0

آج 5اگست ہے!

جنگیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں۔ مسلمان ان سے خائف نہیں ہوتا بلکہ ان سے محبت کرتا ہے۔ جنگ میرے نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ اس سے نفرت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کو گلے لگانا چاہیے۔ اگر کسی قوم یا فرد کا حق مارا جا رہا ہے تو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے آج عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں۔ لیکن نبی کریمﷺ کے زمانے میں کون سی عدالت تھی؟ وہ تو خود سپریم کورٹ تھے۔……تن تنہا…… سن 2ہجری میں کفارِ مکہ کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کسی اور عدالت نے نہیں بلکہ خود رسولِ خداؐ کی عدالت عظمیٰ نے کیا تھا۔ قریشِ مکہ نے جب مٹھی بھر مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تو آپؐ کا ردِ عمل کیا تھا؟ آباؤ اجداد کے مولد کو چھوڑنا آپؐ پر کتنا گراں گزرا ہو گا، اس کا احساس ہم آپ نہیں کر سکتے۔ آپ نے وطنِ مالوف تو چھوڑا لیکن فیصلہ یہ بھی فرمایا کہ اب زبانی کلامی تبلیغ نہیں بلکہ جنگ سے کام لیا جائے گا۔ یہی بات 19ویں صدی عیسوی کے ایک معروف جرمن ملٹری سکالر جنرل کلازوٹز نے بھی کہی تھی کہ جب زبانی کلامی افہام و تفہیم سے کام نہ چلے اور کسی ملک کی پالیسی (خارجہ) مطلوبہ مقصد یا مقاصد کے حصول میں ناکام ہو جائے تو پھر جنگ کے سوا چارہ نہیں رہتا۔ اس لئے کلازوٹز، اپنی مشہور زمانہ تصنیف ”آن وار“ (On War) میں جنگ کو خارجہ (سیاسی) پالیسی کی توسیع کا نام دیتا ہے۔

آنحضورؐ جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچے تو وعظ و تبلیغ اور زبانی کلامی تقریر و تلقین کو پسِ پشت ڈال کر جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مدینہ میں اسلام کی پہلی مسجد میں محراب کا خانہ مسلمانوں کی شمشیر و سناں کا ایک ویپن شیلف ہی تو تھا۔ آج ہم مسجدیں تو تعمیر کرتے ہیں، محراب کا خانہ بھی ان میں رکھتے ہیں لیکن شمشیر و سناں اس میں رکھنے کی سنت پوری نہیں کرتے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس محراب کو خالی نہ چھوڑا جاتا بلکہ اس میں ایک تلوار اور ایک ڈھال بطور علامت (Symbol) ہی سجا دی جاتی اور اس طرح سنتِ رسولؐ کی پیروی کی جاتی۔ آج کے آئمہ مساجد اس محراب کو اپنی تقریر اور خطبات کا ڈائس / روسٹرم سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ یعنی زبانی کلامی وعظ کو گلے لگاتے اور روایاتِ جنگ کو فراموش کر دیتے ہیں …… مسلم امہ کے زوال کا باعث یہی ”فراموشی“ ہے!

لیکن مولانا حالی نے جو کہا تھا: شریعت کے پیمان ہم نے جو توڑے…… وہ لے جا کے سب اہلِ مغرب نے جوڑے…… تو کچھ ایسا غلط نہیں کہا تھا۔ جنگ و جدال سے منہ موڑنا ہمارے زوال اور حرب و ضرب کو گلے لگانا اہلِ مغرب کے عروج کا باعث بنا۔ میں آپ کو ایک دفعہ پھر غزوۂ بدر کی طرف لے جانا چاہتا ہوں۔ ان ایام میں جب آنحضورؐ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو اہل مکہ کا ایک بڑا تجارتی قافلہ بغرضِ تجارت شام و عراق گیا ہوا تھا۔ ان کی آمد و رفت کا راستہ بحیرۂ احمر کے ساتھ ساتھ مدینہ کے نواح میں پڑتا تھا۔ حضورؐ نے اس قافلے کو روک کر سالارِ قافلہ ابو سفیان کے مظالم کا بدلہ چکانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے میں خدا کی رضا اور اس کا حکم بھی شامل تھا۔ مسلمانوں کو بتانا تھا کہ جب کوئی فرد، قبیلہ یا قوم احکامِ خداوندی سے سرتابی کرے تو اس کا اگلا منطقی اقدام جنگ ہوتا ہے۔

زمانہ با تو نسازد تو با زمانہ ستیز

(اگر زمانہ تجھ سے بنا کے نہیں رکھتا اور تیری بات نہیں مانتا تو اس سے جنگ آزمائی کر)

میں غزوۂ بدر کی تفاصیل کا یہاں اعادہ نہیں کروں گا۔جو لوگ اس غزوے کو دفاعی Postureسمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اہل ِ مدینہ (انصار و مہاجرین) نے اپنے دفاع میں تلوار کشی کی تھی ان سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا نبی کریمؐ کی زندگی کا آخری غزوہ (غزوۂ تبوک) بھی دفاعی Posture تھا؟

جنگوں کی عالمی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو تب جا کر یہ معلوم ہو گا کہ ایک انسان دوسرے انسان کا گلا کیوں کاٹتا ہے؟ یہ بھی معلوم ہو گا کہ کیا ایسا کرنا احکامِ ربانی کا حصہ ہے یا جنگجو اقوام نے اسے صرف اپنا جنگی ڈاکٹرین بنایا ہوا ہے؟…… لیکن کیا کیجئے کہ:

سرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے

تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیے

آج 5اگست ہے۔…… گزشتہ برس اسی تاریخ کو انڈیا نے کشمیر اور جموں کا خصوصی سٹیٹس ختم کرکے ان کو بھارتی یونین کا حصہ بنا لیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مودی نے آنے والے زمانوں میں پاکستان اور ہندوستان کو ایک دوامی کشیدگی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ نہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ انڈیا پھر سے ان علاقوں کو  خصوصی سٹیٹس دینے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ آنے والی بھارتی حکومتیں خواہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہوں یا کانگرس یا کسی اور مخلوط سیاسی جماعتوں کی ہوں وہ کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرکے  خودکشی کا خطرہ مول نہیں لیں گی۔ دوسری طرف پاکستان کشمیر کے سلسلے میں اپنے موقف سے روگردانی نہیں کر سکے گا، لہٰذا آنے والے برسوں میں اس مسئلے کا حل کیا ہو گا؟

پاکستان اور ہندوستان دونوں جوہری قوتیں ہیں۔ لیکن ہندوستان اور چین بھی تو دونوں جوہری قوتیں ہیں۔ لیکن جب چین نے اگست 2019ء میں انڈیا کو خبردار کر دیا تھا کہ لداخ کا علاقہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور یہ زمانہ ء قدیم سے تبت کا حصہ چلا آ رہا ہے اور کشمیر کے ہندو راجہ نے لداخ پر اس وقت قبضہ کیا تھا جب اہلِ چین، گراں خواب تھے۔ گلگت اور بلتستان کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ وہاں کے باشندوں کی غالب اکثریت 1947ء میں مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ ہندو یا سکھ خال خال تھے۔ اور جب برصغیر تقسیم ہوا تو مسلم اکثریت والے یہ علاقے (کارگل، سکردو، گلگت، نگر، ہنزہ، غذر، یٰسین اور چترال وغیرہ) پاکستان کو ملنے چاہئیں تھے۔ 1947ء میں ان علاقوں کے مسلمانوں نے مہاراجہ کشمیر کے خلاف بغاوت کردی اور گلگت میں سکھ گورنر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا۔ پھر اسی مسلمان فوج نے سکردو، کارگل اور لیح (Leh) تک پر قبضہ کر لیا۔ انڈین آرمی 26اکتوبر کو جب سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتری تو گویا وہ تقسیمِ ہند کے فارمولے کی روح کی نفی کر رہی تھی۔ اگر جونا گڑھ کا مسلمان حکمران، وہاں کی ہندو اکثریت کی وجہ سے اپنی ریاست کو پاکستان میں شامل نہ کر سکا تھا تو ریاست جموں و کشمیر کا راجہ انڈیا کے ساتھ کیسے الحاق کر سکتا تھا؟

چلیں چھوڑیں، یہ سارے ماضی کے قصے ہیں۔ حال کی حقیقت یہ ہے کہ لداخ، چین کے موقف کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ یہ صدیوں سے سطح مرتفع تبت کا اٹوٹ انگ تھا جسے انڈیا نے 1947-48ء میں ہندوستان میں شامل کرنے کی بجائے اسے ایک خصوصی حیثیت دے دی۔ تاکہ اس خطے کی آبادی یہ فیصلہ کرے کہ اس نے کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا ہے۔ چین کا موقف رائے شماری والا موقف نہیں۔ اس کا موقف یہ ہے کہ یہ علاقہ (لداخ) تو اول روز سے تبت کا حصہ ہے اور اسے انڈیا کو واپس کرنا ہوگا۔ اور جب انڈیا نے اس پر سڑکیں اور ائر فیلڈز بنا دیں اور اپنے ٹروپس یہاں لا کر سٹیشن کر دیئے تو آپ نے دیکھا کہ انڈیا کا حشر کیا ہوا؟ 20سولجر کی نفری ایک پلاٹون مائنس ہوتی ہے۔ انفنٹری پلاٹون میں 10،10 سولجرز کے تین سیکشن ہوتے ہیں اور دو سیکشنوں کی نفری جب چینی فوج کے ہاتھوں ماری گئی تو تب انڈیا کو ہوش آیا کہ ”متنازعہ علاقے“ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔

انڈیا اب ہاتھ پاؤں ما رہا ہے۔ بھاری اسلحہ جات لداخ میں جمع کئے جا چکے ہیں۔ رافیل طیاروں کا جو غلغلہ پچھلے دنوں انڈین میڈیا نے مچایا تھا، وہ اب بھی جاری ہے۔ انڈین جرنیل اور ائر مارشل ان پانچ رافیل طیاروں کو ”گیم چینجرز“ کا خطاب دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ 5طیارے لداخ کی ”متنازعہ حیثیت“ کا فیصلہ انڈیا کے حق میں کر دیں گے……اللہ اللہ خیر سلا…… اور چین چپ چاپ کھڑا مسکرا رہا ہے۔ اس کا میڈیا تو انڈیا پر نہیں امریکہ پر فوکس کئے ہوئے ہے۔ جنوبی چین کا سمندر اور تائیوان جزیرے کی ملکیت اس کے نزدیک  امریکہ کے ساتھ وجوہاتِ نزاع ہیں۔ مشرقی لداخ یا شمالی لداخ (دولت بیگ اولدی وغیرہ) چین کے ہاں فیصلہ شدہ علاقے اور موضوعات سمجھے جاتے ہیں۔

لداخ اگرچہ1948ء سے جموں اور کشمیر کا حصہ سمجھا جا رہا ہے لیکن لداخ کی ڈویلپمنٹ پر آج تک کسی نے کوئی خاص توجہ نہیں دی حالانکہ دیکھا جائے تو رقبے کے لحاظ سے لداخ، ریاست جموں و کشمیر کا 65%ہے اور باقی جموں و کشمیر کا رقبہ اس مقبوضہ ریاست کا35%ہے۔ مقبوضہ ریاست کے بجٹ کا صرف 2 فیصد لداخ کو ملتا رہا ہے کیونکہ اس کی آبادی بہت کم (274000) ہے۔ یہ بجٹ آبادی کو مدنظر رکھ کر تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس لئے علاقے کی ڈویلپمنٹ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اکیلے لیح کا رقبہ 45000مربع کلومیٹر ہے اور آبادی کی اکثریت بھی یہاں مقیم ہے۔ چین کے ساتھ لگنے والی سرحد پر کوئی آبادی نہیں کیونکہ انفراسٹرکچر ہی نہیں۔ اور اگر ہو بھی تو موسم کی شدت کی وجہ سے صرف سال کے چار پانچ ماہ (مئی تا ستمبر) ایسے ہیں جن میں سرحدی علاقوں کی آبادیاں گزر بسر کر سکتی ہیں۔ آبادی کی اکثریت اسلام کی پیروکار ہے یا بدھ مت کی ہے اور ہندوؤں کی آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین آبادی کے تناظر میں بھی اس علاقے کو انڈیا کا حصہ نہیں سمجھتا۔

جب سے بھارتی حکومت نے ریاست کے خصوصی سٹیٹس کو تبدیل کیا ہے کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر ظلم و ستم کے ساتھ ان کی تضحیک بھی کی گئی ہے۔ ٹریبون اخبار میں رادھا کماری کا ایک آرٹیکل شائع ہوا ہے۔ یہ خاتون ریاست جموں و کشمیر اور سنٹرل حکومت کے درمیان باشندگانِ کشمیر کے حقوق کے سلسلے میں باہمی مشاورت کا ایک اہم کردار سمجھی جاتی ہے۔ اس کے مطابق آج پوری وادی میں خوف و ہراس کی فضا کا راج ہے۔ مودی حکومت نے کہا تھا کہ سپیشل سٹیٹس کی تنسیخ کے بعد وادی میں تعمیر و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔اور دلّی کی مرکزی حکومت ریاست کی ڈویلپ منٹ کا کام بڑی تیزی اور عجلت سے شروع کرے گی۔ رادھا کماری صاحبہ ”دہلی پالیسی گروپ“ کی ڈائریکٹر جنرل بھی ہیں۔ اور امن و سلامتی کے موضوعات میں ان کو ایک تخصص حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ صورت حال پہلے بھی خراب تھی مگر 5اگست 2019ء کے بعد تو اس کی گھمبیرتا میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک ریاست کے مسائل کا حل کیا ہے؟…… ان کا جواب تھا: ”سب سے پہلا اقدام یہ ہونا چاہیے کہ حکومت کو 4Gسروسز بحال کرنی چاہئیں، تمام سیاسی قائدین کو جیلوں سے رہا کر دینا چاہیے، ریاست کا سابقہ سٹیٹس بحال ہونا چاہیے اور اس کے بعد تمام زیر التوا مسائل کے حل کے لئے ڈائیلاگ ہونا چاہیے“۔

رادھا کماری سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ اگر مودی سرکار نے یہ کام کرنے ہوتے اور تصفیہ طلب مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ڈھونڈنا ہوتا تو آرٹیکل 370 کو منسوخ کیوں کیا جاتا، اس کے بعد ظلم و بربریت کی انتہا کیوں کی جاتی، مسلم آبادی کی اکثریت تبدیل کرنے کے اقدامات کیوں کئے جاتے اور ڈومیسائل کے شوشے کیوں چھوڑے جاتے؟

میرے نزدیک مسئلہ کشمیر کا حل انڈیا اس وقت تک نہیں ہونے دے گا  جب تک لداخ میں چینی ٹروپس آکر خیمہ زن نہیں ہو جاتے۔ دوسرے لفظوں میں انڈوچائنا بارڈر وار آج نہیں تو آنے والے کسی کل میں نوشتہ ء دیوار ہے!

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں