Home » آئی  جی سندھ انکوائری رپورٹ کاجائزہ اور مہنگائی

آئی  جی سندھ انکوائری رپورٹ کاجائزہ اور مہنگائی

by ONENEWS

آئی  جی سندھ، انکوائری رپورٹ کاجائزہ اور ”مہنگائی“

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا تو ہم نے یہی کہا تھا کہ فوج کا اپنا نظام احتساب ہے اور اس تحقیقات کا نتیجہ ضرور نکلے گا اور ایسا ہی ہوا کہ انکوائری بورڈ کی رپورٹ پر پہلی کارروائی ہو گئی۔ رینجرز اور آئی ایس آئی کے متعلقہ اہل کاروں کو ان کی حالیہ ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا اور اگلا مرحلہ جی ایچ کیو کے سپرد ہو گیا جو آرمی رولز (فوجی قواعد) کے مطابق جائزہ لے کر سزا بھی تجویز کر دے گا، اگرچہ آئی ایس پی آر کی طرف سے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ متعلقہ حکام یا اہل کاروں نے جذبات میں آکر یہ قدم اٹھایا تاہم اس سے دو ڈسپلنڈ فورسز میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ہمارے خیال میں اس مسئلہ کو اب یہیں چھوڑ دینا چاہئے اور جس طرح اس تحقیق کا انتظار کیا اسی طرح مزید صبر کریں ا ور اپنے اپنے ذاتی خیالات کو خود تک محدود کر لیں یہ افسوس کی بات ہے کہ ایک بہتر اقدام کے بعد بھی ہر کوئی اپنے مطلب کے مطابق اگلی بات کر رہا اور نتیجہ بھی اپنی پسند کا چاہتا ہے۔

اس سلسلے میں متعلقہ فریق بلاول بھٹو زرداری کا ردعمل ہی درست ہے۔ انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ وہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کو یقین تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کا کہا پورا ہوگا۔ یوں ان کی بات ہی درست ہے لیکن ہمارے سیاسی راہنماؤں نے بیان بازی کرہی دی ہے۔

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی راہنما شاہد خاقان عباسی نے انکوائری رپورٹ شائع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے وہ جانتے بھی ہیں کہ فوج کا انداز یہی ہوتاہے کہ نتیجے سے آگاہ کر دیا جاتا ہے، سو کر دیا گیا، حالانکہ بعض امور میں یہ بھی نہیں ہوتا متعدد ایسے امور ہیں، جن میں کسی بے ضابطگی کے باعث ڈسپلنری کارروائی ہوئی اور سزا بھی دی گئی لیکن آگاہ نہیں کیا گیا کہ یہ فوج کی اپنی مصلحت بھی ہے کہ ایک اہم اور حساس ادارے کے اراکین کی غلطیوں کو زیر بحث نہ لایا جائے ہمارے اور آپ کے نزدیک یہ درست نہ بھی ہو تو پھر بھی ہم یہی تجویز کریں گے کہ اسے زیادہ زیر بحث نہ لایا جائے اور متنازعہ صورت پیدا نہ کی جائے شاہد خاقان کو بھی مزید انتظار کرنا چاہئے۔

ہمیں تو دلچسپ مطالبہ وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر شپنگ علی زیدی کا لگا، جو ان پولیس افسروں کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں، جنہوں نے احتجاج کیا اور چھٹی کی درخواستیں دی تھیں شاید ان کا بڑا نشانہ انسپکٹر جنرل ہوں جنہوں نے پہلا احتجاج کیا، دوسرے افسروں نے تو ان کی پیروی کی تھی لیکن یہ حضرات یہ بھول گئے کہ فوجی تحقیقات کے نتیجے ہی میں یہ ثابت ہو گیا کہ جن حضرات نے الزام لگائے وہ درست ثابت ہوئے اور اب بڑا الزام یہ بھی ہے کہ خود محترم علی زیدی اور سندھ اسمبلی کے اراکین تحریک انصاف تھانے میں بیٹھ کر دباؤ ڈالتے رہے اور اس سارے عمل کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھیں۔ ان کو تو زیادہ خاموشی اختیار کرنا چاہئے تھی لیکن وہ اور ہی مطالبے کر رہے ہیں، ہم نے ابتدا ہی میں یہ عرض کیا کہ اس معاملے کو یہیں چھوڑ دینا چاہئے کہ یہ کسی کے لئے بھی بہتر نہیں لیکن یہ حضرات شاید خو د کو بھی سزا کے اہل جانتے ہیں اور تبھی مطالبے کر رہے ہیں یوں بھی اگر انکوائری رپورٹ سامنے آ جائے اور اس میں محترم گورنر سندھ کا کردار بھی سامنے آ گیا تو پھر ہمارے تحریک انصاف والے حضرات کیا کریں گے، یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی، جس میں صوبائی وزرا شامل ہیں ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر شبلی فراز اور علی زیدی کا اصرار ہی ہو تو پھر حکومت سندھ کو یہ تحقیقات مکمل کرنے سے کون روک سکے گا؟ اور موجودہ حالات میں اس کا نتیجہ واضح ہے۔ ہم نے تو شاہد خاقان عباسی کی درخواست مناسب نہیں جانی لیکن یہ رپورٹیں شائع ہوں گی تو پھر ”قصور وار“ خود کو کیا سزا دیں گے یا ان کے بارے میں جو رائے آئی اس کو تسلیم کریں گے۔ یہ نظم و ضبط کا معاملہ ہے اسے متنازعہ نہ ہی بنائیں تو بہتر ہے۔ سیاست کا کھیل سیاسی میدان ہی میں کھیلیں، فورسز کو تنگ نہ کریں پہلے بہت لوگ تنقید کرنے والے ہیں۔

گزشتہ روز ہی سے ہم نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے وزیر اعظم اور عالمی شہرت فاسٹ  باؤلر آل راؤنڈر، کپتان اور ورلڈ کپ کے فاتح کی خدمت میں عرض کریں گے کہ وہ اپنے مصاحبین کے امور پر فوری غور کریں کہ ان کی طرف سے مہنگائی کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا وہ ایک مذاق بن گیا ہے اس کے علاوہ دوسری بات جو انہوں نے جلسوں کے حوالوں سے کہی اس کی بھی تحقیق کرالیں، سوشل میڈیا پر ان کی طرف سے مراعات یافتہ ان کے دوست جو ویڈیو وائرل کر رہے ہیں ان میں ”آڈئنس“ (عوام) حالیہ جلسوں کی نہیں بلکہ ان کے حزب اختلاف کے دور والے جلسوں کی کلپنگ ہیں اور ان کے سامنے جو لوگ بیٹھے تھے ان کی تعداد ان کی سابقہ حقیقی حمایت کے مطابق نہیں تھی اس سلسلے میں مزید یہ بھی عرض کرنا ہے کہ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کو بھی وہ حضرات اچھے نہیں لگتے تھے۔ جو ان کو مشورے دیتے تھے کہ دوبارہ انتخابات یا اس سے بھی پہلے محدود نشستوں کے ضمنی انتخابات کا مطالبہ مان لیں، لیکن وہ بھی یہی کہتے کہ وہ اور ان کی جماعت عوام میں مقبول ہیں یہ کچھ غلط نہیں تھا تب بھی اور اب بھی وہ سب لوگ یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ اگر قائد عوام نئے انتخابات کا مطالبہ صوبائی انتخابات کے بائیکاٹ کے بعد بھی مان لیتے تو پھر بھی پیپلزپارٹی ہی اکثریت حاصل کرتی لیکن انہوں نے یہ سب نہ کیا کہ اقتدار چھوڑنا آسان نہیں ہوتا، ذوالفقار علی بھٹو 14 اپریل کو گورنر ہاؤس لاہور میں کارکنوں سے خطاب کے دوران ان کو قطعی پر امن رہنے اور جوابی جلوس اور مظاہرے نہ کرنے کا کہہ کر اور پھر 19 اپریل 77 کو ہی پریس کانفرنس میں اعلانات کر کے درحقیقت خود ہی اگلے مراحل کی راہ ہموار کر گئے تھے۔

حالانکہ باباء سوشلزم شیخ رشید اور ان کے ہمنوا حضرات نے تو نئے انتخابات پر زور دیا اور محترم ڈاکٹر مبشر نے رائے دی تھی کہ ایک بار پھر سب کچھ ”نیشنلائیز“ کر لیا جائے تاکہ تحریک کی پشت پناہی کرنے والوں کی ہمت ٹوٹ جائے لیکن بھٹو نے مولانا کوثر نیازی کی تجویز پر صاد کیا تھا اور نتیجہ سب کے علم میں ہے۔

آج صبح کا ہی ذکر ہے کہ کپتان کی طرف سے مہنگائی نہ ہونے کی بات پر رائے زنی ہو رہی تھی اور لوگ اشیاء خوردو نوش کے نام لے لے کر دام بتا رہے تھے اور دکھ کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک صاحب نے جب یہ کہا کہ لوئر مڈل کے حضرات تو دوپہر کا کھانا ترک کر چکے صرف ناشتے اور رات کے کھانے پر گزارہ ہے اگر کسی کو اعتبار نہیں تو دفاتر میں چیک کر لے کہ جو بابو دوپہر کا کھانا گھر سے لا کر دفتر میں کھاتے تھے۔ اب وہ کھانا لے کر نہیں آ رہے ان کا سوال تھا کہ اب یہ لوگ ناشتہ بھی ترک کر دیں گے تو کپتان کو یقین آئے گا کہ ”مہنگائی“ واقعی ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment