Home » آتی سردیاں اور گیس کی قلت

آتی سردیاں اور گیس کی قلت

by ONENEWS

آتی سردیاں اور گیس کی قلت

گزشتہ بدھ کے روز وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آنے والے موسم سرما میں گیس کی قلت کا سامنا ہو گا اور یہ قلت 2021ء کے موسمِ سرما میں اور بھی شدید ہو جائے گی!…… اس برس کی سردیاں دور نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں وزیراعظم کی ’گیس خوشخبری‘ کا ثبوت ملنا شروع ہو جائے گا۔ کئی برسوں سے یہ ہو رہا ہے کہ پاکستان میں صرف دو موسم ہوتے ہیں، گرمیاں اور سردیاں۔ بہار اور خزاں کے موسم بھی کبھی ہوا کرتے تھے لیکن اب تو میں کئی برسوں سے لاہور میں دیکھ رہا ہوں کہ ائر کنڈیشنر بند ہوتے ہیں تو ہیٹر جلنے شروع ہو جاتے ہیں …… درمیان میں کبھی کبھار شائد ایک ہفتے کا وقفہ بھی آ جاتا ہے۔

اور یہ جو عمران خان نے گیس کی قلت کی وارننگ دی ہے تو یہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ 5،7برسوں سے لاہور میں گیس کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ کبھی کم کبھی زیادہ۔ آج بھی امراء کی آبادیوں میں کم اور غرباء کی آبادیوں میں زیادہ لوڈشیڈنگ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ تبدیلی لانے والی سرکار نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کی لوڈشیڈنگ ایک معمول بن چکی ہے۔ سردیوں کی آمد آمد ہوتی ہے تو میڈیا پر یہ مناظر دکھائے جانے شروع ہو جاتے ہیں کہ کوئی خاتون کچن میں کھڑی ہے، ہاتھ میں دیا سلائی کی ڈبیا ہے، بار بار دیا سلائی جلاتی ہے، گیس کے چولہے کے بٹن کو گھماتی ہے لیکن ”اس پر“ کچھ اثر نہیں ہوتا، وہ ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے اور اس کے شعلہ بداماں ہونے کی نوبت نہیں آتی۔ یہ مناظر ہر سال یکساں رہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ٹی وی چینل والوں کو نئے چولہوں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ پار سال کے سین اور اس سے بھی پار سال کے سین دکھا کر گیس کی قلت کے بصری مناظر کے ثبوت نذرِ ناظرین کر دیئے جاتے ہیں۔

وزیراعظم نے صوبہ وار گیس کی قلت کی پیشگوئی بھی کر دی ہے۔ فرمایا ہے کہ بلوچستان، سندھ، کے پی اور پنجاب میں بالترتیب گیس کی پروڈکشن کا گراف اوپر نیچے ہوگا۔ سندھ میں آنے والے ڈیڑھ برسوں میں، کے پی میں اڑھائی برسوں میں اور بلوچستان میں ساڑھے تین برسوں میں گیس کا بحران وہی ہوگا جو پنجاب میں ہونے کی ’امید‘ ہے…… لیکن سندھ اور کے پی کے دیہی علاقوں میں تو گزشتہ برسوں میں بھی 16،16اور 18،18 گھنٹے کی لگاتار لوڈشیڈنگ کی خبریں آتی رہی ہیں۔ کسی بھی نیوز چینل یا اخبار کی فائلوں کو ریورس موڈ میں ڈال کر دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم ویسے تو ریاستِ مدینہ کا حوالہ دینا نہیں بھولتے لیکن کبھی کبھی چین کی باری بھی آ جاتی ہے…… اس روز بھی فرمایا کہ ملک میں بحث و مباحثہ کا کلچر بڑی اچھی بات ہے۔ قومی مسائل پر اس کلچر کو فروغ دینا چاہیے، جیسا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کو یاد دلایا جا سکتا ہے کہ یہ مباحثہ تو کئی برسوں سے پاکستانی میڈیا کا طرۂ امتیاز ہے۔ ہم دو عشروں سے سلگتے ہوئے قومی مسائل پر دن رات مباحثے کئے جا رہے ہیں۔ لیکن ہنوز روزِ اول والا معاملہ ہے۔ اور الاّ ماشاء اللہ کیوں نہ ہو، زندہ اور بیدار قومیں یہی تو کرتی ہیں! تاہم مجھے اس بات پر قطعاً اعتبار نہیں کہ پاکستانی ایک بیدار قوم ہے۔ اگر ہوتی تو کیا ہماری اور چین کی تاریخِ پیدائش ایک نہیں؟ بلکہ ہم تو چین سے ایک برس بڑے ہیں۔ وہ چینی جن کو اقبال نے ’گراں خواب‘ کہا تھا، اگر وہ ہم سے عمر میں چھوٹے ہونے کے باوجود ”سنبھل“ گئے ہیں اور ہمالہ کے چشمے جو اس کے عقب میں تبت میں واقع ہیں، وہ بھی ابلنے لگے ہیں تو ہم کب ابلیں گے اور بیدار ہوں گے؟ میں قنوطی تو نہیں لیکن کبھی کبھی قنوطیت کا ایسا دورہ پڑتا ہے کہ کئی روز تک سنبھل نہیں پاتا…… اب گیس کی قلت کا ذکر ہو رہا ہے تو کیا ہمیں وہ عشرہ (1990ء کا) یاد نہیں جب ہم نئی کار خرید کر سیدھا گاڑیوں کی اس ورکشاپ کا رخ کیا کرتے تھے جہاں گیس کٹس (Gas Kits) لگائی جاتی تھیں۔خود میں نے بھی یہی کیا تھا اور 55کلو والا امپورٹڈ سلنڈر گاڑی میں فِٹ کروا کر اسے گھر لے گیا تھا……

اور اس کے بعد تو گویا گیس اسٹیشنوں کا میلہ لگ گیا۔ جی ٹی روڈ اور باقی تمام سڑکوں پر جگہ جگہ یہ اسٹیشن کھل گئے۔ ان کے مالک زیادہ تر اراکینِ اسمبلی ہوتے تھے یا وہ لوگ جن کو فوراً ہی لائسنس مل جاتا تھا۔ پشاور سے کراچی تک سینکڑوں گیس اسٹیشن کھل گئے۔ نہ صرف کاروں بلکہ بڑی بڑی بسوں میں بھی یہی گیس استعمال ہونے لگی۔ کیا ان ایام میں کسی نے سوچا کہ قومی مسائل پر کوئی بحث و مباحثہ بھی ہوتا ہے؟ کیا ہمارے پاس اتنی گیس تھی کہ ہم نے نہ صرف اپنی بیشتر روڈ ٹرانسپورٹ، پٹرول اور ڈیزل سے اٹھا کر گیس پر شفٹ کر دی بلکہ درجنوں صنعتوں کو بھی گیس کی سپلائی سے ’نہال“ کر دیا!…… پھر وہی ہونا تھا، جو ہوا۔ خبریں آنے لگیں کہ گیس کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

اس وقت جو بھی بندۂ خدا وزیراعظم تھا اس نے پاکستانیوں کو خبردار کر دیا کہ اگلے برس یا زیادہ سے زیادہ اس سے اگلے برس گیس کا بحران پیدا ہو جائے گا…… چنانچہ ایک ایک کرکے وہ سارے گیس اسٹیشن اسی تیز رفتاری سے بند ہو گئے جس سے کھلے تھے (بلکہ برسات کی کھمبیوں کی طرح اُگ آئے تھے) لیکن کیا ہم دیکھتے نہیں کہ یہ گیس آج بھی کراچی میں کھلے عام گیس اسٹیشنوں پر فروخت کی جا رہی ہے۔رکشا والے ہوں یا کار والے اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

اس کے علاوہ بڑی ’فراخ دلی‘ سے گیس کی چوری کا کلچر بھی رواج پا گیا۔ صرف وہ لوگ اس میں ملوث ہوئے جن کو یقین تھا کہ پکڑے گئے تو کوئی سزا نہیں ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ گیس بند کر دی جائے گی ناں۔…… اور وہ اس کے لئے تیار تھے۔ آج بھی گیس اور بجلی چوری ہو رہی ہے۔ زیرِ زمین گیس پائپ سے گیس چرائی جا رہی ہے اور واپڈا کی تاروں پر کنڈیاں ڈال کر بجلی کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا جا رہا ہے۔ اس چوری کی خبریں اور مناظر ہم آئے روز ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں۔ گردشی قرضوں کا واویلا مچایا جاتا ہے اور Line Losses کا رونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ اس صورتِ حال میں کس پر اعتبار کیا جائے؟ عمران خان محروم طبقات کی امید بن کر اقتدار میں آئے تھے لیکن آج بھی بقول اقبال وہی دیرینہ بیماری ہے اور وہی دل کی نامحکمی ہے۔ خان صاحب آبِ نشاط انگیز کی نوید بن کر آئے تھے لیکن دو برس سے زیادہ ہو چلے ابھی وہی ’دیرینہ بیماری‘ ہے اور ہم ہیں!

وزیراعظم گیس کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے چین کا حوالہ بھی دے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ چین میں قومی مسائل پر نقد و نظر کرنے کا ایک وسیع (Robust) کلچر موجود ہے۔ وہاں مباحثے ہوتے ہیں اور لانگ ٹرم اور شارت ٹرم حل ڈھونڈے جاتے ہیں۔ اگر شارت ٹرم پلاننگ ناکام ہوتی نظر آتی ہے تو لانگ ٹرم منصوبہ بندی کے اقدامات بروئے عمل لائے جاتے ہیں۔

میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ یہ حل صرف ان قوموں کو سزاوار ہیں جو بیدار ہوتی ہیں۔ ہم جیسی جنم جنم کی پوستی قوم کو کون جگائے؟ ہم تو صرف باتیں بنانے کے ماہر ہیں۔ عظیم منصوبے منظرِ عام پر لاتے ہیں لیکن ان کا حشر وہی ہوتا ہے جو پچھلے 73برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔

میں نے کسی کالم میں انتہائی قنوطیت اور وفورِ یاس سے گھبرا کر ایک مجنونانہ تجویز دی تھی کہ حکومت کو چاہیے کہ ایک ”وزیرِ مہنگائی“ بھی کابینہ میں شامل کرے۔ اس کے اختیارات وسیع اور اٹل ہوں اور پھر دیکھیں کہ چیزیں روز بروز مہنگی کیسے ہوتی ہیں۔ خان صاحب اگر چین کی مثال دے رہے ہیں تو وہاں بھی ایک ایسا وزیر ہے جو کرپشن اور مہنگائی کی نہ صرف نشان دہی کرتا ہے بلکہ کرپٹ اور گراں فروش تاجروں کو گرفتار کرکے الٹا لٹکا دیتا ہے…… کہا جاتا ہے کہ وہاں ہمارے ہاں کی طرح کی جمہوریت نہیں بلکہ ایک ”کنٹرولڈ آمریت“ ہے جو پاکستان میں نافذ نہیں کی جا سکتی……حضورِ والا! اگر یہ بات ہے تو پھر آپ بار بار چین کا حوالہ کیوں دیتے ہیں؟ چین کی مثال دینے کی کیا تُک ہے؟…… پاکستان کی بات کریں کہ جہاں اس کرپشن، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، لوٹ مار، بجلی اور گیس چوری کو ”جمہوریت کا حسن“ کہا جاتا ہے…… ہمارے ترانے میں بھی تو یہی کہا گیا ہے ناں:

مبارک ہو ملک کا ملک !!!

مبارک سر زمین !!!

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment