Home » آئی ایم ایف اور بارودی سرنگیں

آئی ایم ایف اور بارودی سرنگیں

by ONENEWS

آئی ایم ایف اور بارودی سرنگیں

صرف دو سو ارب روپے، ہاں جی صرف دو سو ارب روپے جنہیں عرفِ عام میں دو کھرب روپے بھی کہتے ہیں، عوام کی جیبوں سے نکالنے کے لئے بجلی ایک روپیہ پچانوے پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے فرمایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہمارے لئے جو بارودی سرنگیں بچھا گئی تھی، ہم اُن کی وجہ سے تباہی کا شکار ہیں۔ تحریک انصاف کے وزراء نے اپنی لغت بھی نئی بنا لی ہے۔ پہلے دور کے وزراء اگر پچھلی حکومت پر تنقید کرتے تو کہتے اُس کی خراب پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت ابتر ہے، مگر عمر ایوب چونکہ ایک فیلڈ مارشل دادا کے پوتے ہیں اِس لئے اصطلاحیں بھی جنگی استعمال کر رہے ہیں۔ وہ خود کو معصوم ثابت کرنے کے لئے سابق حکومت کو بارودی سرنگیں بچھا کر جانے کا الزام دے رہے ہیں،

کہہ یہ رہے ہیں کہ بجلی کے مہنگے معاہدوں اور استعمال نہ کرنے کے باوجود ادائیگی کرنے کی شقوں نے ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔سوال یہ ہے کہ  ان معاہدوں کی ذمہ داری پچھلی حکومتوں پرکیسے ڈالی جا سکتی ہے، یہ تو بے نظیر بھٹو دور میں کئے گئے اور ان معاہدوں کے باوجود عوام کو آج کی نسبت سستی بجلی مہیا ہوتی ر ہی۔ سر کلر ڈیٹ اُس وقت بھی بڑھتا تھا اور آج بھی بڑھ چکا ہے، مگر یہ کھربوں روپے کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنے کی بجائے اسے معاشی مہارت سے ٹال دیا جاتا تھا۔ جن بارودی سرنگوں کا وزیر موصوف ذکر کر رہے ہیں وہ تو مسلم لیگ(ن) کے دور میں بھی بچھی ہوئی تھیں، مگر اُن کی تباہی سے عوام کو بچانے کی ایک واضح حکمت ِ عملی بھی موجود تھی۔ اب تو معاملہ چوپٹ نظر آتا ہے، بارودی سرنگوں کا ذکر تو کیا جاتا ہے،اُن سے بچنے کی کوئی تدبیر اختیار نہیں کی جاتی۔

ابھی کچھ دن پہلے ہی عمر ایوب خان نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے وقت بھی یہی کہا تھا کہ سابق حکومت ہماری راہ میں بارودی سرنگیں بچھا گئی ہے۔ دُنیا بھر میں جنگی اصول یہی ہے کہ بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے، اُن پر سے گذرنے کی حماقت نہیں کی جاتی۔ یہاں تو بارودی سرنگوں سے بچنے کی بابت سو چا تک نہیں جا رہا۔انہیں تباہی پھیلانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ اب یہ تباہی پھیلانے کا عمل ہی ہے کہ غربت اور مفلسی میں ڈوبے ہوئے عوام پر اربوں روپے کا مزید بوجھ ڈال دیا جائے۔ بجلی اور گیس کے بل پہلے ہی عوام کی سر دردی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اُن کے کس بل نکالنے پر تلی ہوئی ہے۔

آخر تک کب یہ غریب کش پالیسی جاری رہے گی۔ یہی عمران خان اپوزیشن میں رہ کر بجلی کے مہنگے بلوں کو نذر آتش کیا کرتے تھے۔ آج اڑھائی سال میں کئی بار بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر چکے ہیں۔ بجلی اور پٹرول مہنگے ہو جائیں تو سمجھو تمام اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔ عوام کی اکثریت کے وسائل تو بڑھے نہیں،بلکہ الٹا کم ہوئے ہیں، ایسے میں وہ اس نئے بوجھ کو کیسے برداشت کر سکیں گے۔ اس پر حاکم ِ وقت کو سوچنا چاہئے،مگر اُسے اس معاملے پر سوچنے کی فرصت ہی کہاں ہے۔کہیں فارن فنڈنگ کیس،کہیں براڈ شیٹ اور کہیں پی ڈی ایم کی تحریک کے معاملات وزیراعظم کی ترجیح ہیں۔انہیں اِس بات سے زیادہ غرض نہیں کہ مہنگائی نے عوام کا کیا حال کر رکھا ہے، اس معاملے کو وہ وزیروں کی سطح کا معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

وزراء پچھلی حکومتوں کی بارودی سرنگوں کا تو ذکر کرتے ہیں،لیکن اُن بارودی سرنگوں کا نہیں کرتے جو آئی ایم ایف نے ہماری راہ میں بچھا رکھی ہیں۔ اُن میں اتنی جرأت نہیں قوم کو یہ بتائیں کہ  آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط لینے کے لئے اُس کی شرائط منظور کی جا رہی ہیں۔ جب سے یہ حکومت بنی ہے،آئی ایم ایف ہے کہ پاکستانی عوام سے انتقام ہی لئے جا رہا ہے۔ اس بات کا انتقام کہ انہوں نے ایسی حکومت کیوں منتخب کی جو یہ دعویٰ کرتی تھی، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی۔ جس نے ابتدائی چھ ماہ اسی ادھیڑ بن میں گذار دیئے اور جب معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا، پلے کچھ نہ رہا تو فیصلہ کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس کاسہ لے کر جانا چاہئے۔ ایسے حالات میں جب دینے والے کو معلوم ہو میرے سوا اب اس کا کوئی آسرا نہیں تو وہ اگلی پچھلی کسریں نکالنے کے لئے ایسی شرائط لگاتا ہے کہ سارے کس بل نکل جاتے ہیں۔

حکومت نے اصل بارودی سرنگ اُس وقت خود بچھائی،جب آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرضہ لینے کا معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا گیا، مگر یہ آہستہ آہستہ سامنے آ رہا ہے۔ پہلی بار یہ شرط بھی مانی گئی کہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جائیں گی اور یہ شرط بھی تسلیم کر لی کہ ہر سال گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے آئی ایم ایف کے مقاصد پورے کئے جائیں گے۔ہر قسم کی سبسڈی ختم کی جائے گی، حتیٰ کہ ہسپتالوں میں دی جانے والی مفت ادویات بھی بند کر دی جائیں گی۔یہ وہ حکومت ہے جس نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خود کشی کرنے کو اپنی ترجیح قرار دیا  تھا اب کوئی حکومت کو یہ دعویٰ یاد کرانے والا بھی نہیں۔

حکمران کی نیت اور ایمانداری پر کوئی شک نہ بھی ہو تو اُس کی اہلیت پر پھر بھی شک ہونے لگتا ہے، جب وہ بروقت اور درست فیصلے نہیں کرتا۔ اس بات کو آنکھیں بند کر کے کیسے مان لیں کہ سارا کِیا دھرا پچھلی حکومتوں کا ہے، پچھلی حکومتوں میں تو حالات اتنے بُرے نہیں تھے، بارودی سرنگیں اگر انہوں نے پچھائی تھیں تو کچھ اُن کے ادوار میں بھی پھٹ جاتیں۔ یہ تو مان لیا ہے پیارے کپتان نے کہ حکومت میں آنے سے پہلے انہیں تجربہ نہیں تھا۔ اب یہ بھی مان جائیں کچھ زمینی حقائق سے عاری دعوے بھی ایسے کئے تھے، جو اُن کے گلے پڑ گئے، جن میں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا دعویٰ  بھی شامل تھا۔اس پر بڑی دیر بعد یو ٹرن لیا کپتان نے۔ چین اور سعودی عرب سے مانگ تانگ کر بھی جب کام نہ چلا اور روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مذاق بن گئی، معیشت ہچکولے کھانے لگی تو آئی ایم ایف کی چوکھٹ ہی آخری سہارا رہ گئی۔ پھر اس ظالم آئی ایم ایف نے جو رگڑے لگائے اُس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعظم نے نئے سال کے آغاز پر کہا تھا اس برس عوام کو ریلیف ملے گا، یہ بہتری کا سال ہے، خوشحالی کا سال ہے۔ یہی بات انہوں نے2020ء کے آغاز پر بھی کہی تھی، سال کے پہلے ہی مہینے میں پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر کپتان نے واضح کر دیا ہے کہ اُن کے نزدیک ریلیف کا مطلب کیا ہے؟

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment