Home » آج سب نظریں ملتان پر!

آج سب نظریں ملتان پر!

by ONENEWS

کڑاہی میں اُبال ڈالنا تو کوئی حکومت سے سیکھے جس تحریک کا ٹمپو نہیں بن رہا تھا اور جلسے رائیگاں جا رہے تھے، اس تحریک میں کس تدبیر یا بے تدبیری سے حکومت نے جان ڈالی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کے گزشتہ دو دِنوں میں میڈیا ملتان کہ جلسے کی بنتی بگڑتی صورتِ حال کی خبروں پر خبریں چلا رہا ہے۔ کسی کو اگر نہیں بھی پتہ تھا کہ پی ڈی ایم کس بلا کا نام ہے تو اب سب کو علم ہو چکا ہے کہ اپوزیشن کے اتحاد کا نام پی ڈی ایم ہے اور وہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے میدان میں آیا ہوا ہے۔ آج پورے ملک،بلکہ بیرون ملک رہنے والوں کی نظریں بھی ملتان پر جمی ہوں گی ایک جلسہ جو عام حالات میں ہوتا تو بنا اثرات سے گزر جاتا، اب سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دونوں طرف ایک ضد لگی ہوئی ہے کہ جلسہ کرنا ہے اور جلسہ نہیں ہونے دینا جلسہ ہو گیا تو کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا اور نہ ہوا تو حکومت کو کتنے نفلوں کا ثواب ملے گا۔ پہلے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے قاسم باغ سٹیڈیم پر تمام تر رکاوٹیں توڑ کر قبضہ کیا اور رات گئے پولیس نے ایک گرینڈ آپریشن کر کے قبضہ واگزار کرا لیا اب آج حالات کس طرف جاتے ہیں، کسی کو کچھ معلوم نہیں، یہ جلسہ کیسے ہوتا ہے؟ کہاں ہوتا ہے؟ پولیس و انتظامیہ کیا کرتی ہے، تصادم ہوا تو نقصان کس کا ہوگا؟ حکومت اگر اپنی رٹ منوانے کے جنون میں ہر حد سے گزر جاتی ہے تو آگے کے حالات کس طرف جائیں گے؟ یہ اور ایسے ہی بہت سے سوال اس وقت ذہنوں میں مچل رہے ہیں۔

ملتان جسے نصف جہان کہا جاتا ہے ایسی متعدد تحریکوں کا شاہد ہے، جن میں حکومت اضطراب اور اپوزیشن سراب میں نظر آئی۔ حکومت کی کورونا کہانی بہت پیچھے چلی گئی ہے، اب تو ہر طرف سیاست ہی سیاست کا راج ہے۔ ملتان کے بعد لاہور میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہونا ہے۔ اگر یہاں کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو اس کے منفی اثرات حکومت پر زیادہ پڑیں گے۔ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ ہلچل مچتی ہے، انتشار پھیلتا ہے اور بے چینی جنم لیتی ہے توحکومت کے لئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اپوزیشن کی تحریک اس وقت کامیاب ہوتی ہے، جب حکومت اس کا نوٹس لیتی ہے اگر وہ اسے نظر انداز کرتی رہے تو اپوزیشن بالآخر تھک جاتی ہے۔ یہاں تو حکومت پی ڈی ایم کی تحریک کو ہوا دینے کے لئے سب کچھ بڑی سرگرمی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اسی ملتان میں طلبہ و سیاسی تحریکوں کے دوران لوگ مرے ہیں لاشے گرے ہیں۔ ایوب خان کے دور میں طلبہ کی تحریک چلی تو چوک کچہری پر پولیس نے بے دریغ فائرنگ کر دی،ایک طالب علم جودت کامران شہید ہو گیا، اس کے خون سے تحریک میں ایسی جان پڑی کہ ایوب خان کو بالآخر جانا پڑا یہ پولیس والے تو اپنا کام دکھا کر اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں، بھگتنا حاکم وقت کو پڑتا ہے۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات گئے پولیس نے سٹیڈیم میں موجود پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو نکالنے کے لئے تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ جب پولیس والے انہیں پکڑ کر لے جا رہے تھے تو ان پر تھپڑوں، مکوں اور لاتوں کی بارش کیوں کی گئی کیا یہ اشتعال

بڑھانے والا عمل نہیں، کیا ایسے پولیس تشدد سے کارکن گھر بیٹھ جاتے ہیں یا زیادہ شدت سے باہر نکل آتے ہیں۔ یہ 30 نومبر کا دن کہیں کسی بڑے واقعہ کی بنیاد نہ بن جائے۔ سیاسی کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اگر ایک گھنٹہ پہلے بھی جلسے کی کسی اور جگہ منتقلی کا اعلان کیا گیا تولوگ  فوراً اُدھر کا رخ کر لیں گے۔ پھر انتظامیہ کیسے روکے گی اور اگر راستوں میں روکا گیا تو کیا جگہ جگہ تصادم کے خطرات پیدا نہیں ہو جائیں گے۔ چار دیواری میں جلسہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے مفاد میں ہے، چونکہ اس جلسے میں شرکت کے لئے سیاسی جماعتوں کی بڑی شخصیات آ رہی ہیں، جنہیں سیکیورٹی کے خطرات بھی لاحق ہیں،اس لئے انہیں عام سڑکوں پر خطاب پر مجبور کرنا خطرے سے خالی نہیں، خود پولیس اور انتظامیہ کے لئے بھی تقریباً ناممکن ہے کہ وہ جنوبی پنجاب سے ملتان آنے والے قافلوں کو بھی روکے اور شہر کے اندر جو ریلیاں نکلیں ان کا بھی توڑ کرے۔ اب تک کی صورتِ حال سے یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں میں خاصا جوش و خروش موجود ہے، جسے میرے نزدیک خود حکومتی شخصیات کے الٹے سیدھے، طاقت کے استعمال کی دھمکیوں پر مبنی بیانات نے پروان چڑھایا ہے، رہی سہی کسر انتظامیہ اور پولیس کے اقدامات نے پوری کر دی ہے۔ میں نے اس شہر میں بہت کچھ ہوتے دیکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اندرون شہر میں آج بھی مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کی اکثریت ہے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کے جیالے بھی کم نہیں، پچھلے دو چار دنوں میں جو کچھ ہوا ہے، اس کی وجہ سے ان سیاسی جماعتوں کے وہ کارکن بھی جو خاموش بیٹھے تھے میدان میں نکل آئے ہیں۔ پکڑ دھکڑ اس پیمانے پر کی گئی ہے جیسے حکومت آخری دنوں میں کرتی ہے۔ ایک جلسہ جو حکومت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا تھا، حکومت کے گلے میں ہڈی بن کر پھنس گیا۔ جسے نہ اُگلا جا سکتا ہے اور نہ نگلا،

میں اتوار کی صبح حالات کا جائزہ لینے قلعہ کہنہ قاسم باغ گیا، منظر ایسا تھا کہ جیسے قلعہ کہنہ قاسم باغ نہیں میں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کے باہر کہیں کھڑا ہوں۔ کنٹینرز سے بھاری پولیس نفری، بکتر بند گاڑیاں، آنسو گیس اور واٹر کینن پھینکنے والی گاڑیوں کی موجودگی اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ حکومت قلعہ کہنہ قاسم باغ میں کسی قیمت پر جلسہ نہیں کرنے دے گی۔ قلعہ کہنہ کے گیٹ سے باہر آئیں تو نیچے گھنٹہ گھر تک ایک وسیع و عریض کھلی جگہ  نظر آتی ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ قلعہ کہنہ قاسم باغ میں میدان نہ لگانے دیا گیا تو چوک گھنٹہ گھر میں لگے گا۔ یہ کئی حوالوں سے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اول یہ کہ اس جگہ کورونا سے بچاؤ کی کوئی تدبیر نہیں کی جا سکتی، دوم یہ کہ یہاں سیکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے جا سکتے اور تیسرا مریم نواز اور آصفہ بھٹو کو یہاں کسی سٹیج تک بحفاظت پہنچنا ایک بڑا دشوار اور رسکی کام ہو گا۔ اگر وہ اپنی گاڑیوں میں کھڑی  ہو کر خطاب کرتی ہیں تو پھر بھی خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میری پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے چند رہنماؤں سے بات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم ایک مخصوص سٹیڈیم میں جلسہ کرنا چاہتے ہیں اگر نہ کرنے دیا گیا تو ہمارا احتجاج جلسے کی بجائے ریلی کی شکل اختیار کرے گا اور پورا شہر جام ہو جائے گا، جگہ جگہ جلسے ہوں گے اور یہ درحقیقت اس لانگ مارچ کی مشق ہو گی،جو لاہور جلسے کے بعد کیا جائے گا۔ بہرحال ہم ملتانیوں کی دعا یہی ہے کہ آج کا دن خیریت سے گزر جائے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment