Home » آتی ہے اُردو زباں آتے آتے

آتی ہے اُردو زباں آتے آتے

by ONENEWS


آتی ہے اُردو زباں آتے آتے

جمعہ کی صبح کا آغاز تھا تو خوشگوار، لیکن ڈاکٹر ساجد علی کے ایک سوال نے چونکا کے رکھ دیا۔ فیس بُک پر میرے ایک اقتباس پہ انہوں نے لکھا: ”بہت خوبصورت تحریر۔ یہ بتائیے کہ یہ نکتہء آغاز ہے یا نقطہء آغاز؟“ جواب تھا: ”کوشش کی مگر سمجھ میں نہیں آیا۔ اس لیے زبان کی صحت کو اپنی سہولت پہ قربان کر دیا ہے“۔ ساجد علی فلسفہ کے استاد ہیں اور اُن کے نزدیک دلیل ہی دانش کی اکائی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے عہد میں استدلال کے نام پہ کج بحثی کی جو نئی شکلیں ایجاد ہو گئی ہیں، ڈاکٹر صاحب کو انہیں کام میں لاتے کبھی نہیں دیکھا۔ جدید دلائل کا مقصد شاید یہی ہوتا ہے کہ بس دوسرے فریق کو چُپ کرا دیا جائے۔ ڈاکٹر ساجد کو اِس بچگانہ پوائنٹ اسکورنگ میں دلچسپی نہیں۔ سو، وہ مُسکرا کر وقتی طور پہ خاموش ہو گئے اور میرے لیے اپنی ہی ٹیم کے خلاف مسلسل پینلٹی اسٹروک لگاتے جانے کا راستہ کھُل گیا۔

زبان کے میچ میں پہلی فری ہِٹ اُس وقت ملی جب آپ کا یہ کالم نویس اللہ کے حکم سے چوتھی جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمارے پڑوسی اور ناصر کاظمی کے ہم عصر خواجہ شاہد نصیر مجھے اور چھوٹے بھائی کو پہلی بار مشاعرہ ’دکھانے‘ لے گئے۔ واہ کی کنٹونمنٹ لائبریری میں اِس کا اہتمام ادبی تنظیم ’فانوس‘ نے کیا جس کے بانی صدر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شکیل بدایونی کے ہم مکتب راز مراد آبادی تھے اور سیکرٹری شاہد نصیر۔ اُس شام مقامی شعراء میں ظفر ابن متین، نظیر اختر، الیاس صدا، نسیم قریشی اور علی مطہر اشعر کے علاوہ منفرد نغز گو نذیر شیخ کو قریب سے دیکھا۔ البتہ سبط علی صبا، حسن ناصر، سجاد بابر، حلیم قریشی، شفیع ضامن اور منور عزیز اِ س کے کچھ عرصہ بعد مقبولیت کی منزل کو پہنچے۔ مشاعرے میں زبان کا سب سے بڑا مسئلہ چاچا جی نصیر کی اناؤنسمنٹ تھی جو شاعر کا نام لے کر کہتے ”اب مَیں جناب ظہیر رام پوری سے درخواست کروں گا کہ اپنے کلام سے نوازیں“۔۔۔ اور مَیں سوچنے لگتا کہ چاچا جی کو اردو نہیں آتی۔ ”کروں گا‘‘ کیا ہوا؟ ”کرتا ہوں‘‘ کہنا چاہیے تھا۔

شدید بے چینی کے عالم میں گھر پہنچتے ہی مَیں نے یہ بات پوچھ لی۔ چاچا شاہد نصیر نے خالہ جی امینہ کو متوجہ کیا اور مجھ سے سوال دوبارہ کرنے کی فرمائش کی۔ مَیں نے کہا کہ ”اب مَیں جناب ظہیر رام پوری سے درخواست کروں گا“۔۔۔ اِس کی جگہ ہونا چاہیے ”مَیں درخواست کرتا ہوں“۔۔۔ کیونکہ آپ تو اِس وقت درخواست کر رہے ہیں، آپ نے آئندہ تو نہیں کرنی۔ خواجہ شاہد نصیر میری بات سُن کر ڈاکٹر ساجد علی کی طرح مُسکرائے اور اطمینان سے کہنے لگے: ”آہو ایہہ وی کہن دا اِک طریقہ ہوندا اے“۔ مَیں نے بھی سوچا کہ ہوتا ہوگا۔ اِس طرح کا اگلا واقعہ ساتویں جماعت میں پیش آیا جب میرے کزن رؤف حسن نے ’سورج مشرق سے نکلتا ہے‘ کی انگریزی سمجھائی تھی۔ مَیں نے اردو کے زیرِ اثر کہا: ”فروم دی اِیسٹ“۔ ”سوہنا نئیں لگدا“۔ رؤف حسن نے برجستہ درستی کی۔

یہ تو ہوئی زبان کی روزمرہ، لیکن مصفا اردو تلفظ اور املا سے پالا مزید دو برس گزرنے پہ جماعت نہم میں پڑا۔ ہماری سالانہ ڈیبیٹ تو خیر اردو کے استاد مولانا بشیر احمد صمصام کے تربیتی نظام کا صرف ایک پہلو تھی۔ وگرنہ لیتھو پہ چھپنے والے اسکول میگزین کی پروف ریڈنگ کے لیے سولہ سولہ صفحات کی کتابت شدہ کاپیاں میز پہ بچھا کر ہماری مجلسِ ادارت کو سوفٹ پنسل سے غلطیوں کو نشان زد کرنا انہوں نے ہی سکھایا۔ خود اصل مسودہ پڑھتے جاتے اور دو اسٹوڈنٹ ایڈ یٹرز میں سے کوئی ایک کاتب کے لکھے ہوئے پیلے کاغذوں پر مطلوبہ جگہ پہ نہایت نفاست سے دائرہ بناتا اور لمبی لکیر کھینچ کر صفحہ کے دائیں یا بائیں حاشیے میں تصحیح شدہ لفظ لکھ دیتا۔ بیچ بیچ میں صمصام صاحب زمیندارہ ہائی اسکول گجرات میں اپنے شاگردوں ریاض بٹالوی، حفیظ تائب اور بشیر منذر کا ذکر بھی کرتے جنہوں نے 1960ء کی دہائی تک صحافت و ادب کے شعبوں میں شہرت حاصل کر لی تھی۔ ساتھ ہی پروف کی کاپی کی طرف اشارہ کرکے کہتے: ”ابھی سیکھ لو، بخدا کالج میں کوئی نہیں سکھائے گا“۔

پروف ریڈنگ کے میچ میں چائے کا وقفہ گزر جانے پہ ہماری بولنگ کرِیز بدل کر کلب اینڈ کی بجائے چرچ اینڈ سے شروع ہو جاتی۔ یعنی مسودہ پڑھنا اب کسی اسٹوڈنٹ ایڈیٹر کے سپرد جبکہ ادارتی پنسل صمصام صاحب کے ہاتھ میں۔ یہ زیادہ مشکل مرحلہ تھا، اس لیے کہ آپ نے کہا ”ایِوان“ اور ایک پاٹدار آواز گونجی: ”ای وان“ نہیں ”اَے وان“۔ اسی طرح اضافت کی غلطی ناقابلِ برداشت تھی، ساکن اور متحرک کا فرق بھی ہمہ وقت پیشِ نظر رہتا۔ ایک موقع پر کسی نے پنجابی عادت کے مطابق بادشاہ کو ’بادچھا‘ کہہ دیا۔ ”ابے، سِکھ ہے؟“ طنز کے تِیر سے روح کانپ گئی۔ ایک روز ایک لڑکا ذرا دیر سے آیا اور اجازت مانگنے لگا: ”مئے آئی کم اِن، سر؟“ صمصام صاحب نے کہا: ”مَیں کونسا مضمون پڑھاتا ہوں؟“ ”جی اردو“۔ ”تو اردو میں کیوں نہیں پوچھتے؟“ لڑکے نے کہا:”کیا مَیں اندر آ سکتا ہوں؟“ ”تو ’سر‘ کہاں گیا؟“ ”جناب، کیا مَیں اندر آ سکتا ہوں؟“ ابکے نہایت اطمینان سے جواب دیا ”ہاں، آؤ“۔ اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گئے۔

نکتہء آغاز اور نقطہء آغاز پر غور کرتے ہوئے مولانا بشیر احمد صمصام اِس لیے بھی شدت سے یاد آئے کہ مَیں اِن دنوں اپنے ایک تازہ نثری مجموعے کی پروف ریڈنگ میں الجھا ہوا ہوں۔ الجھاؤ سے کچھ لوگ یہ مراد لیں گے کہ ’نایاب ہیں ہم‘ کے نام سے طویل شخصی خاکوں پر مشتمل اِس زیرِ طبع کتاب میں شاید حقائق کی غلطیاں زیادہ ہیں جن کی اصلاح ڈھنگ سے ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی بڑے آدمی کے بارے میں کوئی سخن گسترانہ بات قلم سے نکل گئی ہو جس پر قانونی اصطلاح میں ’ازالہء حیثیت عرفی‘ کا مقدمہ دائر ہو سکتا ہے۔ ایک خفیف سا امکان یہ بھی ظاہر کیا جائے گا کہ صاحب ِ کتاب خود اپنے اسلوبِ نگارش سے مطمئن نہیں اور چاہتا ہے کہ پیسے لے کر تحقیقی مقالوں کی اردو انگریزی درست کرنے والا کوئی ریٹائرڈ پروفیسر مواد کے ساختیاتی ڈھانچے، ذیلی عنوانات کی ترتیب اور عبارت کی روزمرہ کو بہتر بنا دے۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ تینوں اندازے غلط ہیں۔ تو پھر مسئلہ ہے کیا؟

مسئلہ۔۔۔ میرا مسئلہ یہ شرمناک انکشاف ہے کہ مجھے اردو کے اسپیلنگ نہیں آتے۔ کیا مطلب؟ مطلب یہ کہ عام بول چال کے الفاظ و تراکیب آسانی سے لِکھ لیتا ہوں۔بچپن میں قرآنی قاعدہ توجہ سے پڑھا تھا، اِس لیے بظاہر مشابہ آوازیں رکھنے والے الگ الگ حروف کی پہچان نہیں بھولی۔ حرکت و سکون کا بھی پتا ہے۔ پھر بھی کوئی چکر ہے، میرے ساتھ۔ اور چکر کھُل کر بتا دیا تو قوی امکان ہے کہ آج کل کے سوشل میڈیا رجحان کے مطابق ساری بات ہنسی میں اڑا دی جائے گی۔ صرف ہنسی نہیں، لاہوری الاہمے اور فیصل آبادی جگتیں بھی کہ یہ ہیں آج کل کے لکھاری اور صحافت کے اُستاد۔ میرے بعض احباب نکتہ چینی میں وزن پیدا کرنے کے لیے خود کو غصہ چڑھا لیں گے، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انہیں کوئی بھی سنجیدہ بات سُننی نہیں پڑتی۔ دعائیہ ردِ عمل کی امید فقط اپنے یونیورسٹی کے شاگردوں سے ہو سکتی ہے کہ یااللہ، شاہد صاحب کی صحت ٹھیک نہیں رہتی اِنہیں کورونا سے بچا۔

خود شاہد صاحب اِس سوچ میں ہیں کہ جن لفظوں کا امالہ کرنا استادِ محترم نے سکھایا تھا، وہ اپنے بس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ”وہ قلعہ میں رہتا ہے“۔ سمجھایا یہ گیا تھا کہ اِسے ’قلعہ‘ لکھیں اور ’قلعے‘ پڑھیں۔ لِکھ تو دیا، لیکن اِس ’مسئلہ‘ کاکیا حل کہ پڑھنے والا پڑھتے ہوئے ’ے‘ کی آواز نکالے یا نہ نکالے۔ چونکہ لکھاری کا فریضہ (حقیقی یا خیالی) آئندہ نسلوں کی تعلیم و تربیت بھی ہے، اِس لیے پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ سے وابستہ ایک عزیزہ سے بھی رہنمائی حاصل کی۔ انہوں نے صوتی امالہ کے ساتھ ساتھ حمزا کے استعمال سے گریز کا مشورہ بھی دیا کہ رواں عہد کی نصابی کتابوں میں یہی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ چنانچہ ’لیے‘، ’دیے‘، ’کیے‘ اور ’چاہیے‘ کی حد تک اپنے ہجوں کی اصلاح کر لی۔ پھر جرات کرکے بعض کتابوں میں ’لیجئے‘، ’کیجئے‘، ’دیجئے‘ کی نشاندہی کرنا چاہی۔ جواب ملا: ”بھائی جان، سب باتوں کا جواب تو ہمارے پاس نہیں۔ بس کوشش کر رہے ہیں“۔

یہ مان لینا چاہیے کہ روایت کے تسلسل کی طرح تبدیلی بھی زبان کے لئے حیات بخش عمل ہے۔ کئی لسانی اور غیر لسانی اسباب کے تحت لفظیات میں تغیر آتا ہے، تلفظ اور لہجہ بھی بدلتا ہے اور کبھی کبھار جملے کی ساخت بھی تبدیلی کا اثر قبول کر لیتی ہے۔ تو کیا ایک ترقی پذیر معاشرے میں انتظامی اقدامات لسانی ارتقا کو بے سمتی کا شکار ہونے سے بچا سکتے ہیں؟ جواب ضروری نہیں کہ ’ہاں‘ میں ہو، لیکن زبان و بیان کی اصلاح کے لئے جاری کئی تحریکیں ناآشنا منزلوں کی طرف سفر کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ بیرونی دنیا میں زبان کی درستی کا ایک مقبول معیار اہلِ زبان کے لسانی وجدانات ہوا کرتے ہیں۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ نئے زمانے کے ’کیوں کہ‘، ’چوں کہ‘ اور ’بل کہ‘ کے بارے میں آپ کا وجدان کیا کہتا ہے؟ مَیں جواب میں اپنے اُس شاگرد کا حوالہ دوں گا جس نے ہندی لفظ ہونے کے ناتے سے ’طوطا‘ کو ’ت‘ سے لکھنے پہ اصرار کیا۔ مَیں نے کہا تھا: ”لِکھ تو سکتے ہیں مگر اِس طرح طوطے کی ہریالی کم ہو جائے گی“۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment