تھی۔

اور یہ بھی لاہور ہی تھا، جہاں شیخ مجیب الرحمن اپنے امید وار ملک حامد سرفراز کی انتخابی مہم (1970ء)کے لیے آئے اور یہاں کے زندہ دلوں نے گول باغ میں ان کا جلسہ الٹ دیا۔ اور شہریان لاہور ہی تھے، جن کی تالیوں کی گونج میں بھٹو صاحب نے آئین ساز اسمبلی کے ڈھاکا سیشن کے بائیکاٹ اور وہاں جانے والوں کی ٹانگیں توڑ دینے کا اعلان کیا اور یہ ”تجویز“ بھی کہ اُدھر عوامی لیگ اور اِدھر پیپلز پارٹی کو اقتدار منتقل کر دیا جائے۔ جس پر عباس اطہر (مرحوم) نے ”اُدھر تم، اِدھرہم“ کی سرخی جمائی…… اور وہ بھی لاہور ہی تھا جس نے 1977ء کی بھٹو مخالف تحریک میں ہمت وجرات اور عزیمت واستقامت کی لازوال تاریخ رقم کی۔  9اپریل کو نیلا گنبد سے پنجاب اسمبلی کی طرف بڑھتا ہوا جلوس، نواب زادہ جس کی قیادت کررہے تھے اور سہ پہر تک جاں بحق ہونے والوں کی تعدا 20سے بڑھ گئی تھی، زخمی اڑھائی سو کے لگ بھگ تھے…… اور 6مئی کو کرفیو کی خلاف  ورزی کرتے ہوئے نوجوان جنہوں نے بندوقوں کے سامنے سینے کھول دیئے اور ان میں سے تین جاں سے گزر گئے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment